حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں تعلیم اور میڈیا پر سیمینار

16 مارچ 2010
حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان ایک اہم ادارہ ہے جو صحافیوں اور ابلاغ عامہ کے طلبہ کے لئے ہر قسم کے موضوعات پر سیمینارز اور وکشاپس کا اہتمام کرتا رہتا ہے اور ہر آنے والا کچھ نہ کچھ حاصل کرکے جاتا ہے۔ ابصار عبدالعلی اس ادارے کی بہتری کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کو ایک کمرے سے باہر نکال کر اسے اچھی جگہ پر لایا جائے اور اس کے ساتھ ایک ایسی لائبریری بھی ہو جس میں جدید سہولتوں کے ساتھ دنیا کے اہم دارالحکومتوں سے نکلنے والے اخبارات اور مجلات موجود ہوں جو صحافیوں اور صحافت کے طلبہ کو ایک نیا وژن عطا کریں۔ پیر کے روز ”فروغ تعلیم اور میڈیا کی ذمہ داریوں پر بہت بھرپور سیمینار منعقد ہوا جس میں ضیاءالرحمن امجد، شاہد وارثی، محمد زبیر سعید اور عنبرین فاطمہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کی اور مہمانان خصوصی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران اور ڈاکٹر حسن صہیب مراد جو چیئرمین ایسوسی ایشن فار اکیڈیمک کوالٹی(آفاق) ہیں۔ ابصار عبدالعلی نے تفصیل سے موضوع اور حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کا تعارف کرایا۔عنبرین فاطمہ نے اخبارات کے تعلیمی ایڈیشنوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تعلیمی ایڈیشن فروغ تعلیم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اس معاملہ میں نوائے وقت کی خدمات بہت اہم ہیں۔ تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں شائع ہونے سے طلبہ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ زبیر سعید نے کہا اس سال پہلی دفعہ نیشنل ٹیکسٹ بک اینڈ میٹریل پالیسی 2007ءکے تحت پاکستان کے طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی درسی کتب مطالعہ دستیاب ہوں گی۔ یہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کا منفرد منصوبہ ہے آئندہ چند سالوں میں ہمارا نصاب تعلیم بین الاقوامی معیار کا بن جائے گا۔
شاہد وارثی نے کہا امریکہ میں فروغ تعلیم میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ ساٹھ سے زیادہ ٹی وی چینلز اور 2471 ریڈیو چینلز تعلیم کو دن رات فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ میڈیا کو تعلیمی ہتھیار کے طور پر اپنایا جائے۔ شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی علم کی روشنی پھیلانے میں میڈیا سے موثر کام لیا جائے۔ ضیاءالرحمن امجد نے تفصیل سے ایجوکیشن ٹی وی کے تصور کو اجاگر کیا(ویسے حیرت ہے اب پی ٹی وی نے ایجوکیشن ٹی وی کو نظر انداز کر دیا ہے) پورا یورپ جہالت میں ڈوبا ہوا تھا اور اسلامی دنیا کے دانشور، سائنسدان دنیا پر چھائے ہوئے تھے لیکن اب معاملہ برعکس ہے، ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے بتایا آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے میڈیا راہنمائی کے فرائض انجام دے کم ازکم نیشنل نہیں تو پرونشنل ایجوکیشن کانفرنس کی جائے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے دریا کوزے میں بند کرتے ہوئے پاکستان کے تعلیمی بجٹ کا موازنہ دنیا کے دوسرے ممالک سے کیا جس سے معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان تعلیم کو کسی کھاتے میں شامل نہیں کرتی اور بجٹ پہلے سے بھی کم کر دیا ہے مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا”میاں شہباز شریف تعلیم کے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں سابقہ حکومت کی نسبت تعلیم کا بجٹ ساٹھ فیصد زیادہ کیا۔ طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی اور غریبوں کو وظیفے دینے کے لئے سالانہ دو ارب روپے مختص کئے۔