برطانیہ مسئلہ کشمیر پر کانفرنس بلائے‘ امریکی تسلط سے نجات کیلئے قوم پرست قیادت کی ضرورت ہے : لارڈ نذیر

16 مارچ 2010
لاہور (انٹرویو سلمان غنی) برطانوی ہاﺅس آف لارڈ کے رکن اور کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ کی کمیٹی کے چیئرمین لارڈ نذیر نے جنوبی ایشیا میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل کو قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کشمیر پر بین الاقوامی ثالثی کے حق میں ہوں برطانوی حکومت کو مسئلہ کشمیر پر کانفرنس کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس میں ہندوستان پاکستان اور کشمیر کی قیادت کو بٹھایا جائے جبکہ یورپی یونین کی سیاسی اور معاشی معاملات میں بڑھتی ہوئی اہمیت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے منسلک کرنا مغرب کی بہت بڑی زیادتی ہے برطانیہ میں دہشت گردی تامل ٹائیگر کے خودکش حملوں اور جاپان میں ہونے والے حملوں کو ان کے مذاہب سے کیوں منسلک نہیں کیا جاتا امریکہ اور یورپ افغان طالبان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں تو پاکستانی حکومت تحریک طالبان سے بات چیت کیوں نہیں کرسکتی۔ وہ گزشتہ روز لاہور میں سابق ضلعی ناظم میاں عامر محمود کی رہائش گاہ پر نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ لارڈ نذیر نے پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ حکومتوں کے روایتی روےہ سے عوام کے اندر مایوسی بڑھی ہے ملک مسائل کی آگ میں جل رہا ہے انقلاب کا انتظار کرنے کی بجائے حالات کو درست کیا جائے کیونکہ انقلاب کے بعد ایران 25 سال پیچھے چلا گیا ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں کے اندر تبدیلی کی تحریک موجود ہے دیکھنا یہ ہے کہ کون ان کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے غربت کے خاتمہ کے اعلانات کے باوجود غربت میں اضافہ ہو رہا ہے جو حکمرانوں اور سیاستدانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور ہرقبضہ گروپ تقویت پکڑ رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ خرابی حکومتی سطح پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم کی تبدیلی کیلئے ترکی میں تبدیلی کو فالو کیا جائے وہاں بھی جی ڈی پی 80 ارب ڈالر تھا لیکن اب یہ ساڑھے تین سو سے تجاوز کر رہا ہے وہاں بھی مسائل ہمارے والے تھے وہاں بھی عوام میں مایوسی تھی وہاں کا آئین بھی مبہم تھا وہاں کی آرمی بھی مداخلت کرتی رہتی تھی وہاں بھی قیادت ناکام تھی لیکن یکایک نوجوان لیڈر شپ آگے آئی‘ پالیسیوں کا رخ عام آدمی اور انکے مفادات کی طرف موڑتی ہے اسکے پاس ویژن کے ساتھ حوصلہ اور عزم بھی تھا اب وہاں کا یہ پلٹنی نظر آرہی ہے انہوں نے کہا کہ آج کے حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں لیڈر شپ کا فقدان ہے یہاں اب 80 اور 90 کی دہائی والی لیڈرشپ نہیں چلے گی اس وقت کی سیاست میں امریکہ افغانستان نے روس کو نکال رہا تھا اب وہ خود وہاں براجمان ہے حالات واقعات بدل رہے ہیں تو یہاں تبدیلی کوئی نہیں آرہی بدقسمتی دیکھیں کہ یہاں ڈرون حملے بھی ہو رہے ہیں سی آئی اے اور ایف بی آئی دندناتی نظر آتی ہے اور لیڈر شپ کہتی ہے کہ کسی کو اپنے مفادات پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے اگر پاکستان واقعتاً آزاد خودمختار ملک ہوتا تو یہاں ڈرون حملے نہ ہوتے۔ بیرونی ایجنسیاں یوں نہ دندناتی ہوتیں فیصلے خود کئے جاتے اگر بھٹوکے دور میں فیصلے وہ خود کرتے اور پارلیمنٹ فعال تھی تو آج کیوں نہیں آج کیوں سارے وفاقی محاذ پر سہمے کھڑے نظر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ یقینا حکومت مخلوط ہے سب کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے کم ازکم ڈیموکریسی پر تو اتفاق ہونا چاہئے۔ دیکھا جائے تو ان جماعتوں کے اندر بھی ڈیموکریسی نہیں تو پھر یہ ڈیموکریسی کو کیسے مضبوط کریں گے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد پر بننے والے ملک میں جمہوریت کا ایسا برا حال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ لارڈ نذیر نے حال ہی میں ہونے والے سیکرٹری خارجہ کی سطح پر پاکستان بھارت مذاکراتی عمل کے حوالہ سے کہا کہ یہ نتیجہ خیز تھے یا نہیں البتہ میں ذاتی طور پر متاثر ہوا ہوں سیکرٹری خارجہ کی جرات پر جنہوں نے دہلی کو یہ پیغام دیا ہے کہ بات کشمیر اور پانی کے بالاتر ہو کر نہیں ہوسکتی مجھے نہیں معلوم کہ حکومت کی پالیسی تھی یا نہیں البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی ضرور کی انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے رحجان کو اسلام یا مسلمانوں سے منسوب کرنا مغرب کی سراسر زیادتی ہے۔ کیا تامل ٹائیگر ....کیا برطانیہ کے انتہا پسندوں کو ان کے مذہب سے جوڑنا جائز ہے دراصل مغرب کا دوہرا معیار اور اسلام سے ان کا تعصب ہے کیا اس طرح وہ دہشت گردی پر قابو پا لیں گے اسلام دہشت گردی کے فروغ کا نہیں اس کے سدباب کا مذہب ہے یہ انتہا پسندی کو روکتا ہے پرامن بھائی چارہ کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب کو ٹارگٹ کرنا درست نہیں ہر مذہب کے ماننے والے اتنے برے ہوسکتے ہیں انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ امریکی تسلط سے نجات کیلئے قومی جذبہ کی حامل قیادت کی ضرورت ہے جن کی ترجیحات امریکی ایجنڈا کی بجائے پاکستانی ایجنڈا ہو جس پر اپنے اقتدار کے خوف کی بجائے اپنے ملک اور عوام کا درد ہو انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خطہ میں اپنے مفادات ہیں اسے تیل وسائل سے غرض ہے وہ سنٹرل ایشیا تک رسائی چاہتا ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ ہمارے کیا مفادات ہیں انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے وہ دلدل میں پھنس چکا ہے اگر وہ اس کیلئے افغان طالبان سے بات چیت کرسکتا ہے تو ہم تحریک طالبان کے ذمہ داران سے بات چیت کیوں نہیں کرسکتے ہمیں بھی بات چیت کرنی چاہئے طاقت قوت بمباری اور ڈرون حملوں سے مسائل حل ہوتے ہوئے تو بہت پہلے حل ہوچکے ہوتے ہر مسئلہ کا حل بندوق نہیں ہوتی انہوںنے مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیا کے مسائل کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا ہم برٹش پارلیمنٹ میں اس کیلئے کمیٹی بنا چکے ہیں ہم نے برطانوی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ کشیمرپر کانفرنس بلائے اور ہندوستان پاکستان اور کشمیریوں کو اکٹھے بٹھایا جائے ان میں ثالثی کاکردار ادا کرے ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ عراق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن جاتے ہیں تو انہیں کشمیر میں بھی بھجوایا جائے لائن آف کنٹرول پر ٹینشن کے خاتمہ کیلئے بھارتی افواج کو یہاں سے ہٹایا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ میں بین الاقوامی ثالثی کے حق میں ہوں کشمیریوں کا کیس بہت سٹرانگ ہے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...