بجلی کی طویل بندش، تربیلا میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر آگئی، 8پیداواری یونٹ بند

16 مارچ 2010
لاہور/ ننکانہ (نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران) کئی شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ 8 سے 18گھنٹے ہوگئی جس سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں جبکہ میٹرک کا امتحان دینے والے طلبا و طالبات کو دشواری کا سامنا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں رات کو مچھر نے نیند حرام کر دی۔ خشک سالی کے باعث منگلا کے بعد تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی اور اس کے 8بجلی پیداواری یونٹ بند ہو گئے جبکہ کراچی میں ماربل یونٹس کو بجلی کی فراہمی بند ہونے سے برآمدی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے اور چھوٹے کاروباری حضرات اور مزدور طبقہ بھی پریشان ہو گیا۔ پاکپتن اور کمالیہ میں مشتعل شہریوں نے مظاہرے کئے اور دھرنا بھی دیا۔ پیپکو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں3گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے۔ فورسڈ لوڈشیڈنگ کے تحت گرڈ سٹیشن بند کئے جا رہے ہیں ۔ بجلی کے نظام میں خسارہ3100 میگاواٹ تک جا پہنچاہے ۔ بجلی کا خسارہ پورا کرنے کےلئے شہروں اور دیہات میں 8 سے13 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔لاہور میں بجلی ہر 3 گھنٹے بعد ڈیڑھ گھنٹے اور دیہات میں مسلسل 6 چھ گھنٹے کے لئے بجلی بند کی گئی۔ باٹا پور،جلوموڑ، بھاگڑیاں، ٹھوکر نیاز بیگ میں بجلی مسلسل 5 پانچ گھنٹے کے لئے بند کی جارہی ہے‘ پوش علاقوں کو چھوڑ کر اقبال ٹاﺅن (گلشن بلاک، مہران، راوی، نیلم بلاک)، مصری شاہ، جوہرٹاﺅن، نواب ٹاﺅن، الحمد کالونی، ٹاﺅن شپ، مزنگ، شاہدرہ، یتیم خانہ، سمن آباد، جی ٹی روڈ، چودھری کالونی، مغل پورہ، بند روڈ سمیت دیگر میں بجلی کی بندش اور ٹرپنگ بھی جاری رہی۔ علاوہ ازیںپنڈی بھٹیاں اور گردونواح میں دن رات وقفہ وقفہ کے ساتھ طویل ترین گھنٹوں کی بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو اس حد تک پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ دکانداروں نے کہا ہے لوڈشیڈنگ کو ختم نہ کیا گیا تو وہ سڑکوں پر آکر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ نارنگ منڈی میں 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ ننکانہ صاحب اور گردونواح میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے سے بارہ گھنٹے پہنچ گیا۔ بچیانہ کے باسیوں نے اعلیٰ واپڈا حکام اور ارباب اختیار سے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے اور مچھروں کی افزائش نسل کے انسداد کیلئے سپرے کیا جائے۔