A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پاکستان‘ افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی نجی جاسوسی نیٹ ورک کا انکشاف

16 مارچ 2010
نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک اعلیٰ افسر کے پاکستان اور افغانستان میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کے ذریعے مشتبہ عسکریت پسندوں کو تلاش اور مارنے کیلئے نیٹ ورک قائم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے اپنے اعلیٰ عہدیدار مائیکل فرلانگ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اخبار کے مطابق فرلانگ پر اس نجی آپریشن کیلئے وہ رقم استعمال کرنے کا بھی الزام ہے جو افغان سماجی و قبائلی امور کی معلومات جمع کرنے کیلئے مختص تھی۔ اخبار کے مطابق نجی سکیورٹی کمپنیوں کے منتخب افراد کے ذریعے مشتبہ عسکریت پسندوں اور تربیتی کیمپوں کی معلومات امریکی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دی جاتی تھیں۔ جنہیں بعدازاں مہلک حملوں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس نیٹ ورک کی منظوری کس نے دی تھی اور کون اس کی نگرانی کرتا تھا۔ تاہم فرلانگ نے یہ نیٹ ورک غیرقانونی طور پر چلایا ہے کیونکہ فوج کو نجی افراد کے ذریعے انٹیلی جنس آپریشن کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک بُرا آئیڈیا ہے کہ فری لانسرز جنگی علاقے میں ”جیمز بانڈ“ بن کر گھومتے رہیں۔ بی بی سی کے مطابق فرلانگ نے ان نجی کمپنیوں سے افراد حاصل کئے تھے جو عام طور پر سابق سی آئی اے اہلکاروں اور کمانڈوز کو بھرتی کرتی ہیں۔ حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ نجی خفیہ آپریشن بند کر دیا گیا ہے اور فرلانگ کے خلاف فراڈ سمیت کئی الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق فرلانگ نے یہ کام امریکی فوج کے کہنے پر 2008ء میں شروع کیا تھا اور اس پر 2کروڑ 20لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔ زیادہ تر رقم ”انٹرنیشنل میڈیا وینچر“ نامی کمپنی کو دی گئی۔ یہ کمپنی خود کو تعلقات عامہ کی کمپنی ظاہر کرتی ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی فوج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ مطلوبہ طالبان کا کھوج لگانے کیلئے یہ طریقہ بہتر سمجھا گیا ہے۔ افغانستان میں فوجی ترجمان ایڈمرل گریگوری سمتھ نے بتایا کہ مائیکل فرلانگ سے ابھی تک ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا کوئی حساب نہیں ملا ہے۔ بی بی سی کے مطابق جنگ زدہ علاقوں میں امریکی فوج کیساتھ کام کرنے والی نجی کمپنیوں کے متعلق پھر سوالات اٹھے ہیں جن کے سابق کمانڈوز یا جاسوس اہلکار پیسہ بھی کماتے ہیں اور حکومتی سطح پر جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق کرائے کے جاسوس رابرٹ پیلٹن نے کہا کہ فرلانگ پروگرام کے تحت جاسوسوں کی فراہم کردہ معلومات پاکستان میں لوگوں کو قتل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ اس انکشاف نے وزیر داخلہ رحمن ملک کے دعوﺅں کی پھر تردید کر دی ہے کہ پاکستان میں کرائے کے جاسوس اور قاتل موجود نہیں ہیں۔