A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

دھماکوں میں مسلمان ملوث ہیں‘ کوئی غیر مسلم ایسی جرات نہیں کر سکتا : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

16 مارچ 2010
لاہور (وقائع نگار خصوصی+ آن لائن ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف نے پاکستان کے مختلف شہروں سے گرفتار ہونے والے مزید پانچ طالبان کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے اور ان سے غیر ملکی ایجنسیوں کو تفتیش کرنے سے روکنے کے لئے دائر درخواستوں پر قرار دیا ہے کہ ملک میں ہونے والے دھماکے مسلمان کر رہے ہیں کیونکہ کوئی غیر مسلم اتنی جرات نہیں کر سکتا البتہ اس میں پیسہ ہندوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اس ضمن میں مشاورت کے لئے وزارت دفاع سے رجوع کیا ہے لہٰذا مہلت دی جائے جس پر عدالت نے سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ درخواست گذار خالد خواجہ کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملکی ایجنسیوں نے پانچ مزید طالبان رہنماﺅں طیب آغا، حکیم الدین محسود، ملا طیب، موسی خان اور عبدالقیوم ذاکر کو گرفتار کیا ہے جبکہ ان گرفتار ہونے والے طالبان کو کسی غیر ملک کے حوالے کرنے اور ان سے غیر ملکی ایجنسیوں کے تفتیش کرنے کا امکان ہے لہٰذا عدالت اس کا نوٹس لے اور حکومت کو کسی بھی ایسے اقدام سے روکا جائے۔ مرکزی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاکستان نے کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں سے 5 طالبان رہنماﺅں کو گرفتار کیا ہے جن میں ملا عبدالغنی برادر‘ ملا عبدالسلام‘ مولوی کبیر‘ ملا محمد اور امیر معاویہ شامل ہیں لیکن خدشہ ہے کہ انہیں کسی اور ملک کے حوالے کر دیا جائے گا‘ ایسا کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ پاکستان کے شہریوں کو کسی بھی ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا لہٰذا عدالت اس کا نوٹس لے اور انہیں کسی اور ملک کے حوالے کرنے سے روکا جائے۔ آن لائن کے مطابق دوران سماعت درخواست گذار خالد خواجہ کے وکیل طارق اسد نے عدالت میں ملا کبیر کے ساتھ گرفتار دیگر گیارہ طالبان کے نام بھی پیش کئے اور استدعا کی کہ پہلے پانچ طالبان کی طرح ان کو بھی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہ کرنے کا حکم جاری کیا جائے جس پر چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ آپ ان سے بھی کہیں کہ یہ دھماکے بند کریں اس سے ہمارے ملک میں تباہی ہو رہی ہے جس پر طارق اسد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اب تک سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ طالبان نہیں بلکہ امریکی بلیک واٹر یہ کارروائیاں کرتی ہے جو ان مقاصد کیلئے کسی بھی ڈرائیور کو استعمال کرتی ہے ان کا کہنا تھا کہ بلیک واٹر کسی ڈرائیور یا اور کسی شخص کی خدمات حاصل کرتی ہے اور گاڑی میں دھماکہ خیز مواد یا بم رکھ کر کہا جاتا ہے کہ جائیں یہ فائل دے کر آئیں اور اس بہانے وہ اپنے مذموم کام میں کامیاب ہو جاتی ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دھماکے امریکی ایجنسیاں خاص طور پر بلیک واٹر کر رہی ہے۔