موت کی کوٹھڑی سے ایوان صدر پہنچا‘ کمزوریاں ہی میری طاقت ہے‘ موت سے نہیں ڈرتا : صدر زرداری

16 مارچ 2010
اسلام آباد (راشد نور + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں موت سے نہیں ڈرتا بلکہ موت کا انتظار کر رہا ہوں۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی صوفی ازم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختلافات کو صوفی ازم کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ بے نظیر شہید نے بھی کہا تھا کہ وہ موت سے نہیں ڈرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر شہید نے ہی سابق امریکی صدر کو اسامہ بن لادن کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ بے نظیر کو پاکستان آنے سے پہلے پتہ تھا کہ دہشت گرد اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ میری کمزوریاں ہی میری طاقت ہیں اسلئے موت سے نہیں ڈرتا اور اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں موت کی کوٹھڑی سے ایوان صدر پہنچا ہوں ہم بے نظیر شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے کی پیروی کر رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ صوفی ازم اور بےن المذاہب ےکجہتی پر توجہ دےنے کی ضرورت ہے۔ صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو ہر دور مےں سےاسی مقاصد اور جنگی ہتھےار کے طور پر استعمال کےا گےا ۔ آج بھی کچھ لوگ مذہب کو اپنے مقصد کے لےے استعمال کر رہے ہےں۔ مذہب کو بدنام کر رہے ہےں۔ بے گناہ شہرےوں کی جانےں لےنے والے کسی مذہب کے پےرو کار نہےں ہوتے۔ ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہےں ہوتا۔ صدر نے کہا کہ جو درد دےتا ہے وہ بہادر نہےں ۔ بہادر دراصل وہ ہے جو درد سہتا ہے شہےد بے نظےر بھٹو کا فلسفہ تھا کہ مےں موت سے نہےں ڈرتی بلکہ موت کے لےے زندہ ہوں۔ صدر آج بھی کچھ لوگ مذہب کو اپنے مقصد کے لےے استعمال کر رہے ہےں جس کے نتائج ہم بھگت رہے ہےں۔ ہمارے لےڈر شہےد ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظےر بھٹو کے نظرےات فکری طور پر صوفےائے کرام سے ہم آہنگ تھے ۔ ےہی فلفسہ ہمارے سےاسی نظرےات اور منشور کی بنےاد ہے۔ صوفےائے کرام کے نظرےات و افکار ہی ہمارے لےے رہنما اصول ہےں۔ میرے لیڈروں کے نظریات صوفیائے کرام کی تعلیمات سے ہم آہنگ تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم سر دار آصف احمد علی نے کہا کہ صوفیائے کرام کا مسلک تبلیغ دین نہیں بلکہ احترام انسانیت اور حب انسانیت کا پر چار ہے۔ اسلام امن کا دین ہے اسلام کے نام پر دہشت گردی کر نے والے مسلمان ہیں نہ انسان،اکادمی ادبیات کے چیئر مین فخر زمان نے کہا کہ ہمارے نظریے کی بنیاد انسانیت محبت اور امن پر ہو نی چاہیے۔ کسی بھی معاشرے میں قانون کی سر بلندی انسانی حقوق کی عملداری اور احترام آدمیت کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔یہی صوفیائے کرام کی تعلیم اور مسلک رہا ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے صوفیا کرام کی تعلیمات کے پر چار کو عالمی امن کے لئے لازم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صوفی ازم کے پیروکار کسی بھی خطے ملک یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ امن و آشتی کے سفیر ہوتے ہیں۔کانفرنس میں پچاس ممالک سے دو سو مندوبین جبکہ پاکستان سے ڈھائی سو مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر رائٹرز فیڈریشن سویڈن کے سابق صدر اور نوبل انعام یافتہ سکالر پیٹر کورمین نے کہا کہ رائٹرز کا کردار کیا ہونا چاہئے ہمیں اس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاستدان نہیں ہیں لیکن اپنی سوچ اور فکر رکھتے ہیں جو ہمیشہ مثبت رہی ہے۔ جرمنی کی رائٹر سکائی باک نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے پریس رائٹرز کا حق ہے۔ تقریب کے بعد صدر آصف علی زرداری ادیبوں میں گھل مل گئے اور ان کی خیر و عافیت معلوم کرتے رہے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی اور اس کی نشست نیشنل لائبریری آڈیٹوریم اسلام آباد میں منعقد ہو گی۔ پروگرام کے اختتام پر عارفانہ کلام پیش کیا جائے گا۔