حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو اقتدار حاصل کرنے کےلئے استعمال کیا: حافظ حسین احمد

16 مارچ 2010
لندن (آصف محمود سے) جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت جو فارمولا پیش کیا گیا تھا اس پر عملدرآمد ہوتا تو آج کشمیر کا کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشمیریوں کو 1947ءمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق مل جاتا تو آج ایک لاکھ کشمیریوں کو قربانیاں پیش نہ کرنا پڑتیں۔ انہوں نے کہا بھارت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں‘ پاکستان کے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو محض اپنی سیاست اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا۔ کشمیر پر کوئی ٹھوس پالیسی اور حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں اکثریت چاہئے مگر گلگت بلتستان کو کسی مینڈیٹ کے بغیر ہی صوبہ بنایا جاتا ہے‘ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر محمد غالب نے کہا کشمیری عوام کو پاکستان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں‘ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی کارکردگی ابھی تک سامنے نہیں آئی‘ محمد غالب نے کہا پاکستان کی کشمیر پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت نہیں۔ تقریب سے تحریک کشمیر برطانیہ کے جنرل سیکرٹری مفتی عبدالمجید ندیم‘ پاکستان رابطہ کونسل برطانیہ کے چیئرمین مفتی فاروق علوی‘ کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی کے سرپرست اعلیٰ مولانا بوستان القادری اور تحریک کشمیر برطانیہ کے سینئر نائب صدر چودھری محمد شریف نے بھی خطاب کیا۔