قائمہ کمیٹی کا فاٹا کیلئے دئیے جانیوالے فنڈز میں خوردبرد کا سخت نوٹس

16 مارچ 2010
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستیں و سرحدی امور ( سیفران ) نے ڈونرز کی جانب سے فاٹا کی ترقی و تعمیر کے لیے دیئے جانے والے فنڈز میں خوردبرد کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو ہدایات دیں ہیں کہ رقوم کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے اور اس میں اراکین پارلیمنٹ کو بھی شامل کیاجائے جبکہ فاٹا سیکرٹریٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈونر براہ راست این جی اوز کو فنڈ جاری کرتے ہیں جس پر کمیٹی نے ڈونرز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات جاننے کے لیے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری اقتصادی امور سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری قانون کو طلب کرلیا گزشتہ روز چیئرمین کمیٹی ساجد حسین طوری کی صدارت میں منعقد اجلاس میں فاٹا سیکرٹریٹ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ فاٹا میں بین الاقوامی ڈونرز نے اربوں روپے کی لاگت سے سات سو سے زائد چھوٹے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر سیفران نجم الدین نے کہا کہ فاٹا میں تین سو ملین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں مگر زمین پر حقائق نظر نہیں آرہے اراکین کمیٹی نے امداد این جی اوز کو جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این جی او اپنی من مانیاں کررہی ہیں۔