بھارتی آبی جارحیت نہ روکی گئی تو ہماری زراعت معیشت اور آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا : چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل

16 مارچ 2010
لاہور (اے پی پی ) سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈی نیٹر حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا ہے کہ محض بھارتی آبی جارحیت کے باعث ملک میں پانی اور توانائی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے جس کے باعث یہاں دو کروڑ 60 لاکھ ایکڑ زرخیز اراضی بنجر ہو رہی ہے۔ صرف بگلیہار ڈیم پر دریائے چناب کی بندش سے پاکستان کو سالانہ 180 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیم کئی دنوں سے ڈیڈلیول پر ہیں۔ صرف پانی کا اخراج روک کر ڈیموں کو زندہ رکھا جارہا ہے اگر آبپاشی اور بجلی کی ضروریات کے مطابق پانی کا اخراج جاری رکھا جاتا تو دو ماہ قبل دونوں ڈیم خشک ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے 60 سے 70 فیصد ملیں اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ چار لاکھ سے زائد محنت کش بے روزگاری کا شکار ہیں۔ 80 فیصد نہروں میں ریت اڑ رہی ہے۔ اگر ہنگامی بنیاد پر بھارت کی اس آبی جارحیت کو نہ روکا گیا تو نہ زراعت رہے گی نہ معیشت اور نہ ہی آزادی ۔ ان دنوں جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں پینے کیلئے پانی میسر نہیں۔ وہاں 80 روپے میں پانی کا ڈرم فروخت ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ دنوں بھارت کے سیکرٹری داخلہ نے جو کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدہ کے تحت طے شدہ معاہدے سے زیادہ پانی حاصل کر رہا ہے۔ یہ بھارت کا سو فیصد جھوٹ ہے نیز بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنیوالے دریاﺅں پر 60 سے زائد غیر قانونی زیر تعمیر ڈیموں میں سے کسی ڈیم کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حالانکہ سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل(7) میں یہ واضح کہا گیا ہے کہ اگر بھارت مغربی دریاﺅں پر کوئی ہائیڈل پاور پراجیکٹ تعمیر کرنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان کو اس تعمیر کے ڈیزائن سے متعلق پیشگی اطلاع دے۔ لہذا وہ آرٹیکل 3 کے تحت دریائے چناب جہلم اور سندھ پر قطعاً کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا۔ انڈس واٹر ٹریٹی میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ بھارت ان دریاﺅں پر کوئی سٹوریج ڈیم بنا سکتا ہے۔ وہ بہتے پانی پر ہائیڈرل پاور پراجیکٹ لگا سکتا ہے لیکن پانی میں قطعاً رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا۔