میرے پاس اقتدار میں آنے کا کوئی جواز نہیں تھا: مشرف کا اعتراف

16 مارچ 2010
واشنگٹن (ایجنسیاں) سابق صدر پرویز مشرف نے الزام عائد کیا ہے کہ نواز شریف ”کلوزٹو طالبان“ یا قریباً طالبان جیسے ہی ہیں اور وہ پاکستان کےلئے”بڑی تباہی کا باعث بنیں گے‘ بے نظیر بھٹو نے الیکشن سے قبل پاکستان آ کر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی‘ سیاست میں واپسی کےلئے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے اسکی جماعت رجسٹر ہو چکی ہے الزامات برائے الزامات کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں ان کے القاعدہ کے ہاتھوں میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سیٹل میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اس سوال کے جواب میں کہ کیا آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے کوئی پارٹی رجسٹرڈ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہوئی ہے۔اگر پاکستان کے لوگ چاہتے ہی کہ میںآل پاکستان مسلم لیگ کی لیڈر شپ سنبھالوں تو میں ضرور سنبھالوں گا تاہم انہیں پاکستان میں رائج الزامات برائے الزامات کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں۔بھارت پاکستان کے مختلف علاقوں خاص طور پر بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ پاکستان اور بھارت جوہری طاقتیں ہیں‘ بقائے امن کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو لازمی طور پر روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ وہ میڈیا کو انٹرویو نہیں دیتے رہے لیکن وہ جلد دوبارہ میڈیا سے بات چیت شروع کریں گے۔ بےنظیر بھٹو نے الیکشن سے قبل پاکستان آ کر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔بی بی نے اپنے خلاف کیس ختم کرنے اور تیسری دفعہ وزیر اعظم بننے پر لگی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جواب میں انہوں نے الیکشن کے خاتمے تک پاکستان سے باہر رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ آج پاکستان میں جو سیاستدان این آر او کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، وہی اس وقت اس کے حق میں تھے۔ فرینڈز آف پاکستان فرسٹ نامی تنظیم کی طرف سے مشرف کو دیے گئے عشائیے میں تین سو کے قریب افراد شریک تھے۔عشائیے میں انہوں نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کے دور میں پاکستان ترقی کی راہوں پر گامزن تھا۔ البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان کے پاس اقتدار میں آنے کا کوئی جواز نہیں تھا اور عالمی اور قومی سطح پر”لوگ مجھے ڈکٹیٹر سمجھتے تھے“۔ اب مجھے اگر کچھ کرنا ہے تو مجھے بھاری اکثریت سے منتخب ہونا ہوگا۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بد عنوانی کا ذکر کرتے ہوئے مشرف نے کہا کہ میں بہت فخر سے یہ کہتا ہوں کہ میری حکومت اور میری کابینہ کے وزراءمیں کوئی کرپشن نہیں تھی۔انہوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ فوج میں بد عنوانی سرایت کر گئی ہے۔ اس ہوٹل کے باہر جہاں مشرف مدعو تھے، پاکستانیوں کا ایک گروہ ان کے خلاف مظاہرہ کر رہا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف ہیں انہیں سیٹل میں خوش آمدید نہیں کہنا چاہتے۔ مشرف نے وضاحت کی ہے کہ سابق امریکی صدر بش کے مطالبے کے سامنے انہوں نے فوری ہتھیار نہیں پھینکے تھے‘ اس حوالے سے مذاکرات میں پانچ سے چھ روز لگے‘ امریکہ کو ہر ایک چیز نہیں دی گئی جس کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا جیسا کہ انہیں پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی نہیں دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق مشرف نے اپنی سیاسی جماعت میں شمولیت کی دعوت کیلئے مسلم لیگ ہم خیال سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف نے ہم خیال گروپ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک دوست کے ذریعے ان کی پارٹی قیادت سے ایک بار پھر رابطہ کیا اور ان کو دعوت دی کہ وہ میری نئی بننے والی جماعت میں شمولیت اختیار کریں تاہم ہم خیال گروپ نے انکار کرتے ہوئے ان کو مشورہ دیا کہ وہ فی الحال نئی جماعت نہ بنائے کیونکہ ملک کے موجودہ حالات میں یہ ان کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ مشرف نے کہا کہ آج پاکستان میں جو سیاستدان این آر او کے خلاف باتیں کر رہے ہیں کل وہی اس کے حق میں تھے