A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

شہبازشریف کے بیان پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا پیش‘ سرحد اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

16 مارچ 2010
اسلام آباد (نامہ نگار/ مانیٹرنگ ڈیسک/ نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کا صرف پنجاب کے حوالے سے بیان افسوس ناک ہے۔ گذشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس 40منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرپرسن کے رکن ریاض پیرزادہ کی زیرصدارت شروع ہوا۔ اس دوران امیر مقام نے شہبازشریف کے بیان ”طالبان پنجاب میں دہشت گردی نہ کریں“ پر بحث کیلئے تحریک التواءپیش کر دی۔ نکتہ اعتراض پر ق لیگ کے رکن امیر مقام نے کہا کہ دہشت گردی صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں‘ باقی صوبوں میں بھی لاشیں گرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کیا صرف پنجاب کو طالبان سے بچانا چاہتے ہیں؟ اخونزادہ چٹان نے کہا کہ شہبازشریف کے بیان سے قبائل‘ صوبہ سرحد اور بلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی وہ طالبان کے حوالے سے اپنے بیان پر قوم سے معافی مانگیں۔وزیر مملکت پورٹ اینڈ شپنگ نبیل گبول نے کہاکہ امیر مقام کی تحریک التواءکو کارروائی روک کر زیربحث لایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) صوبائی جماعت نہیں‘ اس کی قیادت کو ایسے بیان نہیں دینے چاہئیں۔ جی این آئی کے مطابق امیر مقام نے بھی کہا کہ بیان پر شہبازشریف قوم سے معذرت کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن حمزہ شہبازشریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کی بات کرتی ہے۔ پنجاب کے حقوق کی بات کرنے کا طعنہ نہ دیا جائے‘ حکومت 17ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے عملی اقدام اٹھائے‘ ہم تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی نے کہاکہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی دو ہفتوں میں گیس کی قیمتوں پر رپورٹ پیش کریگی۔ ق لیگ کے غوث بخش نے کہاکہ سندھ حکومت میرے خلاف سیاسی انتقام کے تحت مقدمات قائم کر رہی ہے جس پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائے گی تاہم میں غوث بخش کے معاملہ کی تفصیلات آئی جی سندھ سے لیکر ایوان میں پیش کروں گا۔ علاوہ ازیں توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ملک میں مسلح افواج کی تنخواہوں میں دگنا اضافہ کیا گیا ہے۔ سول ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے بے اینڈ پنشن کمیٹی رواں ماہ اپنی رپورٹ مکمل کر لے گی۔ حکومت افراط زر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی۔ اے پی پی کے مطابق حمزہ شہبازشریف کے نکتہ اعتراض پر وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ آئینی اصلاحات کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے اور اس کے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہو رہے ہیں۔ دریں اثناءشیخ وقاص کے نکتہ اعتراض پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ملازمین کی ہاﺅسنگ سوسائٹی میں گھپلوں کی شکایات کی انکوائری کرائی جائیگی۔ ثنا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم سید نوید قمر نے ایوان میں نسیم صدیقی کے سوال کے جواب میں کہاکہ ملک میں پٹرول کا 11دنوں کا ذخیرہ رہ گیا ہے‘ فنڈز کی کمی کی وجہ سے پی ایس او شدید دباﺅ میں ہے‘ پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشنز کی کل تعداد معلوم کرنے کے لئے کوئی سروے نہیں کیا گیا۔ وزیر انسانی حقوق ممتاز گیلانی نے کہاکہ پولیس چھترول اور پولیس مقابلے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کی وزارت کو ابھی تک حکومت سے کوئی فنڈز نہیں ملے‘ یہ صدقہ جاریہ پر چل رہی ہے۔ ماروی میمن کے سوال کے جواب میں دفاع کے وزیر مملکت ارباب محمد ظاہر خان نے کہاکہ حکومت نے پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے کہاکہ ملک میں آزمائشی کنوﺅں کی کھدائی کے دوران ابتدائی طور پر 32لاکھ 70ہزار بیرل تیل اور 404ارب کیوبک فٹ گیس کے ذخائر کا انداہ لگایا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکمران جماعت کے اراکین کی عدم دلچسپی افسوس ناک ہے۔ اس اجلاس میں احتساب کے نئے قانون کو زیربحث لایا جانا تھا۔ قبل ازیں قائمہ کمیٹی دفاع کی چیئرمین ڈاکٹر عذرا افضل نے ایوان میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ سرحد اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے طالبان سے متعلق بیان پر ہنگامہ آرائی ہوئی‘ اس دوران (ق) لیگ کی رکن نگہت اورکزئی نے احتجاجاً اپنا دوپٹہ ہوا میں اچھالتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف یہ اوڑھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو اپنے بیان پر دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے معافی مانگنی چاہئے۔ اس موقع پر پی پی پی کی خواتین ارکان نے ڈیسک بجا کر انہیں داد دی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے منور خان نے کہا کہ شہباز شریف کے بیان کی وضاحت آ چکی ہے کہ ان کا بیان غلط طریقے سے یش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عورت جو بھرے ایوان میں اپنا دوپٹہ پھینک دے اس کو تو ایوان سے ہی باہر نکالنا چاہئے جس پر نگہت اورکزئی اور پیپلز پارٹی کی خواتین ممبران نے شور کرنا شروع کر دیا۔ ثاقب اللہ چمکنی نے نکتہ اعترا پر کہا کہ شہباز شریف کے بیان سے شہدا کی ارواح کو دھچکا لگا ہے۔