زرداری صدارتی اختیارات چھوڑنے پر رضامند‘ آئینی کمیٹی میں جی ایس ٹی کی وصولی پر اتفاق نہ ہو سکا

16 مارچ 2010
اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی آج یا کل آئین میں 18 ویں ترمیم کا ابتدائی مسودہ تیار کرلے گی‘ اس بات کا عندیہ حکومت کی طرف سے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا‘ تاہم آئینی اصلاحات پر خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کے سپرد کرنے اور بندرگاہوں پر وفاق اور متعلقہ صوبوں کے مشترکہ کنٹرول کے بارے میں سفارشات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی قومی اقتصادی کونسلاور شاہراہوں کی تعمیر کی پالیسی کی مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظوری پر اتفاق رائے ہو گیا ہے پیرکو خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین میاں رضا ربانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے پر اصرار کیا اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بتایا کہ میاں نوازشریف 17 مارچ 2010 کو وطن واپس آ رہے ہیں میاں نوازشریف اور اسفند یار ولی کے درمیان ملاقات میں سرحد کے نام پر اتفاق رائے کی صورت میں کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا‘ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے درمیان نام کی تبدیلی پر ہونے والی بات چیت میں تجاویز کو جو حتمی شکل دی جائے گی کمیٹی ان کو آئینی ترمیم کا حصہ بنا دے گی۔
اسلا م آباد (آن لائن) پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے آئین میں 18ویں ترمیم کے لئے سفارشات صدر زرداری کو پیش کر دی ہیں اور آئینی کمیٹی کی رپورٹ رواں ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کر دی جائے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے کمیٹی کی تمام سفارشات تسلیم کر لی ہیں اور وہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں حاصل کئے گئے صدارتی اختیارات چھوڑنے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لئے پچیس وفاقی وزارتیں صوبوں کے حوالے کی جائیں گی جبکہ کنکرنٹ لسٹ مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔ صدر نے ججز کی تقرری کے حوالے سے میثاق جمہوریت کے تحت مسلم لیگ ن کا مطالبہ بھی تسلیم کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتاےا کہ مجوزہ اٹھارویں ترمیم کا مسودہ صدر کو موصول ہوچکا ہے اور اب پارلیمانی آئینی کمیٹی اس کی نوک پلک درست کر رہی ہے۔ اس مسودے کے تحت 58 ٹو بی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی صدر کو پارلیمنٹ توڑنے کا اختیار حاصل نہیں رہے گا۔ صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ اباسین تجویز کیا گیا ہے سترھویں ترمیم کی تمام متنازعہ شقیں ختم کر دی جائیں گی میثاق جمہوریت کے تحت ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمشن بنے گا۔ انتظامی، سیاسی اور مالی لحاظ سے صوبوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کر کے اس کو مزید اختیارات دیئے جائیں گے۔ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہو گا۔ اسی طرح گورنرز کی تقرری بھی صدر، وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرینگے اور ایڈوائس ماننا ان کے لئے ضروری ہو گا حکومت مختلف مالیاتی اداروں سے جو قرضے حاصل کریگی اسے پارلیمنٹ مانیٹر کریگی۔ صدر اپنے پاس وہی اختیارات رکھیں گے جو 73 کے آئین کے تحت انہیں حاصل ہیں باقی تمام اختیارات وزیراعظم کے پاس چلے جائیں گے۔ قرضوں کی مانیٹرنگ اور انتظام کو آئین کا حصہ بنایا جائے گا۔ وزراءکی تعداد ارکان اسمبلی کے تناسب سے ہو گی صوبوں کو قرضوں کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے براہ راست بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسمبلیاں جب اپنی مدت پوری کر لیں گی تو نگران حکومت وفاق اور صوبوں میں صدر اور گورنرز قائم کرنے کے مجاز ہوں گے اور ایسی صورت میں وزیراعظم اور وزراءنگران سیٹ اپ میں شامل نہیں ہوں گے۔ عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس اکیس دن کے اندر بلایا جائے گا۔ مجوزہ اٹھارویں ترمیم میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ جو شخص آئندہ آئین توڑے گا یا اس کو تحفظ دے گا اس کیخلاف بھی آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہو گی۔ گورنر کی غیر موجودگی میں صوبائی اسمبلی کا سپیکر قائم مقام گورنر ہو گا، وفاقی شرعی عدالت قائم رہے گی جبکہ اسلام آباد میں فیڈرل ہائیکورٹ کی تجویز دی گئی ہے ، صوبوں کی سمندری حدود ساحل سے زیرآب 12 ناٹیکل مائلز میں متعلقہ صوبہ اور وفاق مشترکہ ملکیت رکھ سکیں گے، قدرتی اور معدنی وسائل پر وفاق اور صوبوں کا حق ملکیت مشترکہ ہو گا اور صوبوں کو برابر کا حصہ ملے گا۔ انتخابات الیکشن کمیشن کے ذریعے ہی کروائے جائیں گے ، بین الصوبائی تجارت پر پابندی کے اختیارات وفاق اپنے پاس رکھے گا۔ صدر مملکت مارچ کے آخری ہفتے میں پارلیمنٹ سے خطاب بھی کریں گے اس حوالے سے حکومت اپنی حکمت عملی طے کر رہی ہے تاکہ کسی قسم کا اختلاف سامنے نہ آئے او رصدر آصف زرداری اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اعتماد میں بھی لے رہے ہیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...