صحافی نے پنجاب میں دہشت گردی کا حوالہ دیا تھا‘ اسی تناظر میں جواب دیا ۔۔ میں نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے : شہبازشریف

16 مارچ 2010
لاہور (خبر نگار خصوصی) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بعض حلقوں نے جامعہ نعیمیہ میں میرے خطاب کو غلط معنی پہنانے اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ سرکاری طور پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جامعہ نعیمیہ میں میری تقریر کے بعض حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اس میں سے مرضی کے معنی نکالنے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ میں نے یہ گفتگو حامد میر کی تقریر میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کی تھی اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے ۔ حامد میر نے کہا تھا کہ میں (یعنی حامد میر) نے پچھلے برس لاہور میں خبردار کیا تھا کہ شریف برادران خوش فہمی میں نہ رہیں‘ آپ نے مشرف کو نکالا ہے جو امریکہ کا چیلا تھا۔ آپ کی پالیسیاں اس کے خلاف ہیں اور آپ ڈکٹیشن بھی نہیں لے رہے۔ اندرونی و بیرونی قوتیں آپ کے خلاف متحرک ہو چکی ہیں۔ آپ اور آپ کی پارٹی اغیار کے مقابلے میں دیوار بن چکے ہیں اور لاہور خون میں نہا جائے گا چنانچہ اس کے جواب میں‘ میں نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انتہا پسندی و عسکریت پسندی نے اسی نامراد ڈکٹیٹر کے غلط اقدامات کی وجہ سے جنم لیا اور آج پورا پاکستان اس آگ میں جھلس رہا ہے۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ کی یہ بات درست ہے کہ ہم پاکستان پر اغیار کے تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں اور طالبان بھی ان کے خلاف ہیں تو پھر طالبان کو پنجاب پر حملے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ جہاں تک اس تنقید کا تعلق ہے کہ میں نے اس ضمن میں پنجاب کا حوالہ کیوں دیا تو یہ سامنے کی بات ہے کہ جب کسی خاص مقام پر ہونے والے دھماکوں پر سوال اٹھایا گیا ہو تو جواب میں بھی اسی مقام اور اسی علاقے کا حوالہ دیا جائے گا۔ پنجاب میں دہشت گردی کے مختلف واقعات اور لاہور میں ہونے والے دھماکوں پر اظہار خیال کیا گیا تھا چنانچہ میں نے بھی اپنی تقریر میں پنجاب کا ذکر اسی حوالے سے کیا تھا جسے بعض مہربانوں نے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ ریکارڈ گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ سرحد کے غیور عوام پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے پنجاب پر تنقید کرنے والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر بقول ان کے پنجاب کی انتظامیہ عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھ سے نہیں نمٹ رہی تو پھر یہ دہشت گرد پنجاب اور اس کے دارالحکومت لاہور کو بار بار اپنی وحشیانہ سرگرمیوں کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ پاکستان تاریخ کے اس نازک مرحلے پر کوئی ایسی بات نہیں کی جانی چاہئے جس سے دہشت گردی کے خلاف ہماری صفوں میں نفاق پیدا ہو۔ افواج پاکستان کی سا لمیت کے لئے سربہ کف ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان گروہی اور صوبائی مفادات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کریں۔ صوبوں اور مرکز کے خفیہ اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان زیادہ مﺅثر اور مستقل رابطوں کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم باہمی اتحاد اور غیر متزلزل قومی عزم کے ذریعے اس مشکل مرحلے سے سرخرو نکلیں گے۔ صحت کے شعبہ میں بہتری کے لئے سینئر ڈاکٹروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عام آدمی کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی حکومت کا عزم ہے اور اس ضمن میں تمام تر کاوشیں اور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکومتی اقدامات اس وقت ہی سود مند ثابت ہو سکتے ہیں جب صحت کے شعبے سے وابستہ افراد دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور فرائض احساس ذمہ داری سے سرانجام دیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ چند ایک کے علاوہ پروفیسرز‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور سینئر ڈاکٹرز ہسپتالوں میں لیٹ آتے ہیں‘ ہسپتالوں میں ان مسائل کی بہتری کے لئے بھی اقدامات نہیں کئے جاتے جن کے لئے وسائل بھی درکار نہیں ہوتے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں کے بورڈز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ان میں ایسے افراد کو شامل کیاجائے جن میں دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور لگن موجود ہو۔ اجلاس میں ڈاکٹر راشد لطیف‘ ڈاکٹر عیس محمد‘ ڈاکٹر نصرت اللہ چودھری اور سیکرٹری صحت فواد حسن فواد شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے ایک ایسا متحرک نظام وضع کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس میں احتساب و مانیٹرنگ کا بھی مﺅثر سسٹم ہو اور اس ضمن میں عوام کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کی آرا معلوم کرنے کے لئے سیمینارز کا اہتمام کیا جائے جس میں صحت کے شعبے کے ماہرین کو بھی مدعو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کی بہتری اور عام آدمی کو علاج معالجے کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے‘ ہم نے انقلابی اقدامات کئے جن میں ہسپتالوں میں ادویات و ڈائلیسز کی مفت سہولت‘ اربوں روپے کی لاگت سے ہسپتالوں میں ائر کنڈیشنرز کی تنصیب‘ نوجوان ڈاکٹروں کے مشاہرے میں اضافہ‘ سروس سٹرکچر کی بہتری‘ ہسپتالوں میں جدید آلات اور مشینری کی فراہمی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں سفارش ہسپتالوں کو خودمختاری دینے کا مقصد یہی تھا کہ نہ صرف ان ہسپتالوں کے معیار کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے بلکہ عوام کو بھی بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں اور اسی مقصد کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز تشکیل دیئے گئے تھے لیکن کچھ بورڈز آف ڈائریکٹرز کے علاوہ دیگر بورڈز کی کارکردگی بھی اطمینان تسلی بخش نہیں ہے۔ فواد حسن فواد نے بتایا کہ ہر شعبے میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے‘ انہوں نے صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا ہے جس پر عملدرآمد سے نظام میں بہتری آئے گی۔