دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات‘ مالی مشکلات‘ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 121 ارب روپے کی کٹوتی

16 مارچ 2010
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات‘ مالی مشکلات‘ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 121 ارب روپے کی کٹوتی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی ( سالانہ ترقیاتی پروگرام ) میں کٹوتی کر دی ہے تاہم فیصلہ کیا ہے کہ سماجی سیکٹرز کے منصوبوں پر اس کا اثر نہیں پڑے گا‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں پلاننگ کمشن میں اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ایس ڈی پی کے بارے میں انہیں پریزنٹیشن دی گئی‘ وفاقی پی ایس ڈی پی کو 421 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دیا گیا اس طرح 121 ارب روپے کٹوتی کی گئی‘ اس کی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات ‘ فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں کئے جانے والے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر اور مالی مشکلات بتائی گئی ہیں‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز کیا گیا تھا کہ پی ایس ڈی پی کا حجم 250 ارب روپے کر دیا جائے تاہم انہوں نے اسے 300 ارب روپے کر دیا ہے اور سماجی سیکٹرز کو تحفظ دیا گیا ہے وزیراعظم نے وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وزارت خزانہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے جبکہ وزیر مملکت موجود ہیں‘ وزیر خزانہ کا تقرر بھی جلد کر دیا جائے گا‘ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کے متعلق ایک کمیٹی انہوں نے سابق وزیر خزانہ کی سربراہی میں بنائی تھی اس کی سفارش پر بھی عمل کیا جائے گا‘ انہوں نے کہا این ایف سی کمشن میں اس سے قبل یہ ہوتا تھا کہ جب این ایف سی ایوارڈ ہو جاتا تھا تو کمشن کو ختم کر دیا جاتا تھا تاہم اب کمشن قائم رہے گا اور ایوارڈ میں جو فیصلے ہوئے ان پر عمل کرانے کے لئے کمشن جاری رہے گا‘ انہوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان کے سلسلے میں جن اقدامات کا اعلان انہوں نے کیا تھا ان پر عملدرآمد کیا جائے گا‘ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے خصوصی اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈا ہے لاہور‘ سوات اور کراچی میں امن وامان کے واقعات ہوئے ہیں ہم نے سوچا تھا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ کو بلا کر امن و امان کی صورتحال پر بات چیت کی جائے‘ وزیراعظم نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے طالبان کو پنجاب میں کارروائیاں نہ کرنے کا کہنے اور ایجنڈا ایک ہونے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کسی اور سیاق و سباق میں بات کی ہو گی اور آپ (اخبار نویس) نے اسے ملا دیا ہے‘ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کبھی غیر آئینی کام کیا ہے نہ کریں گے‘ ہم نے ہمیشہ آئین کا تحفظ کیا ہے اور قوانین کی پابندی کی ہے سابق صدر مشرف پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کرتے تھے‘ یہ کتنا غیر آئینی کام تھا اور ایک طرح سے یہ آئین سے بغاوت تھی‘ مشرف کہتے تھے کہ میں پارلیمنٹ میں نہیں آتا‘ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کئے تھے انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی صدر کو جو مشورہ بھیجا تھا وہ پارلیمنٹ سے خطاب کے متعلق تھا کیونکہ یہ آئینی ضرورت تھی‘ انہوں نے کہا صدر آصف علی زرداری نے 6 ماہ کے عرصہ میں دو بار پارلیمنٹ سے خطاب کیا‘ ابھی سوا سال ہوا ہے اور تیسرا خطاب آ گیا ہے ہم آئین کے مطابق کام کریں گے‘ غیر آئینی کام کوئی نہیں ہو گا۔ افغان صدر نے فون کرکے دہشت گردی کے واقعات پرافسوس کیا تھا انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے اس سے قبل اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اٹانک انرجی کمشن کے منصوبوں اور چشمہ لفٹ بینک کینال کے منصوبے کو ترجیح دی جائے گی‘ اسی طرح ریلویز کے ٹریک کو دوہرا کرنے کا منصوبہ بھی ترجیح میں شامل ہوگا‘ خوشحال گڑھ پل اورمالا کنڈ ٹنل اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر جاری رہے گی‘ اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں اس وقت 200 منصوبوں پر کام جاری ہے وزیراعظم نے دیامر ‘ بھاشا ڈیم کی زمین کے بقایاجات کا مسئلہ حل ہونے پر اطمینان ظاہر کیا‘ وزیراعظم نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کا سہ ماہی جائزہ تواتر سے لیا جانا چاہئے‘ اجلاس میں وزیر صحت مخدوم شہاب الدین‘ وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر‘ وزیر ریلویز حاجی غلام احمد بلور‘ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن ڈاکٹر اشفاق احمد نے شرکت کی۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کے بعد وفاقی حکومت اضافی وسائل عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے ذریعے ترقی کے عمل میں صوبوں کا زیادہ کردار دیکھنا چاہتی ہے۔ پی ایس ڈی پی عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے حکومت کے ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کو ایسی معیشت ورثے میں ملی جسے بے پناہ معاشی چیلنجوں اور امن و امان کی صورتحال کا سامنا تھا‘ معیشت اب بہتر ہو رہی ہے‘ ثمرات عوام تک نہ پہنچنے تک ترقی بےکار ہے‘ وزیراعظم نے پلاننگ ڈویژن پر زور دیا کہ صحت‘ توانائی اور پانی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور ترقی کے خصوصی پیکجز کا تحفظ کیا جائے‘ وزیراعظم نے 2009-10ءکے لئے نظرثانی شدہ پی ایس ڈی پی 250 ارب روپے سے بڑھا کر 300 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ پلاننگ کمشن کو ہدایت کی ہے کہ صوبوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ وزیراعظم نے ریلوے کے ڈبل ٹریک تیار کرنے اور غیرفعال انجن فعال بنانے کی ہدایت کی۔ گلگت کی سماجی کارکن ڈاکٹر شمع خالد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کی ترقی کو اولیت دے رہی ہے‘ وہاں کے عوام کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں۔صدر اور وزیراعظم کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں رضا ربانی‘ نیئر بخاری‘ قمر الزماں کائرہ اور پرویز اشرف سمیت دیگر ہنما شریک ہوئے۔ دریں اثناءفاٹا کے 3 ارکان پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر اس میں شمولیت اختیار کر لی ہے‘ اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت اور حکومت کی حمایت کے اعلان سے تعاون بہتر‘ دہشت گردی کے خاتمے اور فاٹا کی ترقی میں مدد ملے گی۔ سینیٹر عباس آفریدی‘ ادریس سیفی اور کامران خان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحی ہے کہ فاٹا میں حالات معمور پر لائے جائیں اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ تینوں سینیٹروں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں اور غیر مشروط طور پر حکومت کی حمایت کرتے ہیں‘ بعدازاں فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انہیں ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا‘ صدر نے پیپلز پارٹی میں ان کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مبارکباد دی اور کہا کہ حکومت فاٹا کی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ وزیراعظم سے وفاقی وزیر نجکاری وقار احمد خان ‘وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی فردوس عاشق اعوان‘ اور وزیراعظم کے مشیر نوابزادہ غضنفر گل نے ان سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ نوابزادہ غضنفر گل نے وزیراعظم سے گجرات کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔