شواہد مل گئے‘ دورہ آسٹریلیا میں ایک سے زائد کرکٹر میچ فکسنگ میں ملوث تھے : قائمہ کمیٹی

16 مارچ 2010
لاہور (سپورٹس رپورٹر) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کی ذیلی کمیٹی نے بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عبدالغفار قریشی نے کہا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیم کی شکستوں کی بڑی وجہ کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ میں ملوث ہونا ہے۔ پی سی بی کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ثبوت میں یہ بات صاف واضح ہو گئی ہے۔ سفارش کی جائے گی کہ وہ کھلاڑی ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی نہ کریں۔ تاہم اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی تعداد کتنی ہے۔ یہ بات انہوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سینیٹر ہارون اختر، سینیٹر طاہر حسین مشہدی بھی موجود تھے۔ ہارون اختر نے بتایا کہ پی سی بی کی جانب سے پیش کیے جانے والے ثبوت کافی ہیں جن کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی ٹیموں کے پاکستان نہ آنے کی وجہ سے پی سی بی کو 25 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ پی سی بی نے 2009ء کی جو غیر آڈٹ شدہ رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ مالی طور پر مستحکم ہے۔ پی سی بی نے اپنے اخراجات میں 16 کروڑ روپے کی کمی کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھارت کے ساتھ سیریز ہے لیکن گذشتہ چند سال سے ایسا ممکن نہیں ہے۔ جیسے ہی غیرملکی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا پاکستان کرکٹ بورڈ کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔