چند مفاد پرست عہدوں کے لالچ میں ہاکی فیڈریشن پر تنقید کررہے ہیں : سابق اولمپئنز

16 مارچ 2010
لاہور (سپورٹس رپورٹر) چند مفادپرست اولمپئن عہدوں کی لالچ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اصلاح الدین صدیقی گذشتہ چالیس سال سے پی ایچ ایف میں مختلف عہدوں پر وابستہ رہے ہیں لیکن انہوں نے کھیل کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ سمیت اکیڈیمی سسٹم کو متعارف کرایا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق اولمپئنز اشتیاق احمد، محمد عثمان، ارشد چوہدری، انجم سعید، زاہد شریف، عامر ظفر کے علاوہ انٹرنیشنل کھلاڑی جن میں ایم رشید اور محمد شاہد حسین کے علاوہ دیگر انٹرنیشنل کھلاڑی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہاکی کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں نے خود ہاکی کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا تھا۔ گرینڈ سلام اشتیاق احمد نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن پر تنقید کرنے والے افراد کا ہدف صرف ایک شخص ہے۔ عہدے حاصل کرنا ان کا ٹارگٹ ہے۔ ورلڈکپ میں ٹیم کی شکست کے بعد فیڈریشن نے ایکشن لیتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ سمیت سلیکشن کمیٹی کو برطرف کر دیا ہے جبکہ تمام کھلاڑی بھی اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو چکے ہیں اس کے باوجود بھی چند مفادپرستوں کی تنقید صرف ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اولمپیئن ارشد چوہدری نے کہا کہ میگا ایونٹ میں پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں ہاکی ختم ہو گئی ہے۔ موجود فیڈریشن کے حکام نے جب عہدہ سنبھالا تو اس وقت پاکستان ایشیا اور ورلڈ میں انتہائی نچلے درجے پر تھا۔ پی ایچ ایف نے بھرپور کوشش سے ایشیا میں دوسرا نمبر دوبارہ حاصل کر لیا ہے لیکن ورلڈ میں اسے اوپر آنے میں مزید وقت درکار ہوگا۔ اس کے لئے موجودہ عہدیداروں کو وقت ملنا چاہئے۔ اولمپئن انجم سعید نے کہا کہ پی ایچ ایف پر تنقید کرنے افراد کا ٹولہ پانچ سے چھ افراد پر مشتمل ہے۔ ماضی میں ان لوگوں کو سب سے زیادہ مواقعے دیئے گئے ہیں لیکن بری طرح ناکام رہے۔ اصلاح الدین نے 40 سال سے میڈیا میں آکر ہی ہاکی سیاست کی ہے۔ کسی گراؤنڈ میں ان کی کوئی حاضری نہیں رہی ہے۔ موجودہ فیڈریشن کی کوششوں سے ہی پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم 21 سال بعد ایشیا کی چیمپئن بنی۔