تم جو بھی ہو

16 مارچ 2010
تم پیشہ ور دہشت گرد ہو اور خودکش حملوں کا کاروبار کرتے ہو یا افغانستان کو امریکی قبضے سے آزاد کرانے کی خاطر جانیں دے رہے اور لے رہے ہو‘ یا تم میں شامل عناصر کو بھارت پاکستان میں بدامنی اور خون خرابے کی خاطر استعمال کر رہا ہے‘ افغان سرحد کے اس پار اپنے قونصل خانوں سے تمہیں تیار کر کے بھجواتا ہے اور تمہارے اندر شاید وہ عناصر بھی چھپے ہوئے ہیں جنہیں امریکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے پیش نظر خفیہ کاری کے لئے کام میں لاتا ہے۔ تم نہایت قبیح کاروبار کر رہے ہو‘ انسانی جانوں کا کھیل کھیل کر پیسہ کماتے ہو۔ ملک کے اندر غارت گری کا بازار گرم کرتے ہو‘ تم قزاقوں اور خرکاروں سے بھی بُرے ہو‘ بلاشبہ تم مسلمانوں میں سے نہیں ہو۔
جو دہشت گرد بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اس کی تربیت اور روپے پیسے سے انہیں ہمارے ملک میں خفیہ طور پر متحرک کرتا ہے۔ وہ مختلف تنظیموں کے اندر بھی گھسے ہوئے ہیں‘ تمہیں اپنے والی اور سرپرست کو بتا دینا چاہیے کہ شیشے کے محل میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنے والوں کو اپنا حشر بھی سوچ لینا چاہیے۔ میں اس وقت کشمیر پر بھارت کے جارحانہ قبضے اور کشمیری عوام کی جائز ترین جنگِ آزادی کا ذکر نہیں کر رہا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ کی ذیلی تنظیموں نے جو ہندو دہشت گرد پال رکھے وہ بھی میرا موضوع نہیں۔ میرا اشارہ 28 بھارتی ریاستوں میں سے 15 سے زائد کے اندر وہ ماو نواز گوریلا جنگ ہے جس نے بھارتی حکومت اور فوج کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے بھارتی وزیر دفاع نے کہا ہے ماو نواز ایک بڑی اور تربیت یافتہ فوج کی مانند جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اور کشمیری مجاہد مل گئے اور انہوں نے اور بھارت کی دیگر گوریلا قوتوں نے مل کر متحدہ محاذ بنا لیا تو اس ملک کو بھسم ہونے سے اس کی بہت بڑی فوج اور ایٹمی قوت بھی نہ بچا سکے گی۔ تھوڑے کو بہت جانو اور عاقبت نااندیشی کا رویہ ترک کرو۔ ان اور دوسرے گروہوں کی آڑ میں امریکی خفیہ کار بھی اپنا اُلو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ واحد سپر طاقت کے پالیسی سازوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارے خلاف سخت بداعتمادی کی جو فضا پورے خطے میں پائی جاتی ہے پوری مسلم دنیا کو اس نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ تم اس پر پریشان بھی بہت ہو لیکن تمہارے دوہرے معیارات تمہیں کہی کا نہیں رہنے دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہو اور جہاں موقع ملے دہشت گردوں کو اکساتے اور اپنے مخالف اہداف پر حملے بھی کراتے ہو۔ عراق اور افغانستان کی مانند پاکستان کو بھی غیر مستحکم کرنا چاہتے ہو۔ تم اپنے خلاف مکڑی کا جال بُن رہے ہو۔ ویت نام میں شکست کھائی تھی‘ عراق میں نامُراد ہوئے ہو‘ ہمارے خطے سے بھی اسی عالم میں نکلو گے۔ واحد سپر طاقت کا بھرم ٹوٹ کر رہ جائے گا۔