اُمید

16 مارچ 2010
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو“ اور اکثر کہا جاتا ہے کہ ناامیدی کفر ہے جب کسی قوم سے سب کچھ چھن جاتا ہے تو اُس کے پاس ایک چیز باقی رہ جاتی ہے وہ اُمید ہوتی ہے۔ اُمید جذبوں ہمتوں ترقیوں اور نئی راہوں اور خوشحالیوں کی ماں ہوتی ہے اگر ہم نے اِس ماں کو زندہ رکھا تو یہ ایک ایسے پاکستان کو جنم دے سکتی ہے جو بابائے قوم اور مصورِ پاکستان کے خوابوں کی تعبیر ہو۔ شاعر ہی نہیں میڈیا بھی اور بالخصوص اس کے بڑے بڑے کالم نگار بھی ناامیدی پیدا کرتے ہیں اُمید سے حرکت پیدا ہوتی ہے اور حرکت سے برکت۔
دیکھا جائے تو وطنِ عزیز اس وقت ناامیدی کا شکار ہے ہوائی اڈوں پر جائیں تو یوں لگتا ہے کہ سارے پاکستانیوں نے ناامید ہو کر رختِ سفر باندھ لیا ہے اور یہاں تک کہ ملک کے بنک خالی کر دئیے ہیں لوگ اپنا پیسہ ناامیدی کے ڈر سے باہر منتقل کر رہے ہیں اور پھر دوسرے کو الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے سارا پیسہ باہر منتقل کر دیا ہے۔ یہ ملک جن حالات میں معرضِ وجود میں آیا ہے اُس کو سامنے رکھ کر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اِس نے اُمید سے جنم لیا۔ قائداعظمؒ کے سامنے پاکستان بننے سے پہلے جو صورتِ حال تھی وہ مکمل ناامیدی کی تھی مگر انہوں نے اُس میں سے اُمید کا سِرا پکڑا اور پاکستان بنا ڈالا اِس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا اُمید پر قائم ہے ایک گناہگار بھی یہ اُمید رکھتا ہے کہ اُسے اللہ معاف کر دے گا۔ دوزخ میں جانے کا سارا سامان اِکٹھا کرنے کے باوجود بھی اک اُمید ہے رحمتِ خداوندی کی جو بندے کو زمین پر حُور و قصور دکھاتی ہے۔ یہ اُمید ہی تھی کہ جس نے ابنِ آدم کو یہ ہمت دی کہ وہ اِس دنیا کو گل و گلزار بنا دے حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کی دنیا اور آج کی دنیا امید ہی کی پیداوار ہے۔ اقبالؒ اک ایسے دانشور تھے جن کو اُمید کے کرشموں کا علم تھا اِس لئے تو وہ کہتے ہیں
وابستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
نااُمید تو وہ بھی نہیں جو کہتے ہیں کہ ”وابستہ رہ صدر سے“ اُمید بہار رکھ۔ فرمان خداوندی اِس ضمن میں حرفِ آخر ہے کہ لاتقنطوا من رحمتہ اللہ۔ ترجمہ: ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو“ گویا اللہ کی رحمت کا مطلب ہی یہی ہے کہ بندہ نااُمید کی جھولی اُمید کے پھولوں سے بھر جائے اور تو اور اُمید کی قدر و قیمت پوچھنی ہے تو جا کر ماہرین نفسیات سے پوچھیں جو دواﺅں سے زیادہ مریض کو اُمید دلاتے ہیں اور یہی اُمید مریضوں کو بڑی بڑی نفسیاتی بیماریوں سے اُمید کے لہلہاتے چمن میں پہنچا دیتی ہے۔ سچ پوچھیں تو بڑے بڑے ڈاکوﺅں‘ قاتلوں اور دیگر مجرموں کے لاشعور میں بھی اُمید کی کرن ہوتی ہے کہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی رحمت کی چادر میں پناہ لے کر بچ جائیں گے۔ بروز قیامت یہی اُمید لاتعداد لوگوں کو پل صراط عبور کرائے گی اُمید نہ رکھنا خدا کی رحمت کا انکار ہے اور ایسا منکر مسلمان کیسے ہو سکتا ہے۔ حضرتِ یونس علیہ السلام کو اُمید نے مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا کیونکہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین کا ورد کرتے تھے تو یہ اُمید ہی کی ایک شکل تھی جس کا سِرا ربِ ذوالجلال سے ملا ہوا تھا اور بالآخر اُمید نے اُنہیں مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا آج پاکستانی قوم ہزاروں مسائل‘ مصائب اور کلفتوں کا شکار ہے اور کسی قدر نااُمیدی کا بھی لیکن ایک اُمید ہے جس نے اُنہیں پاک سرزمین سے جوڑ رکھا ہے کہ یہ امریکہ بھی یہاں سے چلا جائے گا یہ کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا یہ پانی بھی واگزار ہو جائے گا اور پاکستان میں لا الٰہ کا ڈنکا بج اُٹھے گا یہاں خوشحالی آئے گی جس کے جلو میں مہنگائی ہو گی نہ لوڈ شیڈنگ ہو گی اور نہ آئی شیڈنگ ہو گی۔ ہر طرف خوشیوں کا دور دورہ ہو گا اور بقول بابائے قوم پاکستان قوموں کی صف میں امامت کے فرائض انجام دے گا۔ انشاءاللہ