فیصل آباد میں ایک روز....!

16 مارچ 2010
گذشتہ روز آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن اور مون لائٹ سکول سسٹم چاندنی چوک، غلام محمد آباد فیصل آباد کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں راقم نے بحیثیت تنظیم کے مرکزی صدر بطور خاص شرکت کی، کانفرنس میں تعلیم کی بہتری کے ضمن میں بالعموم اور پرائیویٹ سیکٹرز کو فروغ تعلیم کے ضمن میں درپیش مشکلات کو بالخصوص گفتگو کا موضوع بنایا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راقم نے حکومت پنجاب کا طالب علموں کے ساتھ امتیازی سلوک پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ حکومت کو سرکاری سکولوں کے نہم دہم کے طلباءکی امتحانی فیس معاف نہیں کرنی چاہئے تھی کہ جس کا خسارہ آٹھوں تعلیمی بورڈز کو تقریباً سوا ارب روپیہ سالانہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ یا تو وہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولز کے طالب علموں کےلئے مشترکہ قانون سازی کرتی اور سرکاری سکولز کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولز کے نہم دہم کلاس کے طالب علموں کی امتحانی فیس بھی معاف کرتی اولڈ ایج بینفٹ اور سوشل سکیورٹی کی طرف سے پرائیویٹ سکولوں کی کنٹری بیوشن سے متعلق راقم نے پرائیویٹ سکولز کے مالکان کے تحفظات کا اظہار کیا اور فروغ تعلیم کے سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹرز کی کاوشوں پہ روشنی ڈالی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل آباد بورڈ کے چیئرمین سید ممتاز حسین شاہ نے کہاکہ بورڈ ملازمین نے ہڑتال ختم کرنے کے بعد اب مستعدی سے کام کرتے ہوئے امتحانات کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں اور بفضل تعالیٰ 13 مارچ سے امتحانات کا آغاز ہو رہا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ای ڈی او فیصل آباد صہیب عمران نے کہاکہ پنجم اور ششم کے امتحانات کا معیار بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر اولڈ ایمپلائرز بینفیٹ فیصل آباد چودھری عبدالخالق نے راقم نے راقم کو تجویز پیش کی کہ تمام پرائیویٹ سکولز کو اولڈ ایج بینیفٹ فنڈز کے لئے رجسٹریشن کروا لینی چاہئے جن کے عملے کو بعد از ریٹائرمنٹ کم از کم دو ہزار وپیہ پنشن فراہم کی جائے گی جبکہ کانفرنس سے سوشل سکیورٹی ڈائریکٹر ایسٹ رانا ریاض اور ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی ویسٹ سید محمد احمد ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل سکیورٹی کی ڈسپنسریاں رہائشی علاقے میں ہر دس کلو میٹر کے فاصلے پر قائم ہیں جو عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
کانفرنس کے بعد راقم نے امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے علاقے کا دورہ کیا اور عوام الناس سے گفتگو بھی کی۔ فیصل آباد کی عوام نے امن وامان کی بہتر صورتحال پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں، کمشنر فیصل آباد طاہر امین، ڈی سی او فیصل آباد، زاہد واہلہ اور فیصل آباد ریجن کے آر پی او محمد طاہر کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے غلام محمد آباد میں 12 ربیع الاول کو فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی مذموم کوششوں کو نہایت یہ احسن حکمت عملی کے ساتھ غتر بود کیا جبکہ تھانہ بھوانہ میںچھتر پریڈ سے متعلقہ کیس کے بعد عوام کے ساتھ پولیس اہلکاروں میں بھی راقم نے دوران ملاقات خوف و ہراس کا عنصر موجود پایا۔ اگرچہ سی پی او فیصل آباد راو سردار علی خان نے تھانوں کے سرپرائز وزٹ شروع کردئیے ہیں اور قیدیوں سے ان کے مسائل کے بارے میں استفسار کیا تاہم متوقع نئی تبدیلی اور چھتر کلچر کا خاتمہ اور پرائیویٹ سیکٹرز برائے فروغ تعلیم کے مسائل کی شنید جیسے معاملات معاشرے میں ترقی کرنے کے ضامن ہوں گے لیکن ضرورت اس امر کو جاری رکھنے کی ہے کیونکہ فیصلے کرنے تو آسان ہوتے ہیں مگر ان فیصلوں پر قائم رہنا کٹھن کام ہوتا ہے۔