اردو-- ایک نام محبت کا

16 مارچ 2010
سید روح الامین ۔۔۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے بالکل اسی طرح جیسے ہندی بھارت کی، انگریزی انگلستان کی، نیپالی نیپال کی، چینی چین کی، جاپانی جاپان کی، ملے ملیشیا کی قومی زبانیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہی کیوں ہو اور کوئی دوسری صوبائی یا علاقائی زبان کیوں نہ ہو؟ پاکستان میں متعدد بولیاں اور زبانیں بولی جاتی ہیں جیسے پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، پوٹھوہاری، براہوی، کوہساری، کشمیری، گجری وغیرہ وغیرہ ان میں سے ہر زبان کا اپنا علاقہ ہے لیکن ان میں سے کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو دوسرے علاقوں یا علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہو۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسی ترقی یافتہ زبان موجود ہے جو سارے پاکستان کے طول و عرض میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور جسے سیکھنا، بولنا اور استعمال کرنا آسان ہے اور جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ سارے براعظم پاک وہند کے طول و عرض کے علاوہ مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، کناڈا وغیرہ میں بھی آبادی کے مخصوص طبقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اس زبان کے اخبارات ورسائل و جرائد بھی دنیا کے مختلف ممالک سے شائع ہوتے ہیں۔ اس زبان کی روح میں براعظم پاک وہند کے مسلمانوں کی تہذیبی روح سرایت کئے ہوئے ہے اس میں پاکستان کی سب زبانوں کے اثرات و ذخیرہ الفاظ موجود ہیں اور اسی زبان نے عربی و فارسی زبانوں کی تہذیبی و دینی روح سے خود کو سیراب کیا ہے یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ اردو، پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی اور سرائیکی وغیرہ کا رسم الخط ایک ہے۔ ان کا ذخیرہ الفاظ جو عربی، فارسی، ترکی سے لیا گیا ہے کم و بیش ایک ہے ان سب زبانوں کا سرچشمہ ہدایت دین اسلام ہے اور اسلام کا گہرا اثر ان سب زبانوں کے ذخیرہ الفاظ اور طرز احساس واسالیب پر موجود ہے اگر دیکھا جائے تو ان سب زبانوں کی تہذیبی روح بھی ایک ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اور قومی سطح پر یکجہتی پیدا کرنے کے لئے ان سب فطری مماثلتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے اسی وجہ سے قومی مفاد اور قومی یکجہتی کے پیش نظر پاکستان کے سارے دساتیر میں اردو کو قومی زبان تسلیم کیا گیا ہے۔ ہماری سب زبانیں اچھی اور اہم ہیں لیکن قومی سطح پر قومی زبان کے طور پر اردو ہی ہماری قومی زبان ہو سکتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا
ترکی بھی شیریں، تازی بھی شیریں
حرفِ محبت ترکی نہ تازی
ہم قومی یکجہتی، قومی فکر اور قومی شناخت کو اسی حرف محبت سے وجود میں لا سکتے ہیں۔

جامعہ اردو میں داخلے

کراچی (نیوز رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمیشن ڈاکٹرمحمد راشد ...