اپنے اپنے حصے کی چیخ ضرور بلند کریں

16 مارچ 2010
احمد فراز نے شکوہ ظلمتِ شب کرنے کے بجائے اپنے حصے کی شمع جلانے پر زور دیا تھا لیکن میں پاکستان کے ہر شہری کی خدمت میں یہ گزارش کروں گا کہ وہ اپنے اپنے حصے کی چیخ ضرور بلند کریں۔ ہمارے بہت سارے مصائب اور مسائل کی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی مسئلہ پر بھرپور انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہے لیکن ہم نے کبھی چیخ چیخ کر آسمان سر پر نہیں اٹھایا۔ موسم بدل رہا ہے۔ گرمی کا ابھی آغاز نہیں ہوا لیکن چھوٹے شہروں میں تین گھنٹے تک لوڈشیڈنگ، ایک گھنٹے کے لئے بجلی پھر دوبارہ تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر قوم نے بروقت اس کا نوٹس نہ لیا اور اپنے اپنے حصے کی چیخ بلند نہ کی تو وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف سے یہ امید ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے ذریعے اتنا اندھیر مچائےں گے کہ آسمان کے تاروں کی روشنی سے بھی وہ پاکستان کی دھرتی کو محروم کردےںگے۔ اگر وزےر لوڈشےڈنگ“ کے عزائم کو بھانپتے ہوئے عوام نے سڑکوں پر نکل کر حشر نہ اٹھاےا اور احتجاج کرنے کی طرح احتجاج نہ کےا گےا تو پھر راجہ پروےز اشرف کو ےہ ”حق“ پہنچتا ہے کہ جس طرح انڈےا نے پاکستان کا پانی روک رکھا ہے وہ بھی پاکستان بھر کے صنعتی اداروں، گھروں دفاتر کاروباری مراکز سکولوں ےونےورسٹےوں اور مساجد کو بجلی سے مکمل طور پر محروم کردےں۔ بھارت نے پانی کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ ظلم وزےادتی اور ناانصافی کی جو انتہا کررکھی ہے اس کی وجہ بھی ےہ ہے کہ پاکستان کے حکمران بھارت کے سامنے ضرورت سے زےادہ بزدلی اور مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہےں مجھے تو مجےد نظامی صاحب کے اس نقطہ نظر سے سو فےصد اتفاق ہے کہ جس طرح زور بازو کے بغےر کشمےر کو آزاد نہےں کرواےا جا سکتا، اسی طرح بھارت نے جنگ کے بغےر پاکستان کو اس کے حصے کا پانی نہےں دےنا۔ ہماری تمام زمےنےں بنجر ہو جائےں گی مگر بھارت کو اس کی کےا پروا؟ اسی لئے جناب مجےد نظامی کہتے ہےں کہ پوری قوم کو قحط اور بھوک سے ماردےنے سے کہےں بہتر ہے کہ ہم بھارت سے لڑ کر مر جائےں۔ مطلب ےہ کہ اپنے قومی حق کےلئے ہمےں لڑنا اور مرنا پڑے گا۔ عوام اگر بھوک مفلسی مہنگائی لوڈشےڈنگ معاشی ناہمواری بے روزگاری ظلم اور ناانصافی کے خلاف چےخےں گے نہےں۔ احتجاج نہےں کرےں گے تو پھر اےوان صدر وزےراعظم ہاو¿س وزرائے اعلیٰ اورگورنروں کے محلات کے علاوہ پورے ملک مےں لوڈشےڈنگ کا راج ہوگا اور ”وزیر اندھیر نگری“ بار بار پوری قوم سے جھوٹ بولتے رہیں گے۔ ایک شاعر نے کہا تھا
کچھ چراغِ ظلم کو ہے شہر یاروں کی پناہ
کچھ ہوائیں بھی نہیں چلتیں ہواﺅں کی طرح
جس دن پوری قوم اپنے دل سے یہ عہد کرے گی کہ ہم نے حکمرانوں کے ظلم اور ناانصافی کو اب برداشت نہیں کرنا اور قوم کو بھوک اور افلاس کا شکار رکھنے والے غیر منصف حکمرانوں کے ہاتھوں سے اب ہم نے نوالہ چھین لینا ہے اسی دن سے ہمارے حالات میں تبدیلی کے آثار پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اگر جیسی بھوک، مفلسی، لوڈ شیڈنگ اور معاشی بدحالی ہمارا مقدر ہے ویسے ہی حالات میں حکمرانوں کو بھی ہماری قوم زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دے اور حکمرانوں کو بندہ مزدور کی طرح تلخی حالات کا خود بھی تجربہ ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ قوم کے ابتر حالات میں تبدیلی لانے کی ضرور کوشش کریں گے یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ میرے ایک مستقل قاری فیصل خاور بٹ نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا سادہ سا فارمولہ بتایا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ جتنی دیر تک ایک عام آدمی کے گھر میں بجلی بند رہتی ہے اتنی دیر ہی ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس، تمام مرکزی اور صوبائی وزرائ، اکیس اور بائیس گریڈ کے افسروں، جرنیلوں اور پارلیمنٹ کے تمام ارکان کے گھروں اور دفاتر کی بجلی بند رکھی جائے اور شرط یہ ہے بجلی کا کوئی متبادل ذریعہ جنریٹر وغیرہ بھی استعمال نہ کیا جائے تو لوڈشیڈنگ کا پاکستان سے نام و نشان مٹ جائے۔ فیصل خاور بٹ کے اس فارمولے سے لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں تو ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن اس طرح لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں سے قوم کی جان ضرور چھوٹ جائے گی اور وزیر بجلی و پانی سمیت واپڈا کے اربابِ اختیار بھی قوم کے مقدر سے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ ضرور ہو جائیں گے۔
مارچ اپریل اور مئی کے مہینے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سٹوڈنٹس کے امتحانات کے حوالے سے ہماری قوم کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہیں۔ لاکھوں طلبا کا مستقبل اور ان کی سال بھر کی محنت کا نتیجہ ان مہینوں کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ان مہینوں میں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے تو یہ لاکھوں طلباءکے مستقبل کو تاریک کرنے کے مترادف ہو گا۔ حکمرانوں کو یہ احساس ضرور ہونا چاہئے کہ اگر لاکھوں بچوں کا مستقبل خراب ہوا تو یہ پوری قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ اگر ہمارے سنگدل حکمران لاکھوں، بچوں اور ان کے والدین کی بددعاﺅں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر لوڈشیڈنگ کا مذاق فوراً بند کیا جائے اور تمام وسائل بروئے کار لا کر ملک و قوم کو بجلی فراہم کی جائے۔