فیصلہ کن موڑ

16 مارچ 2010
(رانا فضل الرحمن نعیم)۔۔۔۔
انسان کی زندگی میں بعض ایسے لمحات آتے ہیں جنہیں فیصلہ کن اور تاریخی کہا جا سکتا ہے۔ یہ لمحات بالکل اسی طرح اہم ہوتے ہیں جس طرح ریل کی پٹڑی پر شور مچاتی ڈرون“ ڈزن کرتی ریل کا رخ چشم زدن میں ”کانٹا“ تبدیل کر دیتا ہے۔ چنیوٹ سے کچھ فاصلے پر دریائے چناب کے شمال مشرقی کنارے پر ایک گاﺅں کوٹ محمد یار واقع ہے۔ معلوم ہوا کہ وہاں اپنے وقت کا ایک نامی گرامی رسہ گیر (چور) محمد مغل عرف مغلا رہتا ہے۔ قیام پاکستان سے تقریباً چالیس پچاس سال قبل مغلا کا سارا خاندان اور بھائی زمیندارہ کے ساتھ رسہ گیری اور چوری کی وارداتیں کرتے تھے مغلا بوڑھا ہو چکا تھا مگر اس کی یادداشت غضب کی تھی اس نے بتایا کہ اس نے بھیرہ کے ایک نامور عالم دین کے پاس جا کر چوری چکاری سے توبہ کی انہوں نے اسے نصیحت کی کہ آئندہ جھوٹ نہیں بولنا۔ چنانچہ مغلا نے زندگی بھر جھوٹ نہ بولا۔ اس کے بھائی کسی کی بھینس چرا کر لاتے تو گاﺅں میں پنچایت ہوتی جس میں بھینسوں کے مالکان کہتے کہ اگر مغلا کہہ دے کہ تم لوگوں نے چوری نہیں کی تو ہم واپس چلے جائیں گے اسی طرح چوری کی وارداتوں کی تفتیش کے سلسلہ میں پولیس آتی تو تھانیدار یا تفتیشی افسر بھی یہی کہتا کہ مغلا کو بلاﺅ وہ اگر کہہ دے کہ چوری میرے بھائیوں نے نہیں کی تو ہم تفتیش کا رخ تبدیل کر دیں گے۔ مگر مغلا نے کبھی سچی بات کہنے سے گریز نہ کیا وہ ہمیشہ سچ بولتا اگرچہ بعد ازاں اس کے بھائی اس کی خوب مرمت کرتے اور کہتے کہ ”مغلیا تیرے سچ نے ساہنو مروا چھوڑیا اے “ مغلا نے چوری اور چوروں کے نظام کے بارے میں بہت سی دلچسپ باتیں بھی بتائیں مثلاً یہ کہ چور مال مسروقہ سے اپنے بزرگ اور بڑے چوروں کا حصہ نکال کر اسے انتہائی ایمانداری سے ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں یہ حصہ بڑے چوروں کی طرف سے ہی مقرر کیا جاتا ہے۔ پانچواں‘ دسواں یا بارہواں حصہ ہوتا ہے مغلا نے بتایا کہ مسروقہ اشیاءراتوں رات دو دو تین تین سو میل تک پہنچا دی جاتی ہیں۔ مشرق مغرب شمال اور جنوب کی طرف دس پندرہ میل کے فاصلے پر چوروں کا ایک ایجنٹ یا کئی ایجنٹ ہوتے ہیں اس جگہ کو ”اڈہ“ کہا جاتا ہے جس کا مال اسباب چوری کیا جاتا ہے اگر اس کے رشتہ دار مشرق کی طرف ہوں تو اس چوری شدہ مال کو مغربی جانب واقع اڈہ کے حوالے کیا جاتا ہے۔
مغلا جس نے اپنے خاندانی پیشہ چوری اور رسہ گیری کے ساتھ جھوٹ کو بھی ترک کیا اور طویل عرصہ تک اپنے حقیقی بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے غیض و غضب کو صبر اور ہمت سے برداشت کیا ان پڑھ ہونے کے باوجود محنت مزدوری کر کے حلال کی روزی کمائی وہ چنیوٹ کے قریب دریائے چناب پر ریلوے بسوں کا دوہرا پل تعمیر کرنے والے انجینئر خان نعمت اللہ خان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اس نے ان کے پاس ان دنوں مزدوری کی تھی جب وہ یہ آہنی پل تعمیر کر رہے تھے خان صاحب نے مغلا کو اس کے حسب حال سرکاری ملازمت دلوا دی اس نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اس کے کئی بیٹے بیرون ملک بھی گئے الغرض ایک عادی چور نے جب زندگی کا کانٹا تبدیل کیا تو اسے لمبے عرصہ تک ظلم و زیادتی اور فاقوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس نے سچے دل سے توبہ کی تھی اس لئے خدا نے بھی اس کی مدد کی اس کے بچے اعلٰی عہدوں تک پہنچے جب کہ مغلا کے وہ بھائی جنہوں نے رسہ گیری ترک نہ کی بے نام و نشان رہ گئے اور ان کا نام لیوا کوئی باقی نہ رہا۔