منگل‘ 29 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 16 ؍ مارچ 2010ء

16 مارچ 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ امریکہ نئے سکریننگ قوانین پر نظرثانی کرے‘ پاکستان کو فہرست سے نکالے۔
ان دنوں صدر آصف علی زرداری ایسے فیصلے کر رہے ہیں‘ جو قومی غیرت اور ضرورت کے عین مطابق ہیں‘ صدر نے امریکہ سے نئے سکریننگ قوانین پر نظرثانی اور پاکستان کو متعلقہ فہرست سے نکالنے کا زور دار مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے پاکستانی مصنوعات کو امریکی اور یورپی منڈیوں تک رسائی دی جائے اور اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں واجب الادا رقم بھی جلد ادا کی جائے۔ زرداری صاحب جب جیل میں تھے تو ان میں ایک مرد حر پیدا ہوا تھا‘ جو اب جوان ہو چکا ہے اور انکی تمام تر توجہ پاکستان میں سیاسی ہم آہنگی‘ صوبائی یکجہتی اور اپنی پارٹی کے استحکام پر مرکوز ہے۔ یہ ایک صحت مندانہ صدارتی رجحان ہے‘ جس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔ ایک عرصے سے پاکستان کی غیور قوم امریکہ کی نئی سکریننگ پالیسی پر پیچ و تاب کھا رہی تھی‘ صدر نے انکے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکہ سے باقاعدہ مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کو نئے سکریننگ سسٹم کی فہرست سے نکالے۔ اس مطالبے سے انشاء اللہ پاکستان پر صرف باعزت سکریننگ ہی لاگو ہو گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ صدر صاحب اس بات کا بھی نوٹس لیں گے کہ امریکی بلاروک ٹوک پاکستانی ہوائی اڈوں پر سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور ان کو پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے اور جو پاکستانی امریکہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں‘ ان کا بھی خیال رکھیں۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب پولیس کا بیان ہے کہ کسی مذہبی تنظیم نے مخصوص وقت کیلئے پولیس کو مصروف رکھنے کیلئے ڈرامہ رچایا جبکہ خبر یہ ہے کہ اقبال ٹائون اور سمن آباد کے دھماکے تفتیشی اداروں کیلئے معمہ بن گئے۔
اگر ہمارے تفتیشی ادارے بلیک واٹر اور ’’را‘‘ کی کارروائیوں کو معمہ سمجھتے ہیں تو انہیں ڈکشنری میں معمہ کا صحیح مفہوم دیکھ لینا چاہئے‘ ہم پہلے بھی یہ لکھ چکے ہیں کہ ’’را‘‘ یا کوئی دوسری پاکستان دشمن تنظیم یہ پیغام نہیں بھیجے گی کہ ان دھماکوں کی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ اس میں وہ ضرور کسی بدنام مذہبی تنظیم کو ملوث کریگی تاکہ پاکستان میں اپنوں کے ساتھ جو جنگ جاری ہے‘ وہ جاری رہے اور اس طرح ڈرون طیاروں کے حملوں کا جواز پیدا ہوتا رہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے امریکہ اور بھارت اس وقت پاکستان میں نقصان دہ قسم کی مداخلت کر رہے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بھارت کی چیرہ دستیاں یہاں تک پہنچ چکی ہیں کہ اس نے دریائے نیلم سے پانی لیکر ڈیم بنانے کیلئے آدھی سرنگ مکمل بھی کرلی ہے اور پاکستان کے ارباب بست و کشاد اس پر کشادہ روئی سے خاموش بیٹھے ہیں۔ اگر دریائے نیلم سے پانی لیکر ڈیم بنا لیا گیا تو دریائے نیلم ایک ندیا کی شکل میں بھی باقی نہیں رہے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ کیا دریائے نیلم پر ہم نے بھارت سے پہلے ڈیم کیوں نہیں بنایا‘ جہاں تک اقبال ٹائون سمن آباد کے دھماکوں کا تعلق ہے‘ تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خفیہ اداروں کو اس کا علم ہے کہ یہ کس نے کرائے۔ اب تو انکی رپورٹیں بھی خفیہ نہیں رہیں اور ان دھماکوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مل چکے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ زرداری ظالم آمر (مشرف) کو گھسیٹ کر واپس لائیں اور مقدمہ چلائیں‘ دہشت گردی کی صورت میں آمر کی نو سالہ سیاہ کاریوں کا نتیجہ ‘ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔
مشرف چیچوں کی ملیاں میں نہیں بیٹھا ہوا کہ زرداری اسے گھسیٹ کر اسلام آباد لے آئیں اور اس پر مقدمہ چلائیں۔ مشرف کا ایک پائوں واشنگٹن میں اور دوسرا لندن میں ہوتا ہے۔ حمزہ شہباز اگر اس صورتحال سے استفادہ کر سکتے ہیں تو ضرور کریں‘ وہ ابھی سیاست کی نرسری میں داخل ہوئے ہیں اور باتیں ایک پختہ سیاست دان جیسی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا جذبہ قابل ستائش ہے‘ قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ ظالم آمر کو گھسیٹ کر پاکستان لایا جائے اور اس پر اسکے جرموں کے مطابق مقدمہ چلا کر عبرت ناک سزا دی جائے۔
اگر حمزہ شہباز باقاعدہ سیاست میں دخول فرما چکے ہیں تو ظالم آمر کو واپس لانے کیلئے مہم چلائیں کیونکہ انکی پارٹی ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے اور حکمرانوں سے یہ کام لے سکتی ہے بلکہ چاہے تو امریکہ اور برطانیہ پر بھی دبائو ڈال سکتی ہے کہ ہمارا مجرم ہمارے حوالے کرو اور اس کیلئے وہ باقاعدہ قانونی لائحہ عمل تیار کریں۔ گھسیٹ کر لانے والی بات بڑی دیسی سی ہے‘ وہ کوئی ولایتی بات کریں تو بات بنے گی۔
٭…٭…٭…٭
گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے دو خواتین سمیت چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔
اگر حکومت پوری پوری گیس نہیں دے سکتی تو اتنا تو کرے کہ جو سلنڈر بازار میں دستیاب ہیں‘ انکے معیار کو چیک کرنے کا تو کوئی بندوبست کرے‘ آئے روز گیس سلنڈر پھٹنے سے حادثات ہوتے رہتے ہیں جس کا پہلا نشانہ گھر کی خواتین بنتی ہیں۔ سلنڈر ڈیلر اس بات پر بہت خوش ہیں کہ گیس کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور عوام بے چارے مجبور ہو کر ان سے سلنڈر خریدتے ہیں۔ ان سلنڈروں کی گیج معیار کے مطابق نہیں ہوتی‘ یہی وجہ ہے کہ گیس کی پریشر سے سلنڈر پھٹ جاتے ہیں۔ ویسے تو اس ملک میں ایک گیس سلنڈر ہی کیا‘ سب کچھ پھٹ چکا ہے‘ یا پھٹنے والا ہے‘ حکومت اس پھٹنے کا بھی کوئی علاج کرے۔ جب سے افغانستان میں امریکہ نے قبضہ جمایا ہے اور بھارت کو وہاں داخل کیا ہے‘ پاکستان میں بم پھٹتے ہیں یا سلنڈر۔ حکومت کے پاس غیرخودمختار ریاست ہونے کے باعث اس پھٹنے کے عمل کیلئے فرصت ہی نہیں‘ لاہور میں بم پھٹے پولیس نے دو مشکوک افراد پکڑ لئے‘ وہ دہشت گرد تو نہ نکلے مگر پولیس افسران نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے یہی کہنا کافی سمجھا کہ وہ دونوں ڈاکو تھے۔ حالانکہ میڈیا نے جو انکی شکلیں دکھائی ہیں‘ ان سے بے گناہی ٹپکتی ہے۔ بہرصورت بات گیس سلنڈروں کے پھٹنے کی ہے جو کہ ناقص ہوتے ہیں‘ حکومت اس درد کی بھی دوا کرے۔