نقل بغیر عقل

16 مارچ 2010
محمد طارق چوہدری ۔۔۔
پیپلز پارٹی کے لیڈر نے کہا مخالفت میں خبر کالم کی کاٹ کرپشن کی داستان جو چاہے لکھو‘ کچھ پرواہ نہیں اس لئے کہ ہمارا ووٹر اخبار نہیں پڑھتا وہ ہمارے ساتھ تھا اور رہے گا مگر گذشتہ چند برسوں سے یہ لیڈر بھی پریشان ہے کہ ان کا ان پڑھ ووٹر بھی ٹیلی ویژن دیکھتا اور تبصرے سنتا ہے جو اسکے ذہن کو مسموم کئے دیتے ہیں آہستہ آہستہ کارکنوں کی گرم جوشی سرد مہری میں بدل گئی ہے جو کچھ عرصہ بعد مخالفت میں بدل سکتی ہے۔
نوائے وقت کی پیشانی پر لکھا ہے ’’ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے‘‘ کچھ سر پھرے ہمیشہ سے یہ جہاد کرتے چلے آئے ہیں مگر ایک اخبار نویس یا کالم نگار کی تردید یا وضاحت ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کے مقابلے بدرجہا‘ خطرناک ہو سکتی ہے اسلئے آج تک اس میدان میں کوئی قیس بھی بروئے کار نہ آسکا۔معروف دانشور‘ استاد اور کالم نویس جن کے مدتوں سے نیاز حاصل ہیں۔ انکے قلم میں وہ جادو ہے کہ بے پر کی اڑا دیں پھر وہ ایسی اڑے کہ پرواز تخیل بھی اسکے مقابل ہیچ رہے۔ انہیں یہ ملکہ بھی حاصل ہے کہ پر کا کبوتر بنا ڈالیں جو شرط کی اڑان میں شامل ہو کر سچ مچ بازی جیت جائے‘ انکی پرواز تخیل میں کیا شک مگر تجسیم تخیل قفط زیبا ہے۔ خاکسار تحریک انصاف کا رکن ہے مگر ترجمان نہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کے وہ ترجمان ہیں جو انکے رکن نہیں۔ انکی بادشاہت میں وہ بچہ کہاں سے لائیں جو بادشاہ کو ننگا کہہ سکے۔ چھوٹی سی گزارش مطلوب تھی مگر جان کی امان کیلئے تمہید طولانی ہو گئی پھر بھی مطلب کی قلم پر نہیں آرہی۔ ضمنی انتخابات کا مرحلہ تمام ہوا تو اپنی پارٹی کے چیئرمین سے مارچ کے آخر میں دورے کی تاریخ طے کرنے کیلئے جانا چاہتا تھا۔ گزشتہ اخبار پر نظر پڑی تو کالم نویس دوست نے عمران خان کو اپنے سابق سسرالی رشتہ دار کی انتخابی مہم کیلئے مئی تک انگلینڈ بھیج دیا تھا۔ اس مفروضہ انتخابی مہم کا پورا چارٹ بھی جاری ہے۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر احسن رشید کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ گورے بھی عجیب لوگ ہیں اگر بچے کو اچھے سکول میں داخلہ مطلوب ہو تو بچے سے زیادہ والدین کا انٹرویو چاہئے لہٰذا موصوف اپنے بیٹے کو سکول داخل کروانے کے انٹرویو کیلئے لندن گئے ہیں اتوار کو واپس آجائینگے یعنی اس کالم کی اشاعت سے پہلے واپس آچکے ہونگے۔پاکستان میں بسنے والی بے چاری قوم کو کتنے ہی جان لیوا عوارض لاحق ہیں‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ بری حکومتیں‘ بدعنوانی محافظوں کی بے حسی‘ بھوک‘ افلاس‘ جہالت‘ ایسی ناقابل علاج بیماریوں کیساتھ ساتھ ہر روز نئے زخم کھانا‘ نئے صدمے سہنا اسکی قسمت کا لکھا ہے مگر کوئی ہمدرد ہے نہ غمگسار‘ زخموں سے چور‘ صدموں سے نڈھال‘ پھر بھی اسکی سخت جانی قابل تعریف ہے‘ بہتے گھاؤ میں ہر صبح مسکرا کے اٹھ کھڑے ہونا‘ پرسا دینے والوں کا دلاسا بن جانا اسی پر بس ہے دکھوں ماری قوم کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔ پنجاب میں خونریز دہشت گردی‘ بلوچستان میں آباد کاروں اور انتظامیہ پر حملے سرحد میں فوج کے مقابل کھلی جنگ‘ سندھ میں لسانی گروپوں کو بھڑکانے کیلئے غارت گری‘ سیاسی اتحادیوں میں کشیدگی پیدا کرنے کیلئے قتل عام‘ کبھی فرقہ وارانہ فسادات اٹھانے کیلئے علماء کی ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ شیعہ‘ سنی‘ دیوبندی علماء مسلسل نامعلوم قاتلوں کا نشانہ ہیں۔ ان فسادات کیلئے بھارت‘ روس‘ اسرائیل امریکہ‘ یورپ کے مفادات یکساں ہیں۔افغانستان‘ عراق‘ لبنان‘ صومالیہ میں مسلم نوجوانوں کی جانبازی اور قوت مزاحمت نے انہیں پریشان کر رکھا ہے۔ اس فکر سے نجات کیلئے وہ مسلمان عوام اور اقوام کو آپس میں لڑا دینا چاہتے ہیں تاکہ ان گلوخلاصی ہو سکے۔ علماء اور دیگر گروہوں نے اب تک کمال ضبط سے کام لیا ہے اس طرح دشمن کی چال کو ناکام رکھا لیکن حکومت کی سطح پر اندرون ملک دشمنوں پر قابو پایا جا سکا نہ بیرونی مداخلت کاروں کو انکی زبان میں جواب دیا گیا۔ امریکہ کے ڈرون حملے‘ انڈیا کی خفیہ سازشیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک برابر کا جواب نہیں دیا جائیگا‘ برابر کا جواب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور ریاست کی فوجی قیادت اگر ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی تو وہ ایسے لوگوں کیلئے جگہ خالی کر دیں جو اس چیلنج سے نمٹنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ سرحد پنجاب کی غارتگری کو مقامی طالبان کی دہشت گردی قرار دیں تب بھی سندھ اور بلوچستان میں ہونیوالے واقعات طالبان کا ایجنڈا ہرگز نہیں ہو سکتے۔ ان صوبوں میں برپا خونریزی مقامی نہیں بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ جس میں سبھی دشمن پاکستان کو بے حال کرکے بکھیر دینا چاہتے ہیں۔
ہوا مخالف شب تاربحر طوفان خیز
شکستہ لنگر کشتی و ناخدا خفتد
ہمارے حکمرانوں کا سوٹ‘ ٹائی کے بعد امریکی صدر کی نقالی میں ریڈیو پر خطاب کہتے ہیں نقل کیلئے عقل چاہئے ’’ریوس ٹیکنالوجی‘‘ نقل کا کمال ہے جس نے جاپان کو دنیا کی بڑی معیشت‘ کوریا کو ترقی یافتہ ملک‘ چین کو عالمی طاقت بنا دیا یہی اسکی معاشی اور فوجی طاقت کا راز ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے وجود میں آنیوالی ایجادات اسی نقل کیساتھ ملک اور ملک کے ہر گوشے تک پہنچ جاتی ہیں۔ پاکستان نے بھی دوسرے ملکوں کی طرح انہی نشان قدم پرچل کر بہت کچھ حاصل کیا۔ نقل میں تبدیلی کرکے کافی کچھ بنا بنا لیا۔ نقل کو عقل ضروری ہے انڈیا روسی ساختہ ٹینک کی نقل ’’ارجن‘‘ کے نام سے تیار کر رہا ہے۔ تین عشروں کے بعد بھی وہ ٹینک تیار نہ ہو سکا۔ پاکستانی ماہرین نے امریکی ٹیکنالوجی میں ماحول کیمطابق تبدیلی کرکے ’’الخالد‘‘ نامی ٹینک میدان میں لا اتارا جو ہمارے ماہرین کا قابل فخر کارنامہ اور فوج کا قابل اعتماد ہتھیار ہے۔ نقل عقل کیساتھ حیرت انگیز نتائج پیدا کرتی ہے۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ یہ بغیر عقل کی نقل کا نتیجہ ہے۔ اب کوے کی کوئی چال ہے نہ چلن بیچارہ اپنی بھول ہنس کی چل نہ سکا اب پھدکتا رہتا ہے۔
ہمارے وزیراعظم امریکی صدر کی نقل کو نکلے ریڈیو پر خطاب کیا۔ پہلے خطاب کا اثر دیکھے بنا اعلان ہوا کہ موصوف ہر مہینے کے پہلے جمعہ کو یہ مشق فرمایا کریں گے۔ کہتے ہیں خاموشی زیور ہے اور پردہ بھی۔ جناب گیلانی کیلئے خاموشی پردہ تو ہے مگر وہ پردے کے قائل نہیں۔ سات بجے شام انہیں قوم سے خطاب کرنا تھا جو بروقت سن نہ سکا خیال تھا کہ ہر گھنٹے بعد خبروں میں دہرایا جائیگا۔ باربار سنایا‘ دکھایا جاتا رہے گا بعد میں سن لیں گے۔ 10 بجے ٹیلی ویژن کھولا کسی بھی چینل میں ذرا برابر ذکر نہ تھا اگلے دو تین گھنٹوں میں کہیں وزیراعظم کا نام تک سننے کو نہیں ملا۔ ہارون الرشید بھی ہمراہ تھے۔ انکے اندر کا اخبار نویس بار بار سوال کرے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وزیراعظم خطاب کریں اور خبروں کے اوقات میں اس کا ذکر تک نہ ہو۔ تقریر میں خبریت کو چھوڑیں وزیراعظم اور صدر کا ایک پروٹوکول ہے۔ انکی کہی بات اہمیت نہ رکھے تب بھی جگہ گھیرتی ہے۔ اخبار ہو یا دیگر ذرائع انہیں ہر صورت شائع کرنا اہمیت دینا ہے۔ عرض کیا صبح اخبار میں دیکھ لیں گے۔ اگلی صبح نوائے وقت سامنے کے صفحے پر ایک کالم دو سطریں شائع تھیں جو کسی منتخب دیہاتی کونسلر سے بھی کم تر ہے۔ خطاب کے اعلان کی وقعت اصل خطاب سے زیادہ رہی‘ سارا دن چینل نشر کرتے رہے پٹی بھی چلتی رہی لیکن خطاب میں کوئی خبر تھی نہ معنویت اس لئے دوبارہ سنانے یا دکھانے کے قابل نہ جانا دو سالہ حکومت کے دوران کوئی کارنامہ سرزد نہ ہوا کہ قابل ذکر ٹھہرتا۔ کوئی وعدہ‘ امید‘ دلاسا ہی دیا ہوتا۔ پوری حکومت اسکے دانشور تقریر نویس ایک جملہ ایجاد نہ کر سکے جو دو کالم کی سرخی بن جاتا۔ امریکی صدر کو نقل کرنے سے بہتر تھا اسکی نقل اتار لی ہوتی تو زیادہ عرصہ موضوع بحث بنتی۔ یہ مقام عبرت ہے اگر کوئی حاصل کرے مگر بقول غالب…؎
ہنگامہ زنبوئی ہمت ہے انفعال
حاصل نہ کیجئے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
جب لوگ سنی ان سنی کرنے لگیں بلکہ منہ پھیر کے چل دیں تو خاموشی بلکہ کنارہ کشی میں عافیت ہے۔ اپنی رہ جانے والی عزت کو بچا رکھیں لوگوں کی عدم توجہی کو تمسخر بننے سے پہلے جو عوام کی زبان نہ سمجھ پائیں ان کی قسمت ویران گلیوں میں ٹھٹھے لگاتے تنہا گھومنا اور کبھی شرارتی بچوں کی افتاد طبع کا نشانہ بن جانا ہی رہ جاتا ہے۔ یہ صرف وزیراعظم پر ہی موقوف نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت اس نہج پر لگی ہے گویا بیوقوفی کے ساتھ پاگل پن کا عارضہ لاحق ہو…؎
نقل بغیر عقل کوے کی چال ہے
ہنس بن نہ سکا اپنی بھول گیا