نیشن سٹیٹ کا نظریہ اور پاکستان کی سلامتی

16 مارچ 2010
ڈاکٹر ہنز فری (HENZ FREY) امریکی شہری ہیں اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں سینئر پروفیسرہیں۔ آپ یونیورسٹی کے شعبہ ’’مرکز مطالعات برائے شمالی‘ جنوبی امریکہ اور افریقہ‘‘ سے وابستہ ہیں۔
26 فروری 2010ء کو پروفیسر موصوف نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ مرکز مطالعات برائے جنوبی ایشیا میں طلبہ سے خطاب کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے مذکورہ سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر مظہر سلیم نے بتایا کہ ڈاکٹر ہنز فری کی خواہش پر پنجاب یونورسٹی میں انکے لیکچر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ انکے لیکچر کا موضوع ’’جنوبی ایشیا میں قومیتی ریاستوں کا مستقبل‘ اتحاد اور استحکام‘‘ تھا۔ لیکچر خاصا پُرمغز ہونے کیساتھ ساتھ خطے میں حیران کن یہودی مصنوبہ بندی اور حکمت عملی کا مظہر بھی تھا۔ ڈاکٹر ہنز فری کا خیال ہے کہ 9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کی موجودہ ریاستوں کا نظام ناکام ہو گیا ہے اور وقت کیساتھ اس میں مزید زوال آئیگا۔ اس زوال کے شواہد یہ ہیں کہ موجودہ ریاستی نظام عوام الناس کو جانی‘ مالی اور معاشی تحفظ دینے سے قاصر ہے جبکہ موجودہ ریاستی نظام کے ڈھانچے میں عوام الناس کے بنیادی انسانی حقوق کی بھی شدید پامالی کی جاتی ہے۔
نیز 9/11 کے بعد جنوبی ایشیائی ریاستوں کا اپنے نظام اور تحفظ کیلئے مغرب کی مالدار اور ترقی یافتہ اقوام پر انحصار بڑھ گیا ہے اور یہ انحصار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ان ریاستوں کے حاکم اپنے ریاستی نظام کو چلانے کیلئے ریاستی اداروں کو نجکاری کے نام پر مغربی اقوام اور یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فروخت کر رہے ہیں نیز ان ریاستوں کا نظام دہشت گردی کی روک تھام میں بھی ناکام ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس ریاستی نظام میں حکومت اور عوام یعنی معاشرے کے درمیان دوری اور فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
حکومت نے عوام الناس کو معاشی تنگی یعنی غربت اور مہنگائی کے عفریت سے نکالنے کا کوئی حل نہیں نکالا۔ ریاستی نظام اور ادارے عوام الناس کو جانی مالی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ عوام پسماندگی اور مہنگائی کا شکار ہیں‘ ضروری اشیاء کی فراہمی بھی نایاب ہے‘ خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹر ہنز فری کیمطابق خطے کے عوام کی ترقی‘ جانی و مالی تحفظ اور معاشی ترقی کیلئے مغربی ترقی یافتہ اقوام اور ادارے یعنی ملٹی نیشنل کمپنیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور مزید کرینگے یعنی وقت گزرنے کیساتھ ساتھ خطے کی معاشی ترقی اور دفاعی ضروریات کی ذمہ داری مغربی طاقتوں کے ادارے ادا کرینگے۔ ڈاکٹر ہنز فری نے جنوبی ایشیا میں مغربی طاقتوں کا حقیقی اور معاشی حلیف چین ہے جس کیساتھ ملکر مغربی طاقتیں خطے کو معاشی ترقیاتی زونز میں ڈھالیں گی جو خطے کے عوام کو نسلی‘ لسانی‘ مذہبی‘ صوبائی اور تمدنی بنیادوں پر تقسیم کریگی اور اس طرح خطے کی تمام متصادم قومیتوں کو قومیتی ریاستی نظام Nation State Systam میں ڈھال دیگی جو اپنی معیشت اور دفاع مغربی اقوام کے حوالے کر دیں گے۔ مغربی اقوام خطے کی ترقی اور قومیتی ریاستوں کے قیام کی سعی بلامعاوضہ نہیں کریگی کیونکہ دنیوی ترقی مال سے ہوتی ہے اور مغربی اقوام بھی خطے میں صنعتکار‘ مال سازی کیلئے کرینگی۔
پروفیسر ہنزکے بقول خطے کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ دہشت گرد ہیں جو کراچی اور گوادر کی معاشی راہداری کو غیر محفوظ بنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا ان کا خاتمہ ضروری ہے۔