واحد حل کالاباغ ڈیم … (۱)

16 مارچ 2010
اصغر علی گھرال ۔۔۔
(6 مارچ) کے روزنامہ نوائے وقت کی شہ سرخی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ایک دردمندانہ اپیل پر محیط ہے فرماتے ہیں ’’ناقدین اخلاقیات اور حقائق کا دامن نہ چھوڑیں‘‘۔’’سیاست دان اور ماہرین پانی و بجلی کے مسائل حل کرنے کیلئے قابل عمل تجاویز دیں‘‘
میرے ہی نہیں۔ پانی و بجلی کے تمام ملکی اور عالمی ماہرین کے نزدیک اسکا واحد حل کالا باغ ڈیم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ اور آپکی حکومت سنتی کس کی ہے؟
(9 فروری کو) نوائے وقت کے پہلے صفحہ پر تین کالمی شہ سرخیوں کیساتھ ماہرین کے حوالے سے ندیم بسرا کی یہ رپورٹ چھپی تھی کہ ’پاکستان میں آئندہ برس پانی کی قلت 60 فیصد ہونے کا خطرہ۔ مزید لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہو جائیگی۔ کالا باغ ڈیم کے بغیر غذائی اجناس کی شدید قلت ہوگی اربوں روپے کا زرمبادلہ آٹے چینی دالوں اور دوسری اشیاء کو درآمد پر خرچ ہوگا۔ بھارتی ڈیموں کو رکوانے کی پالیسی غیر مؤثر ہوگئی۔ پاکستان میں چھوٹے ڈیم مسائل کا حل نہیں۔ ملک مزید بحرانوں کی طرف بڑھنے لگا۔ ماہرین ‘‘
10 جنوری کے روزنامہ جناح کی ایک رپورٹ نمایاں چھپی ہے صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں :
’’بھارتی آبی دہشت گردی کا دائرہ وسیع۔ پاکستانی دریاؤں سے ملنے والے ندی نالوں کا پانی بھی روک لیا۔ لاکھوں ایکڑ رقبہ بنجر ہو جائیگا۔
بھارت نے یہودی لابی کے اشتراک سے 230 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستان کیخلاف آبی دہشت گردی میں تیزی پیدا کردی۔ ظہور الحسن ڈاہر۔ 11 ڈیموں کی تکمیل سے دریائے چناب خشک ہو کر نالہ بن جائیگا جس میں سیوریج کا کیچڑ بہا کریگا۔ 2012ء تک بنگلہ ڈیم اور 2014 تک تربیلا ڈیم خشک ہو جائینگے۔
دریائے سندھ میں صرف20 فیصد پانی آ رہا ہے۔ پنجاب کی 19 بڑی اور 2791 چھوٹی نہریں 1105 معاون نہریں اور ایک لاکھ 6 ہزار کھالے بند ہوچکے ہیں۔پاکستان کا پانی روکنا محض شرارت نہیں۔ جارحانہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کیلئے 10 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ پاکستانی حکمرانوں نے باہمی جنگ و جدل چھوڑ کر ہوش کے ناخن نہ لئے تو 2025ء میں پاکستان صومالیہ اور ایتھوپیا بن جائیگا۔ ’’ورلڈ واٹر بینک‘‘۔
آپکی حکومت نے کرائے کے بجلی گھروں کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بنک سے جو مشورہ لیا تھا کیا اس صائب مشورے پر کان دھرا ہے۔ انہوں نے خوفناک حقائق سامنے لائے کہ بجلی اتنی مہنگی ہو جائے گی کہ ملک میں صنعت چل سکے گی اور نہ گھر ہی روشن ہوسکیںگے۔حتیٰ کہ اس ٹیکنیکل رپورٹ میں اس منصوبے کے پس پردہ مالی بددیانتی پر مبنی حرکات کے بارے میں بھی اشارے ملتے ہیں۔ سارے میڈیا نے اس کیخلاف دہائی دی۔ وزیر خزانہ جناب شوکت ترین نے شدید اختلاف کیا۔ حتیٰ کہ اب وزارت تک چھوڑنے پر مجبور ہوئے مگر کیا آپ کی حکومت نے کوئی صائب مشورہ قبول کیا ہے؟
سندھ کے نام نہاد قوم پرست ہی نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ اپنے بیانات میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے باقاعدہ ڈس انفرمیشن اور غلط فہمیاں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اگلے دن کہا کہ ہم بھاشا ڈیم نہیں بننے دینگے۔ اس سے سندھ میں پانی کم ہو جائیگا۔ واپڈا کے سابق چیئرمین اور معروف انجینئر شمس الملک نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر سے سندھ کے پانی پر کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ ڈیم کی مخالفت کرنیوالے سندھ کے خیرخواہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ بھاشا یا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب سرحد بلوچستان تمام صوبوں کے پانی میں اضافہ ہوگا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ کیا منگلا اور تربیلا ڈیمز وغیرہ بننے سے انکا پانی کم ہوا ہے یا زیادہ؟ ان بڑے ڈیموں کی تعمیر سے پہلے سندھ کو صرف 10 ملین ایکڑ فٹ پانی ملتا تھا۔ اب ان کو 14.7 ملین ایکڑ فٹ یعنی قریباً 50 فیصد زیادہ پانی مل رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب! کیا آپ نے کبھی اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے ملک دشمن بیانات کا نوٹس لیا ہے!
اگلے دن قومی اسمبلی میں محترمہ بشریٰ رحمان نے علی الاعلان فرمایا ہے کہ انکے پاس شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کے اندر بھارت نواز لابی کالا باغ ڈیم رکوانے کیلئے سرگرم ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وقت آنے پر میں ’ان مہربانوں‘ کے نام بھی ظاہر کر سکتی ہوں۔ جناب گیلانی صاحب! کیا آپ نے اپنی رکن قومی اسمبلی کے اس سنسنی خیز بیان کا نوٹس لیا ہے کیا آپکا فرض نہیں تھا کہ آپ ان سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیکر اس اہم مسئلہ پر مزید معلومات حاصل کرتے اور کوئی پیش رفت ہوتی۔ (جاری ہے)