A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

مبینہ دہشتگردی کی جنگ اور پاکستان امریکہ تعلقات

16 مارچ 2010
پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی صدر بارک اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال اگرچہ پیچیدہ ہے‘ تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے اور اوبامہ انتظامیہ کے دور میں پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ گزشتہ روز نیویارک میں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے سوات اور وزیرستان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اسکی مؤثر کارروائیوں کی وجہ سے القاعدہ اپنے اہم رہنمائوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ انکے بقول امریکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے‘ پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں طالبان کے مضبوط گڑھ میں داخل ہو کر انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا ہے اور امریکہ سمیت عالمی برادری کیلئے یہ انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج ماضی کی طرح سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہتی‘ پاکستانی فوج اب وہ نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اپنے مفادات کی جنگ میں امریکہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ کردار کا متمنی رہتا ہے اور اسکے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضوں کی کوئی حد ہی نہیں رہی مگر اس جنگ میں پاکستان اور اسکے عوام کو جو ناقابل تلافی بھاری جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے‘ اسکی تلافی کیلئے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا بلکہ ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘ کی ڈرامے بازی میں پاکستان کی امداد کیلئے کئے گئے وعدے و عید کو عملی جامہ پہنانے کی بھی اب تک نوبت نہیں آئی۔ امریکہ کی جانب سے کیری لوگر کے قانون کے تحت سالانہ ایک عشاریہ پانچ ارب ڈالر کے جس امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے‘ وہ پاکستان کو ملنے سے پہلے ہی اسکے کڑے آڈٹ کیلئے امریکی ایجنسیوں کے حکام پاکستان آدھمکے ہیں جبکہ اس رقم کے استعمال کی کڑی شرائط بھی پہلے سے متعین کردی گئی ہیں۔
امریکی مفادات کی اس جنگ میں سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں سمیت پاکستان کے شہریوں کی مجموعی 38 ہزار کے قریب جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور قومی و نجی املاک کی تباہی کی صورت میں قومی معیشت کو 36 ارب ڈالر کا پہنچنے والا نقصان اسکے علاوہ ہے اور سب سے افسوسناک یہ صورتحال ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی اس جنگ میں ہمارا وطن عزیز اور اسکے عوام ہی سب سے زیادہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں جبکہ دہشت گردی کا ملبہ بھی ہم پر ہی ڈالا جاتا ہے۔
ہالبروک کے بقول اوبامہ انتظامیہ کے دور میں پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری آئی ہے‘ اسکے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہالبروک کی زیر نگرانی تیار کی گئی امریکی ’’افپاک‘‘ پالیسی میں مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان ہی کو ہدف بنایا گیا ہے‘ اس پالیسی کی بنیاد پر ہی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو طالبان سے خطرے کا ڈراوا دیا گیا۔ امریکی بلیک واٹر یا زی تنظیم کے غنڈوں کو اسلام آباد سمیت پاکستان کے چپے چپے میں مسلح ہو کر آزادانہ دندنانے‘ ہمارے حساس مقامات تک رسائی حاصل کرنے اور ہمارے شہریوں کی گردن ناپنے کا آزادانہ موقع ملا جبکہ دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں بھی بلیک واٹر کے ارکان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا‘ پاکستان سے اپنے ہی شہریوں کیخلاف فوجی اپریشن کا دائرہ بڑھانے کے تقاضے کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں میں بھی شدت پیدا کردی گئی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی امریکی حکام کو باور کرا رہے ہیں کہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں ہی یہاں خودکش حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ مگر پاکستان کے اس پیغام کے ساتھ ہی ڈرون حملوں میں مزید شدت پیدا کردی جاتی ہے جبکہ ہمارے دیرینہ اور مکار دشمن بھارت کو بھی دہشت گردی کے پیدا کردہ ان حالات سے فائدہ اٹھا کر ہماری سالمیت کیخلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع مل رہا ہے۔ وہ نہ صرف امریکی زبان میں ہم سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کرتا ہے بلکہ اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان کے راستے ہماری سرزمین میں داخل کرکے یہاں دہشت و بربریت کا بازار گرم کر رہا ہے۔ ماڈل ٹائون‘ آر اے بازار‘ اقبال ٹائون اور سمن آباد لاہور‘ مینگورہ‘ سوات اور پشاور میں ہونیوالے دہشت گردی کے حالیہ سنگین واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد حکومت پاکستان کو مل بھی چکے ہیں جو گزشتہ روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی گئی بریفنگ کے موقع پر ہماری ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کئے گئے اور اسی بنیاد پر وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد حکومت کو مل گئے ہیں جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمیدگل نے بھی دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حکمران امریکہ سے ڈرتے ہیں‘ اس لئے تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں بھارت کا نام نہیں لیتے۔
مبینہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمیں پہنچنے والے نقصان کی یہ صورتحال شاید امریکہ اور بھارت کیلئے خوشگوار ہو مگر ہمارے لئے انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ امریکہ ہمیں اپنے مفادات کی جنگ کی آگ میں جھونک کر خود بھی ہماری سالمیت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ہمارے مکار دشمن بھارت کی سرپرستی کرکے اسے بھی ہماری سالمیت پر حملہ آور ہونے کا مکمل موقع فراہم کر رہا ہے۔ اگر امریکہ ہمارے ساتھ مخلص ہو اور دہشت گردی کا فی الواقع قلع قمع کرنا چاہتا ہو تو ہماری سرزمین پر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کا جائزہ لے کر وہ اپنے اس اتھرے گھوڑے کی باگ کھینچے اور اسے اپنے وجود سے باہر نہ نکلنے دے مگر اس خطہ میں امریکہ بھارت اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کے مفادات مشترکہ ہیں جن کا لب لباب اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت پاکستان کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹانے کی مذموم منصوبہ بندی ہے تاکہ اسکے بعد پوری مسلم امہ کو نکیل ڈالی جا سکے۔
اس صورتحال میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادتوں کو امریکی مفادات کی جنگ میں شریک رہنے کی مشرف آمریت والی پالیسی پر نظرثانی کرکے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار فی الفور ترک کر دینا چاہئے اور ملک و ملت کی سالمیت کیخلاف ہنود و یہود و نصاریٰ کی سازشوں کو بھانپ کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا اولین فریضہ نبھانے کی مکمل تیاری کرنی چاہئے۔ جہاں تک ملک کی مسلح افواج کے ماضی کی طرح سیاست میں حصہ نہ لینے کا معاملہ ہے‘ اس کیلئے افواج پاکستان کو نہ امریکہ سے کسی قسم کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہے‘ نہ ہالبروک افواج پاکستان کے نمائندے اور ترجمان ہیں۔ آئین پاکستان میں افواج پاکستان کا کردار متعین ہے اور جنرل کیانی کی زیر قیادت افواج پاکستان اپنا یہ کردار بخوبی نبھا رہی ہے۔ امریکہ کو اس پر خوش یا فی الحقیقت پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔
جڑواں بھائی پاکستانی قیدیوں کو رہا کرے
میڈیا رپورٹس کیمطابق مالاکنڈ کے 700 افراد 9 سال سے افغانستان کی جیلوں میں قید ہیں۔ جنگی سرداروں کے عقوبت خانوں میں موجود قیدیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد صوفی محمد کی سربراہی میں جہاد میں حصہ لینے کیلئے جانیوالوں کی تعداد 10 ہزار تھی۔ ان میں سے اکثر واپس نہیں لوٹے۔ صرف سوات سے تعلق رکھنے والے گمشدگان کی تعداد 3 ہزار ہے۔ افغانستان کی جیلوں اور وار لارڈز کے عقوبت خانوں میں موجود ہزاروں قیدی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے کچھ کو تاوان کے عوض رہا کیا جا چکا ہے۔ آج افغان تخت پر حامد کرزئی اگر متمکن ہیں تو اسکی بڑی وجہ نائن الیون کے بعد طالبان حکومت کا امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار اور اپنی روایات کیمطابق اسامہ بن لادن جیسے اپنے خیرخواہوں کا تحفظ تھا۔ امریکہ نے ظلم اور جبر کے ذریعے افغانستان کو الٹا کر رکھ دیا جس سے حامد کرزئی جیسے 2 نمبر لوگوں کے بھاگ جاگ اٹھے۔ قیام پاکستان کے بعد سے طالبان کے دور کے سوا کسی دور میں بھی افغانستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے بجائے جھلسا دینے والے تھپیڑے ہی آتے رہے۔ ایک دو روز قبل افغان صدر حامد کرزئی پاکستان تشریف لائے تو افغانستان کو پاکستان کا ’’جڑواں بھائی‘‘ قرار دیا۔ اب اپنے کہے کی کچھ لاج رکھیں۔ خواہ مخواہ ہزاروں جڑواں بھائیوں کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ وار لارڈز کی خواہش ہے کہ ہر قیدی تاوان ادا کرے‘ اگر یہ لوگ تاوان ادا کرنے کے قابل ہوتے تو 9 برس تک قید کی صعوبتیں کیوں کر برداشت کرتے۔ افغانستان میں کرزئی صاحب کی حکمرانی اور ڈالروں کیلئے وارلارڈز انکے محتاج بھی ہیں۔ ان پر دباؤ ڈال کرپاکستانیوں کی گلوخلاصی کرائیں اور پاکستانیوں سے بھری اپنی جیلیں بھی خالی کرائیں اور خود کو پاکستان کا جڑواں بھائی کہنے کا دعویٰ سچ ثابت کر دکھائیں۔
حکمران کس منہ سے منرل واٹر پیتے ہیں؟
پاکستان بھر میں عوام کو پینے کیلئے جو پانی فراہم کیا جاتا ہے‘ اس میں زہریلے اجزاء اور غلیظ مشمولات کی وجہ سے ملک بھر میں خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ لاہور اور کراچی میں تو کئی مقامات پر پینے کے پانی کے پائپ سیوریج کے پائپوں سے متصل اور ملے ہوئے پائے گئے ہیں مگر اب اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایسے مریض بکثرت آرہے ہیں جن کو پانی کے زہریلے اثرات کی وجہ سے شدید نوعیت کی بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں۔ معاصر دی نیشن کی رپورٹ کیمطابق یہاں بے شمار ایسے مریض ہیں جنکے ہاتھوں اور پائوں کی ہڈیاں پانی کے زہریلے اثرات کی وجہ سے ٹیڑھی ہو گئی ہیں اور یہ لوگ اپنے معمولات کیلئے معذور ہو گئے ہیں اور بہت سے شہریوں کے ہاتھوں میں انتہائی مہلک بیماری کی وجہ سے داغ نمایاں ہو گئے ہیں۔
ملک میں جو بھی حکومت ہو‘ عوام کیلئے روزگار‘ صحت جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت اور سر چھپانے کیلئے ٹھکانا فراہم کرنا حکومت وقت کا فرض ہے اور حکمران ہی ان تمام ذمہ داریوں کے حامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں حکمرانوں کے بقول ایک جمہوری اور عوام کی نمائندہ حکومت موجود ہے مگر یہ کیسی حکومت ہے جو عوام کو نہ تو اشیائے خوردنی ازقسم آٹا گندم‘ چینی‘ چاول‘ گھی‘ دالیں فراہم کر سکتی ہے‘ بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتی چلی جا رہی ہے‘ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقات کی تنخواہیں دو برسوں میں چار گنا کر دی گئی ہیں مگر ملک کے غریب شہری جنکے ادا کئے ہوئے ٹیکسوں سے یہ سب لوگ تنخواہیں حاصل کرتے ہیں‘ تاکہ یہ عوام کی خدمت کر سکیں‘ مگر عوام کو اسکے بدلے میں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ حکمران غریب عوام سے چھینے گئے ٹیکسوں کے عوض غیرممالک سے منگوایا ہوا منرل واٹر پیتے ہیں‘ انکے بچے غیرممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ حکمرانوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ غور کریں کہ وہ اس ملک کے غریب عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ کیا انہوں نے پھر کبھی عوام کے سامنے نہیں جانا؟ جن کو پینے کا صاف پانی بھی حکمران نہ دے سکیں‘ انکے پاس ووٹ حاصل کرنے کیلئے کس منہ سے جائیں گے؟ کم از کم اتنا ہی کر دیں کہ کیری لوگر کے قانون کے تحت امریکہ سے لی جانے والی امداد میں سے جو رقم بے نظیر انکم سپورٹ کے کھاتے میں شامل کرائی گئی ہے‘ وہ ہی شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے کسی منصوبے پر استعمال کرلی جائے۔
علم اور تعلیم کو مہنگا نہ ہونے دیں
کاغذ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رواں سال کلاس اول سے دہم تک کی نصابی کتب اور کاپیاں جس میں کالج اور یونیورسٹی کی سطح کی نصابی کتب بھی شامل ہیں‘ کاغذ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقریباً دس فیصد مہنگی ہو رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ پبلشرز نے جن لوگوں کو نصابی کتب کیلئے ایڈوانس دے رکھا ہے‘ ان سے معاہدہ سے ہٹ کر رقوم وصول کی جا رہی ہیں اور اگر کاغذ کی قیمتوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو پھر غریب طلباء و طالبات کیلئے نصابی کتب کی خریداری ناممکن ہو جائیگی۔ اس صورتحال کے حوالے سے تعلیمی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت کاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے وگرنہ یہ قیمت بڑھتی جائیگی۔ تعلیمی ضروریات کے پیش نظر مہذب ممالک میں تعلیم کو سوسائٹی کا ایک انتہائی حساس معاملہ خیال کیا جاتا ہے اسلئے حکومتیں کاغذ اور طباعت کی قیمتوں کو کم سے کم کی سطح پر رکھنے کیلئے پوری کاوش کرتی ہیں۔ کاغذ بنانے والی فیکٹریوں کی مدد کی جاتی ہے‘ سیاہی اور پرنٹنگ مشینری بنانے والے اداروں کی معاونت کی جاتی ہے‘ ان پر کم از کم ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی سہولت دی جاتی ہے تاکہ تعلیم حاصل کرنیوالوں اور مطالعہ کے طلب گاروں کو ذرہ بھر بھی دقت یا پریشانی نہ ہو۔ ان تمام سہولتوں کے باوجود مہذب ممالک میں بے شمار مخیر افراد اور ادارے طلباء و طالبات کیلئے کتب کی فراہمی وظائف اور انعامات دیتے ہیں تاکہ مالی کمزوری کی وجہ سے کوئی شخص تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ پاکستان بھی ایک مہذب اور دین اسلام کی دولت سے مالا مال ملک ہے‘ ہمارے راہبر اعظمؐ نے تو علم حاصل کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی ہے‘ اسلئے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ملک میں کاغذ کی قیمتوں کو بڑھنے نہ دیا جائے اور طلباء و طالبات کے علاوہ مطالعہ کرنیوالوں کیلئے بھی کتب مہنگی نہ ہونے دیں۔