سید محمد قاسم رضوی

گزشتہ کالم میں سید محمد قاسم رضوی کے ساتھ ایک ملاقات کا ذکر تھا اس گفتگو میں انہوں نے کہا مجھے یاد ہے کہ میں تحریک پاکستان کے سلسلہ میں تین مرتبہ لائل پور آیا ہوں میرا پہلا دورہ (1942ء) میں سر چھوٹورام کی ایک انتخابی مہم کو ناکام بنانے کے سلسلہ میں تھا اس وقت صوبہ میں یونینسٹ راج تھا اور آنجہانی سر چھوٹورام زمیندارہ لیگ، جسے جاٹ لیگ بھی کہا جاتا تھا، کی تنظیم کے سلسلے میں یہاں اپنا سالانہ جلسہ منعقد کرنے والے تھے۔ میں طلبہ کا ایک وفد لے کر جب یہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے زمیندارہ لیگ کی جلسہ گاہ سے باہر کی تمام حدود میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے لیکن ہم نے فی الفور لائوڈ سپیکر کا انتظام کیا اور اسے جلسہ گاہ کی اس حد پر نصب کردیا جہاں دفعہ 144 نافذ نہیں تھی۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ میں کسی وقفہ کے بغیر مسلسل مائیکرو فون کے ذریعے مسلمانوں کو زمیندارہ لیگ کے جلسے میں شمولیت سے منع کرتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمیندارہ لیگ کا پنڈال حاضرین سے بالکل خالی رہا اور سر چھوٹو رام سورگ باش ہوگئے… یہ تھا لائل پور میں میرا پہلا دورہ۔
دوسری مرتبہ حاجی عبداللہ مرحوم کے الیکشن کے سلسلے میں ادھر آنے کا اتفاق ہوا، حاجی صاحب مرحوم کا مقابلہ ذیلدار محمد قاسم سے تھا، میں طالب علموں کی ایک جماعت کے ساتھ گوجرہ کے علاقہ میں گیارہ روز تک بس پر سفر کرتا رہا ہوں۔ لائوڈ سپیکر بھی اس بس میں نصب کیا ہوا تھا۔ ہم اس بس میں دن بھر گھومتے پھرتے اور پھر رات کو بھی اسی میں قیام ہوتا۔ گیارہ روز کی اس مہم میں ہمیں اکثر چنوں پر قناعت کرنا پڑی اس مہم میں میرے ہمراہ بعض دوسرے طلبہ کے علاوہ اکبر یزدانی اور مسٹر عزیز بھی تھے ان میں اول الذکر آج کل فوج میں میجر ہیں اور موخرالذکر پہلے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں تھے اور آج کل مرکزی حکومت کے پول ڈیپارٹمنٹ میں ہیں، یہ دورہ اس لحاظ سے بہت ہی کامیاب تھا کہ عام مسلمان ہماری ’’تبلیغ‘‘ سے بے حد متاثر ہوئے، ہم اس وقت محسوس کررہے تھے کہ عام لوگ تعصب سے بہت بُلند ہیں اور اصول پرستی کا بہترین نمونہ… کردار کی مضبوطی ان کے چہروں سے جھلک رہی تھی اور اپنا ذاتی نقصان کرکے بھی اصول پرستی کو ترجیح دیتے تھے۔ افسوس کہ یہ کیفیت پھر کبھی دیکھنے میں نہ آئی۔تیسری مرتبہ لائل پور آنے کا اتفاق اس وقت ہوا جب ہم فیڈریشن کی تنظیم کے سلسلے میں مختلف سکولوں کا دورہ کررہے تھے اس موقعہ پر شاہ جیونہ ضلع جھنگ کے ایک جلسۂ عام میں بھی شریک ہوئے جس میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پہلی مرتبہ پنجابی زبان میں تقریر کی، یہ تقریر بے حد اثر انگیز تھی جلسے کا اہتمام سید عابد حسین اور میجر مبارک علی شاہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ واپسی پر میاں دولتانہ نے لائل پور میں بھی تقریر کی۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے وفد میں میرے ہمراہ محمد نواز مرحوم بھی تھے، ہم یہاں تمام سکولوں میں گئے اور فیڈریشن کی شاخیں قائم کرنے میں ہمیں خوب کامیابی ہوئی۔لائل پور کے دوسرے دورہ کے سلسلے میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں سر چھوٹورام کے جلسے کو کامیاب کرنے کے لئے جلسہ گاہ سے باہر جب دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی تو میں ایک وفد لے کر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا تھا۔ مگر وہ ہماری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ تھے اور اپنے موقف کی حمایت میں بھی اُنہوں نے کوئی دلیل پیش نہیں کی، میں اُن کی کوٹھی پر بھی گیا مگر وہاں بھی یہ صورت پیش آئی کہ انہوں نے کوئی بات سنے بغیر ہمیں اپنی کوٹھی سے باہر نکال دیا۔میں نے جب یہاں پچھلے دنوں ڈپٹی کمشنر کے عہدہ کا چارج لیا تھا تو موجودہ ڈسٹرکٹ کونسل ہال اور ڈپٹی کمشنر کی قیام گاہ کا جائزہ لیا پرانی یادوں کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں کا ماحول پہلے سے کہیں مختلف ہے۔میں ڈپٹی کمشنر کی قیام گاہ کے اُس گوشے میں کھڑا ہوکر یہ بھی سوچتا رہا کہ خدا کرے کوئی ایسا موقع نہ آئے کہ کوئی شخص کوئی جائز اور صحیح مطالبہ لے کر آئے اور میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں جو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے میرے ساتھیوں سے روا رکھا تھا۔
اس وقت یہاں کے مقامی مسلم لیگی راہنما بھی بڑے ’’محتاط‘‘ تھے اور ہمارے طلبہ کے توجہ دلانے کے باوجود اُنہوں نے ہماری مہم میں ہمارا کوئی ہاتھ نہ بٹایا۔ بلکہ وہ کسی حد تک ہماری ان سرگرمیوں کے مخالف بھی تھے۔بیتے لمحوں کی یادوں میں مجھے شہید عبدالمالک بھی یاد آرہا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت لاہور میں نہیںتھا جب اس جانباز طالب علم نے جامِ شہادت نوش کیا، ہم پچیس طالب علم چوہدری خلیق الزماں کے الیکشن کے سلسلے میں لکھنؤ گئے ہوئے تھے اس مہم میں ہم نے ایک پائی تک بھی مسلم لیگ کے فنڈ سے خرچ نہیں کی بلکہ تمام خرچ اپنی جیب سے کیا۔
لاہور کے چند جلسے بھی ہماری زندگی کے ان سرگرم ایام کی یادوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اس جلسۂ عام میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ادا کررہا تھا جو اسلامیہ کالج لاہور کی گرائونڈ میں منعقد ہوا تھا۔ قائد اعظم مرحوم اہالیان لاہور سے خطاب فرمارہے تھے کہ اچانک ایک بے وقت اذان کی آواز سنائی دی قائدِ اعظم تقریر کے دوران یکا یک رک گئے اور مجھ سے سوال کیا، ’’یہ اذان کا کون سا وقت ہے؟‘‘ اس کے بعد اذان ختم ہونے تک خاموش کھڑے رہے۔ کچھ لمحوں بعد علامہ مشرقی باوردی خاکساروں کے ایک مضبوط ’’جیش‘‘ کے ساتھ سٹیج کی طرف آدھمکے، علامہ مشرقی نے آتے ہی مرحوم قائدِ اعظم سے تقریر کی اجازت طلب کی۔ قائد اعظم مرحوم نے علامہ مشرقی کو مختصر اور قانونی جواب دیتے ہوئے کہا، ’’جلسہ کے منتظم تو رضوی صاحب ہیں ان سے پوچھ لیجئے میں تو مہمان ہوں‘‘چنانچہ علامہ مشرقی میری جانب متوجہ ہوئے میں نے اُن سے عرض کیا کہ پہلے قائد اعظم کو تقریب سے رخصت ہولینے دیجئے۔
قائداعظم نے تقریر ختم کی ہی تھی کہ علامہ مشرقی نے مائیکرو فون پکڑ لیا، میں نے ان سے مائیکرو فون چھیننے کی کوشش کی مگر یکایک مشرقی صاحب کے ساٹھ ستر رضاکار بیلچوں سمیت سٹیج پر آدھمکے، اس اثناء میں ہمارے ایک کارکن نے لائوڈ سپیکر کی تار کھینچ دی جس سے یہ بے کار ہوگیا، ادھر مشرقی صاحب کے رضاکاروں نے قناتوں اور شامیانوں کی رسیاں کاٹنا شروع کردیں۔ جس کے نتیجے میں بہت سے شامیانے حاضرین پر آگرے۔مجھے اس وقت اپنے چھوٹے قد سے فائدہ اٹھانے کا خوب موقع ملا میں بالکل محفوظ تھا حالانکہ بعض دوسرے کارکنوں کی گردنیں شامیانوں کے بوجھ سے دوہری ہورہی تھیں۔(جاری) 

ای پیپر دی نیشن