چَھن و چَھنَک

کھیل کے میدان میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ’عاجزانہ پسپائیوں‘ پر شکستہ دل پاکستانی قوم کے لئے یہ خبرِ خیر تو باعثِ تعظیم و تکریم ہوگی کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے شعبہ قانون کے طالب علم، اسرار کاکڑ، آکسفورڈ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور احمد نواز کے بعد اسرار کاکڑ یہ اعزازی حیثیت حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی باشندے جبکہ پہلے بلوچی شہری قرار پائے ہیں۔ موصوف نے یونین کا صدر منتخب ہونے کے بعد روایتی پشتون لباس زیبِ تن کرکے پہلی تقریر کی جو لائقِ ستائش ہے۔
اللہ کرے کہ وہ اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹیں اور بلوچستان اور پاکستان کیلئے اپنی تعلیم، ذہانت اور صلاحیت کو بروئے کار لا کر کوئی اہم کردار ادا کریں۔ پاکستانی ناؤ کو بھنور سے نکالنے کیلئے اسرار کاکڑ جیسے نوجوان ہی امید کی ایک موہوم سی کرن بنتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ موجودہ تمام بزرگانہ لاٹ مایوسی اور وعدۂ فردا کے سوا قوم کو کچھ بھی تو نہ دے سکی۔ اسرار کاکڑ جیسے ذہین و فطین نوجوان نئی سوچ اور تازہ ولولوں سے لیس ہو کر آئیں اور ملک و قوم کو موجودہ زبوں حالی سے نکالنے کی کوئی کامیاب سبیل کریں۔ تاہم، قومی کرکٹ ٹیم اور اسرار کاکڑ کا شکریہ کہ اِن کی بدولت پاکستانی قوم کو فکر اور فخر کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ 
یوں تو ہمارے سابقہ وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بھی اسرار کاکڑ کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اْن کا دور کئی حوالوں سے متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دلچسپ بھی رہا ہے۔ گندم اسکینڈل کے معاملے پر بحث کے دوران حکومتی رہنما حنیف عباسی نے مبینہ طور پر انوار الحق کاکڑ پر تنقید کی تو انہوں نے ’فارم 47‘ کے حقائق سامنے لانے کی دھمکی دے ڈالی۔ کوئی انوارالحق کاکڑ کی خدمتِ اقدس میں یہ عرض کرنے کی جسارت کرے کہ جناب عالی! انتخابات کے بعد فارموں کا ’رولا‘ کس کے دورِ حکومت اور کس کی سربراہی میں پڑا؟ نیز یہ کہ اِس کی ذمہ داری کس پر عائد ہونی چاہیے؟ 
 1993ء میں کاکڑ فارمولے کا بڑا چرچا رہا۔ اِس حوالے سے 18 جولائی 1993ء کے دن کو پاکستانی تاریخ کا ایک یادگار اور دلچسپ دن قرار دیا جا سکتا ہے۔ کاکڑ فارمولے کے تحت پہلے وزیراعظم، نواز شریف نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دی پھر غلام اسحاق خان، صدر پاکستان قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ یوں اپنے وقت کی اِس جوڑی نے ہائے دل اور ہائے گل پکارتے ہوئے ایک ساتھ اقتدار کے ایوانوں سے اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔ ہمارے اربابِ اختیار کا شروع دن سے وطیرہ رہا ہے کہ ہم عہدہ چھوڑ دیتے ہیں مگر ضد، ہٹ دھرمی اور انا نہیں چھوڑتے۔ بعض اوقات اِن چیزوں کو ملکی مفادات سے بھی زیادہ مقدم، مقدس اور محترم سمجھتے ہیں۔ ایک معروف لکھاری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ’’بندہ ضائع کر دیتا ہے فقرہ ضائع نہیں کرتا‘‘۔ کم و بیش یہی حال ہماری مضبوط اور مستقل بنیادوں پر قائم و دائم اشرافیہ کا ہے۔
 پی پی پی سندھ کے سینئر نائب صدر منظور وسان نے انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف، وزیراعظم پاکستان 3 ماہ میں اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ منظور وسان کسی زمانے میں جو سیاسی خواب دیکھتے تھے وہ من و عن عوام کو سنا دیا کرتے تھے۔ تب پیشین گوئیاں اور انکشافات کرنا شیخ رشید احمد کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ لگتا ہے منظور وسان نے خوابوں کے کاروبار کو خیر باد کہہ کر شیخ رشید احمد کا کام سنبھال لیا ہے۔ کبھی چپ نہ رہنے والے شیخ رشید احمد شاید حالات کے جبر کے سامنے بے بس ہونے کی بنا پر خاموشی کے ساتھ آنے والے سازگار حالات کی امید پر خود کو ’ری-چارج‘ کر رہے ہیں۔ 
 بظاہر پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی ن لیگ سے دور دور، خفا خفا اور تنے تنے سے دکھائی دیتے ہیں مگر قوم خاطر جمع رکھے، اسمبلیاں توڑنے یا حکومت کی رخصتی کا سرِ دست کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ہما کے سرپرستوں کا دستِ شفقت موصوفہ کے سر پر موجود ہے۔ سیاسی طور پر پوائنٹ سکورنگ کا چکر چلتا رہتا ہے۔ آخر اپنے ووٹروں کو مطمئن اور حکومت کو ایک حد میں رکھنا بھی تو ضروری ہوتا ہے!! آصف علی زرداری اور شہباز شریف دونوں مفاہمت کے ماہر ہیں۔ ایک صدر مملکت ہیں تو دوسرے ملکی وزیر اعظم۔ کیا وہ چاہیں گے کہ 18 جولائی 1993ء کا سورج دوبارہ سے طلوع ہو؟ 
حکومت کو پی ٹی آئی سے فی الحال کوئی خاص خطرہ نہیں کیونکہ حکومت کو یقین ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’پہلی سی محبت‘ پیدا نہیں ہو سکتی۔ سٹریٹ پاور رکھنے والی جماعت اسلامی نئے سرے سے صف بندی ترتیب دینے میں مصروف عمل ہے۔ ہاں! البتہ مولانا فضل الرحمن کا رعب و دبدبہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے باعثِ فکر و تشویش ضرور ہوگا۔ مولانا کو زبان و بیاں پر کلی دسترس حاصل ہے۔ وہ اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کیلئے الفاظ کا چناؤ اتنی عمدگی کے ساتھ کرتے ہیں کہ اس سے بڑے بڑوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ وہ ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور جب کر لیں تو آسانی سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔
 سیاست دانوں میں آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میاں برادران ان کو رام کرنے کے چاہے جتنے جتن کریں، مولانا اتنی آسانی سے قابو آنے والے نہیں ہیں۔ اِس وقت وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو جس طرح آڑے ہاتھوں سے لے رہے ہیں، پاکستان میں ایسا صرف گفتار و کردار کا کوئی غازی ہی کر سکتا ہے۔ شاید انکی کوئی ویڈیو یا فائل تیار نہیں ہو سکی جو ان کی زبان بندی کا باعث بن سکتی ہو۔ 
اب تو خیر سے موجودہ حکومت نے اپنا پہلا سالانہ بجٹ بھی پیش کر دیا ہے جو اِس وقت ہر مکتبہ فکر میں زیرِ بحث ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے حسبِ روایت اکنامک سروے آف پاکستان شائع ہو چکا ہے جس میں ملکی معیشت کی صورتحال اعداد و شمار، گوشواروں اور گرافوں کی مدد سے پیش کی گئی ہے۔ کہنے کو تو یہ بجٹ ہمارے وزیر خزانہ نے تیار اور پیش کیا ہے مگر سب کو معلوم ہے کہ بجٹ دستاویز کا ایک ایک لفظ آئی ایم ایف کی مشاورت اور مرضی سے لکھا گیا ہے۔ اب تو ہمارے عَمائدِین بھی برملا کہنے لگے ہیں کہ ملکی مالیاتی معاملات آئی ایم ایف کی مالی معاونت کے بغیر نہیں چل سکتے۔ کہنے کو تو ہم جوش خطابت میں ’’زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں‘‘ جتنا مرضی کہتے رہیں لیکن یہ حقیقت اَظہر مِنَ الشَّمس ہے کہ ہماری زندہ دلی اور پائندگی ایک بین الاقوامی ادارے کے ہاں گروی رکھی ہوئی ہے اور ہم مالیاتی طور پر اْس کی مرضی کے بغیر دو قدم بھی نہیں چل سکتے۔

ای پیپر دی نیشن