سپریم کورٹ: ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لیے   وفاقی محتسب کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل ، کمیٹی کے ارکان کے تبادلے پر بھی پابندی عائد

16 اپریل 2018 (21:26)

  سپریم کورٹ نے ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور کمیٹی کے ارکان کے تبادلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت کی طرف سے  جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی جس میں وفاقی محتسب سید طاہر شہباز، سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، وفاقی سیکرٹری وزارت کیڈ ، سیکرٹری فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ اور گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبائی سیکریٹریز برائے تعلیم نے شرکت کی ۔اس موقع پر چیف جسٹس نے آئین کے آرٹیکل 25میں تعلیم کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیے جانے کے حوالے سے اپنے وژن سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی اہمیت کی حامل ہے جب تک ریاستی اداروں کی طرف سے تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انکا کہنا تھا کہ تعلیم کے حوالے سے پالیسی بنانا عدالت کا کام نہیں ہے لیکن ہر شہری کا بنیادی حق ہونے کی وجہ سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یقینی بنائیں کہ گورنمنٹ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اس لیے ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ چیف جسٹس نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، اس کے ٹی او آرز کے لیے کم از کم وقت میں اپنی سفارشات دیں جن میں ملک کے موجودہ تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے حوالے سے تجاویز شامل ہونی چاہیں تا کہ شہریوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔ چیف جسٹس نے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ  اس ٹاسک کی تکمیل تک کمیٹی کے ارکان بشمول  سیکریٹریز یا افسران  کا تبادلہ نہ کیا جائے ۔