بلوچستان میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کیا: ناصر جنجوعہ

16 اپریل 2018 (18:32)

مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کیا،بلوچستان 8ملکوں سے تجارت کرنے میں معاون ہوسکتا ہے،سی پیک خطے میں امن اور خوش حالی کےلئے ضروری ہے جبکہ مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کوسالانہ 10 فیصد اقتصادی ترقی کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا،بجٹ کبھی بھی 4یا 6ماہ کا نہیں ہو سکتا،آئندہ سال کا مالیاتی منصوبہ بنا کر پیش کیا جائے گا، انتخابات کے بعد جو بھی حکومت تشکیل پائے اگر اسے بجٹ منظور نہ ہو تو اس میں ترامیم کر سکتے ہیں، پاکستان کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتے ہیںتاہم کسی کے اوپر بھی ٹیکسز کا دباﺅ نہیں ڈالیں گے۔ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصر جنجوعہ نے پاکستان سرمایہ کی جنت بارے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کیا،بلوچستان 8ملکوں سے تجارت کرنے میں معاون ہوسکتا ہے،سی پیک خطے میں امن اور خوش حالی کےلئے ضروری ہے،بلوچستان کا امن پاکستان کے امن سے منسلک ہے، عالمی امن کےلئے پاکستان کا امن ناگزیرہے، دنیا نے اگر ترقی کرنی ہے تو اس کا راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے، پاکستان تصادم کا نہیں تعاون کا نام ہے، ترقی خوشحالی و کامیابی کا سورج پاکستان کی سرزمین سے طلوع ہونا ہے، سی پیک سے نہ صرف بلوچستان، پاکستان روشن مستقبل کی جانب گامزن ہیں بلکہ اس منصوبے سے دنیا کی 80فیصد آبادی کا مستقبل جڑا ہوا ہے،سی پیک کے تحت بلوچستان میں گوادر،پسنی اور جیوانی سمیت 4بڑے شہر آباد ہوں گے جو دنیا کی توجہ حاصل کریں گے، پاکستان ایک ایسی طاقت کا نام ہے جس نے 1970کی افغان جنگ سے لے کر آج تک ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ہمیں فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں چیلنج کیا گیااور ہم ہر امتحان میں سرخرو ہوئے، پاکستان نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ معاشی مرکز بن کر ابھر رہا ہے،پاکستان مواقعوں کی سرزمین ہے اور امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال نے یہ ثابت کردیا ہے،پاکستان جنوبی ایشیائ، وسطی ایشیائ، افریقہ، یورپ و دیگر خطوں کےلئے راہداری ہے ہم بنیادی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں جن کی بنیاد پر مستقبل کو روشن کرنا ہے،دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نے اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کیا،عالمی برادری پاکستان کا ساتھ دے، پاکستان مواقع کی زمین ہے سرمایہ کار فائدہ اٹھائیں،فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں ہماری صلاحیت اور طاقت کو ٹارگٹ کیا گیا،بلوچستان کو صنعتی شعبہ قرار دیا جائے،بلوچستان میں ہوا اور سورج سے بجلی بنانے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے،بلوچستان میں چار بڑے شہر بنانے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر سرمایہ کاری سے متعلق سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کی رفتار سے مطمئن نہیں لہٰذا اسے اور زیادہ ہونا ہے جب کہ پاکستان کوسالانہ 10 فیصد اقتصادی ترقی کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں معاشی پالیسیز درست سمت ہیں، معاشی ترقی کی شرح 5 سال میں ساڑھے 4 فیصد سالانہ رہی تاہم معاشی ترقی کی رفتار سے مطمئن نہیں، اسے اور زیادہ ہونا ہے، پاکستان کوسالانہ 10 فیصد اقتصادی ترقی کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ رواں سال روپے کی قدر میں 10 فیصد تک کمی ہوئی، روپے کی بے قدری کے باوجود مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا، روپے کی قدر میں کمی آزادانہ پالیسی کی وجہ سے ہوئی، روپے کی قدر میں کمی سے مارچ میں برآمدات 24 فیصد بڑھیں، آئندہ دو ماہ میں برآمدات 20 فیصد مزید بڑھیں گی۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں صنعت، زراعت اور خدمات سمیت تمام شعبوں میں ترقی ہوئی، آج ملک میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی اضافی بنائی جارہی ہے، بجلی اور گیس موجود ہے، صنعتی ضرویات پوری کرسکتے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں معیشت کی بہتری کےاقدامات کیے گئے، رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 5.8 فیصد رہے گی، مہنگائی کی شرح کو4 فیصد سے نیچے رکھا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف دے رہے ہیں، ٹیکس میں متوسط طبقے کو ریلیف دیا جارہا ہے جب کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے زمین نہیں خرید سکیں گے، نادرا کے ساتھ مل کر ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھائیں گے، ٹیکس چور غیر ملکی دورےکرتے پھرتے ہیں اور ٹیکس نہیں دیتے، نادرا 10 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا دے رہا ہے جو ٹیکس دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کی نصف آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے،آئندہ چند سال میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا،مسلح افواج نے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا،ماضی میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے،چند ماہ میں برآمدات اورترسیلات زرمیں بھی اضافہ ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایکسپورٹ پیکج کے تحت پاکستان کی ایکسپورٹ ڈبل ہو چکی ہے،اگلے کچھ مہینوں میں تجارتی خسارے میں کمی ہو گی،لاءان آڈر کے مسائل کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معیشت کو نقصان پہنچا،توانائی بحران کے باعث پاکستان کی انڈسٹری جو بند ہو چکی تھی اسے بحال کیا جا رہا ہے،گورنمنٹ نے پانچ سالوں میں توانائی بحران پہ قابو پایا اور ایل این جی بھی امپورٹ کی،مشرف کے وقت میں شروع ہونے والا نیلم جہلم اور لواری ٹنل منصوبے موجودہ گورنمنٹ نے مکمل کئے۔انہوں نے کہا کہ حویلی بہادر شاہ اور بلوکی ایل این جی پاور پلانٹ موجودہ گورنمنٹ کی کاوشیں ہیں،تھر میں پہلی مرتبہ مائننگ ہو رہی ہے اور کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ بھی پائپ لائن میں ہے،اکانومی ریفارمز میں ٹیکس کی شرح انتہائی کم کر دی ہے،نادرا اور ایف بی آر کے اشتراک سے نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا،لوگ کراچی،لاہور، اسلام آباد میں جائیدادیں خریدتے ہیں مگر ٹیکس ادا نہیں کرتے ،اب اگر لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے تو جائیداد نہیں خرید سکے گے،دوہزار بیس تک تمام پراپرٹی ایف بی آر کے ڈاکیومینٹس میں شامل ہو گی،پاکستان میں تمام ٹیکسز کی شرح کم ہو رہی ہے،ایمنسٹی سکیم کے ذریعے لوگوں کی جنتی سرمایہ کاری بیرون ملک ہے وہ پاکستان میں آ سکتی ہیں،اگر پاکستان میں کوئی بھی جائیداد خریدنی ہو گی تو پہلے ٹیکس ہیئر ہونا ضروری ہو گا۔اس موقع پر سیکرٹری بورڈ آف انوسٹمنٹ سمیرا نذیر صدیق، آذربائیجان کے سفیر علی علی رضا، ترکی کے سفیر احسان مصطفی یردکل، چائنہ اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیاﺅخواو دیگر نے خطاب کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔