کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں، حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں: چیف جسٹس

16 اپریل 2018 (16:33)

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہےکہ پیمرا آزاد ادارہ ہونا چاہیے اور حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرنا چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کرےگا۔اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتوں کے اندر ہوجائے گا۔
لوگ خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں غیرت ہوتی توخود سامنے آتے،جسٹس ثاقب نثار
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت میں بھارتی وزیر ریلوے لالو پرشاد کا نام لیا، میری معلومات غلط تھی، لالو پرشاد لا گریجویٹ ہیں، میری اس بات پر طلعت حسین نے آسمان سر پر اٹھالیا، کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے، کسی نے فیصل رضاعابدی کا انٹرویو دیکھا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصل شیر ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں، نااہلی کیس پر فیصلے کے بعد ہی نعرے لگے، عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، لوگ خواتین کو ڈھال کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی توخود سامنے آتے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیا کی آزادی عدلیہ کی آزادی سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے محکمہ ریلوے میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ بھارت کا وزیر ریلوے لالو پرشاد ان پڑھ آدمی تھا، لیکن ادارے کو منافع بخش بنایا، ہمارے ہاں صرف جلسوں میں ریلوے کے منافع بخش ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، اصل صورتحال مختلف ہے۔