میڈیا کمیشن کیس:سپریم کورٹ نے مریم اورنگزیب کو پیمراچیئرمین انتخاب کےلئے تشکیل کردہ سرچ کمیٹی سے نکال دیا

16 اپریل 2018 (12:49)

سپریم کورٹ نے وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کو پیمر اچیئرمین کے انتخاب کے لئے تشکیل کردہ سرچ کمیٹی سے نکال دیا‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے‘ اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کرتے ہیں‘ نااہلی کیس کے بعد ہی عدلیہ مخالف نعرے لگے‘ قانون کے برخلاف ہم نے کوئی کام نہیں کرنا‘ چیئرمین پیمرا کیلئے صاف ستھرا شخص آنا چاہئے‘ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بہت آگے بڑھ چکی ہے‘ چیئرمین پیمرا پروفیشنل اور آزاد ہونا چاہئے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے مریم اورنگزیب کو چیئرمین پیمرا سرچ کمیٹی سے نکال دیا‘ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مریم اورنگزیب کو بیانات دینے سے ہی فرصت نہیں ہے مریم صاحبہ کے ہوتے ہوئے کمیٹی آزادانہ کام نہیں کرسکتی۔ لالو پرساد کا نام کچھ دن پہلے لیا تھا لالو کا نام لینے سے اینکر نے طوفان برپا کردیا۔ لالو پرساد کے حوالے سے میری اطلاعات غلط تھیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے سات رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی کمیشن میں نمایاں صحافی اور چیئرمین پی بی اے کو شامل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کام پر تو بہت وقت لگ جائے گا رانا وقار نے کہا کہ یہ کام تین ہفتے کے اندر ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کے حوالے سے کیا کیا گیا؟ قانون کے برخلاف ہم نے بھی کام نہیں کرنا چیئرمین پیمرا کیکلئے صاف ستھرا شخص ہونا چاہئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا قانون کا آرٹیکل 5 بڑا اوپن ہے حکومت کو آرٹیکل 5 کے استعمال کا اختیار ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ چیئرمین پیمرا پروفیشنل اور آزاد ہونا چاہئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہئے۔ کسی کی تذلیل کرنا مقصود نہیں ہے نااہلی کیس کے بعد ہی عدلیہ مخالف نعرے لگے خواتین کو ڈھال کے طور پر سامنے لے آتے ہیں۔ غیرت ہوتی تو مرد خود آگے آتے جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ بات زبان سے آگے بڑھ گئی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوئی تو میڈیا کمزور ہوگا۔ اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کردیں گے۔ قانون بازوں کو قانون میں ترمیم کے لئے تجویز نہیں کرسکتے حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرنا چاہتے ہیں.