اوپن یونیورسٹی میں تین روزہ ادبی میلہ ادب اور سوشل میڈیا اختتام پذیر

16 اپریل 2018

اسلام آباد (نا مہ نگار)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہ تین روزہ لٹریچر کارنیوال کے تیسرے دن "ادب اور سوشل میڈیا"پر خصوصی سیشن کے مقررین نے کہا کہ سوشل میڈیا سے ادب کو فروغ ملا ہے اور ادب پھیلانے کا کام آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ایک بہترین فلیٹ فارم ہے۔سبوخ سید اس سیشن کے معاون تھے جبکہ شرکاء گفتگو میں یاسر چھٹہ ٗ شاہد اعوان اور وسعت اﷲ خان شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ادب پڑھنے اور لکھنے کے خواہشمند افراد کے لئے سب سے موثر ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے چینل بنوائے ہیں جن میں وہ ادبی شخصیات کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں بحث مباحثے کرتے ہیں اور اسی طرح سوشل میڈیا ادب پھیلانے میں نہایت اہم کردار ادا کررہا ہے۔زاہدہ حنا کے ساتھ ملاقات کے معاونین فاطمہ حسن اور حمیرا اشفاق نے زاہدہ حنا کی تعارف میں اُن کی ادبی سفر کی کہانی اور کامیابیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔کتابوں کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ اختر عثمان کی کتاب "چراغ زار "کی تقریب رونمائی کے معاون قاسم یعقوب تھے اور شرکاء میں افتخار عارف اور منظر نقوی شامل تھے۔ فاروق عادل کی کتاب "جو صورت نظر آئی"کی تقریب رونمائی کے معاون جنید آذر تھے جبکہ شرکاء میں خورشید ندیم ٗ محمد حمد شاہد اور وجاہت مسعود تھے۔اختتامی تقریب کی صدارت کرتے ہوے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ اس طرح کے محافل تواتر سے منعقد کرانے کا واحد مقصد یونیورسٹی کو علمی ٗ ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں کا گہورا بنانا ہے تاکہ نئی نسل ملک کے ممتاز شخصیات کی زندگیوں کو فالو کرکے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔