شارٹ فال 3 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ، شہروں دیہات میں 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ

16 اپریل 2018

اسلام آباد/ لاہور/ کراچی (خصوصی نمائندہ+ ایجنسیاں+ نامہ نگاران) ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 3 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ مختلف شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا۔ اتوار کو ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی طلب 18500 میگا واٹ جبکہ پیداوار پندرہ ہزار پانچ سو میگا واٹ ہے۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں دو گھنٹے سے لے کر سولہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ زیرو لوڈشیڈنگ والے مزید 588 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ اب زیرو لوڈشیڈنگ والے فیڈرز کی تعداد 5297 سے گھٹ کر 4709 ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں خراب فیڈرز کی تعداد 469 ہے 129 فیڈرز پر مرمتی کام کی اجازت دی ہے۔ ڈسکوز کے 34 فیڈرز پر غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر اور گردو نواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور بجلی کی بندش کا دورانیہ 15گھنٹے سے تجاوز کرگیا ہے۔ شہری حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری ختم کیا جائے۔ بھاگٹانوالہ اور گردونواح میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ مشینوں پر کام کرنے والے مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے گھروں اور مساجد میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ سیالکوٹ میں لوڈشیڈنگ کا جن بوتل سے باہر نکل آیا۔ شہری علاقہ میں پانچ جبکہ دیہی میں سات سے آٹھ گھنٹوں تک بجلی بند کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں اتوار کو چھٹی کے دن بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ مجبوری میں کررہے ہیں۔ جب تک پوری گیس نہیں ملتی لو ڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ دن بھر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا ستم برداشت کرتے شہریوں کو رات کو بھی سکون میسر نہیں۔ پانی کے حصول میں بھی شہریوں کو دشواری کا سامنا ہے۔دوسری طرف محکمہ موسمیات نے ایک بارپھر ملک بھر میں بارشوں اور تیزہوائوں کی نوید سنا دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، کوئٹہ، ژوب، قلات، خیبر پختونخواہ، فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشیں متوقع ہیں۔ملک میں بجلی کے نظام میں خسارہ 24 سو سے 28 سو میگاواٹ ہے جس کو پورا کرنے کیلئے 8 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے تاہم لیسکو میں بجلی کی ڈیمانڈ اور سپلائی برابر ہے جس کے باعث لیسکو میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ موسم بہتر ہونے کے بعد بجلی کی ڈیمانڈ میں کمی آئی ہے۔ ہائیڈل جنریشن تقریباً 7 ہزار میگاواٹ کی بجائے 1 ہزار میگاواٹ فراہم ہو رہی ہے جبکہ آئی پی پی، تھرمل اور آر ایل این جی سے 13 ہزار میگاواٹ پیدا کی جا رہی ہے تاہم اس کے باوجود بجلی کی ڈیمانڈ 17 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے۔ حکومت آئی پی پی، تھرمل سے بجلی مہنگی پیدا کر کے صارف کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ وزارت پاور آئی پی پی اور تھرمل سے بجلی مستقل بنیادوں پر فراہم نہیں کر سکتی کیونکہ اب دونوں ذرائع سے پیدا ہونے والا یونٹ عام صارف کو فروخت کرنے والے یونٹ سے کئی گنا مہنگا ہے۔ جون، جولائی میں بجلی کی ڈیمانڈ 21 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے سے صارفین کو اس حساب سے بجلی فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعلان کردہ منصوبوں میں سے چند ایک منصوبے شروع ہوئے مگر نیشنل گرڈ میں ان منصوبوں سے 2 ہزار میگاواٹ سے کم بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ صارفین کی بجلی کی ڈیمانڈ بڑھنے سے بجلی کی جنریشن کم ہونے سے مئی، جون، جولائی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں حیران کن اضافہ ہو سکتا ہے۔