اعتراف ِ سیاست

16 اپریل 2018

گزشتہ ہفتے کیا میاں صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ مجھے میمو گیٹ کیس کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا ۔ سیاست اور اعتراف ِ سیاست میں بڑا فرق ہے یہاں سیاست تو سب کرتے ہیں مگر اعتراف ِ کم کم ہی نظر آتی ہے اور خیر سے بڑے میاں صاحب کی سیاسی ڈکشنری میں لفظ( اعتراف) اپنی سیاسی غلطیو ں کا اعترف کر لینا اور وہ بھی اس طرح میڈیا کے سامنے یہ بڑی بات ہے یہ درست ہے کہ اپنی سیاسی غلطیوں کا اعتراف کر لیں اعترف کر لینے والا اصلاح کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور جب انسان کی اصلاح ہونے لگے تو وہ مزید غلطیوں سے بچنے لگتا ہے مجھے کیوں نکالا والی دہائیاں دینے سے محفوظ رہتا ہے لفظ مجھے کیوں نکالا نعرہ سا لگنے لگا ہے الیکشن کی آمد آمد ہے مجھے کیوں نکالا والا نعرہ عوام کو الیکشن سے قبل سننے کو ملا میاں صاحب اسے اپنی جیت کا حصہ بنا سکتے ہیں وہ اس نعرے کی بجائے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے چلے جائیں اور الیکشن جیت جانے کے بعد ان غلطیوں کو دوبارہ نہ کرنے کا اعلان بھی کرتے چلے جائیں اور ووٹ لیتے چلے جائیں عوام تو ویسے بھی ایک عرصہ ہوا بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہے الیکشن جیت جانے کے بعد میاں صاحب دوبارہ حکومت مل جانے کے بعدیہی غلطیاں کریں اور ایک بار پرنکالے جانے کے بعد نعرہ بلند کر دیں مجھے کیوں نکالا ؟ سب سے پہلے اعتراف کریں کہ میں تین بار اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوا جو کام کرنے والے تھے وہ نہ کیئے اور جو کام نہ کرنے والے تھے وہ کرتا چلا گیا اور اقتدار کے ایوانوں سے نکا لا جاتا رہا میاں صاحب اعتراف کریں کہ میں دو تہائی اکثریت سے بھی کامیاب ہوا مگر عوام کو( کالا باغ ڈیم)کا تحفہ نہ دے سکا کالا باغ ڈیم تو ایک طرف کوئی چھوٹا ڈیم بھی نہیں بنا سکا ۔ اعتراف کریں کہ عوام بجلی گیس کی دوہائی دیتی رہی اور میں نہ ہی بجلی کی پیدوار میں ایک یونٹ کا اضافہ کر سکا اور نہ ہی گیس عوام کو مہیا کر سکا ۔ اعتراف کریں یا نہ کریں ان کی وزارت ِ بجلی یہ اعتراف کر چکی ہے کہ اس وقت بھی گرمی کی ابتداءکے ساتھ ہی ملک میں 2800 سومیگاواڈکا شاٹ فال چل رہا ہے اور مملکت ِ خداداد میں آٹھ آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ شاٹ فال میں مذید اضافہ ہو گا اور لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ 2013ءکے انتخابات جیت جانے کے بعد شریف خاندان نے ماڈل ٹاو¾ن میں اپنی رہائش گاہ کی بالکونی میں ہاتھ لہرا لہرا کر نوید سنائی کہ اس پانچ سالہ دور میں عوام کو بجلی کے اندھروں سے نکا ل دیں گے مگر عوام کو بجلی کے اندھروں سے تو نہ نکال سکے عوام کو نعرہ ضرور دے دیا مجھے کیوں نکالا ۔اعتراف کریں کہ میں ملک سے غربت بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمہ کیلئے کو ئی بہتر پالیسی نہی بنا سکا اعتراف کریںکہ میں مملکت ِخداداد کے اندر سے کرپشن کے خاتمہ میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا میاں صاحب ماضی کو یاد رکھتے ہوئے یہ اعتراف کرتے کہ جب میری حکومت کو ختم کر کے مجھے گرفتار کر لیا تھا تو کراچی سے خیبر تک کون سے لوگ سڑکوں پر نکلے، میاں صاحب یہ اعلان کرتے کہ عوام مجھے اگلے الیکشن میں ووٹ دے کر کامیاب کریں میں دوبارہ صرف عوامی خدمت کرونگا ۔میاں صاحب اعتراف کریں کہ مملکت ِ خداداد میں سیلاب آتے رہے اور میں ان کی روک تھام کیلئے کوئی منصوبہ نہیں بنا سکا میاں صاحب اعتراف کریں کے ہر سیلاب کے بعد مملکت ِ خداداد میں اربوں ڈالر کی بہرونی امداد آئی مگر اس امدادا کے آنے کا ریکارڈ تو ہے جانے کی خبر نہیں کہ یہ امداد گئی کہاںمیاں صاحب اعتراف کریں کہ میں جب اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوتا ہوں تو مجھے عوام یاد آجاتی ہے اور جب اقتدار کے ایونوں میں داخل ہو جاتا ہوں تو سب سے پہلے عوام کی یاد دل سے نکالتا ہوں ۔ اعتراف کریں کے مجھے تین بار عوام نے اپنی ووٹوں کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں داخل کیا اور میں اقتدار کے ایوانوں سے تین بار ہی نکالاگیا ، گزشتہ روز اعجازالحق نے بیان میں میاں صاحب کے حوالے سے واضع کیا ہے کہ نواز شریف کا نظریہ اداروں سے محاذآرائی کا ہے انہوں نے یہ بھی وضاحت کر دی کہ یہ نظریہ میرا نہیں ہے میاں صاحب بھی حقیقت پر مبنی یہ اعتراف خود بھی کر لیں۔ اگر وہ کالا باغ ڈیم بنا دیتے تو ملک میں ہر طرح سے خوشحالی ہی خوشحالی ہوتی نہ سیلاب آتا اور نہ ہی مملکت ِ خداداد میں لوڈشیڈنگ ہوتی اور جو بجلی عوام کو استعمال کرنے کو ملتی وہ بھی پچاس پیسے یونٹ ملتی کارخانے فیکٹری یوں بند نہ ہوتیں کاروباری یونٹ یوں دوسرے ممالک میں منتقل نہ ہوئے ہوتے ۔میاں صاحب اعتراف کریں کہ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو ملک میں زراعت کو فروغ ملتا غربت کا خاتمہ ہوتا عوام ایسے بدحال نہ ہوتے مملکت ِخداداد میں الیکشن الیکشن کا میلہ سجنے لگا ہے میاںصاحب جگہ جگہ مجھے کیوں نکالا،مجھے کیوںنکالا والامیلہ لگانا چھوڑیں میاں صاحب اگر حقیقت پر مبنی یہ اعتراف سیاست کرلیں تو پھر انہیں شائد جگہ جگہ مجھے کیوں نکالا والا میلہ لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اللہ تعالی ٰمیرے وطن اور عوام کی حفاظت فرمائے (آمین)