نیب ریفرنس‘ صدر نیشنل بنک سعید احمد نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

16 اپریل 2018

اسلام آباد (وقائع نگار) نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے نیب کے ضمنی ریفرنس میں نامزد کئے جانے کے خلاف ان کی اپیل مسترد کرنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ نیب نے ان کو صرف اس بنیاد پر ضمنی ریفرنس میں نامزد کر دیا ہے کہ وہ اسحاق ڈار کی مضاربہ مینجمنٹ کمپنی میں ڈائریکٹر تھے اور ایک عرصہ سے اسحاق ڈار کو جانتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب نے فرض کر لیا ہے کہ کیونکہ ان کے نام سے کھولے گئے جعلی بینک اکائونٹوں سے رقم کی منتقل ہوئی اس لئے انہوں نے اسحاق ڈار کو ناجائز اثاثے بنانے میں معاونت فراہم کی ہو گی۔ صدر نیشنل بینک کا کہنا ہے کہ پاناما فیصلے میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نیب نے مشہور زمانہ کاشف مسعود قاضی فیملی، شیخ سعید، موسی غنی اور جاوید کیانی کے ناموں کو ریفرنس میں شامل نہیں کیا جبکہ ان کو صرف اسحاق ڈار سے تعلق ہونے کی بنیاد اور ان کا نام استعمال ہونے پر ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔ نیب نے ضمنی الزام لگایا ہے کہ سعید احمد، ملزم اسحق ڈار کی ہجویری مضاربہ مینجمنٹ کمپنی میں نان ایکزیکٹو ڈائریکٹر تھے اور ان کے نام پر کمپنی کے سات ہزار شئیرز بھی منتقل کئے گئے تھے۔ ضمنی ریفرنس میں نیب نے اعتراف کیا ہے کہ سعید احمد نے ان بینک اکاونٹوں کو کبھی خود استعمال ہی نہیں کیا۔