مفادات کی لڑا ئی

16 اپریل 2018

حالات کچھ بھی ہوں ہمیں ملکی مفاد کو پیش نظر رکھنا چاہئے مگر یہ مفاد کیا ہے اس کو ذاتی مفاد جب بنا دیا جاتا ہے تو پھر نقصان پورے ملک کا ہوتا ہے ۔پچھلے ایک سال سے ملک میں ذاتی اور ملکی مفاد کا تماشہ لگا ہوا ہے ۔میاں محمد نواز شریف کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اس کا کس کو فائدہ ہوگا سب کو معلوم ہے مگر اس سے ملک کا کیا نقصان ہوا ہے اس بارے میں وقت بتائے گا ۔مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھوں میں دی ہوئی ہے ۔ میاں محمد نواز شریف کے خلاف سازشیں حکومت سنبھالتے ہی شروع ہوگئیں میاں صاحب نے بھی وقتی طورپر اس کا مقابلہ کیا ہے اور جب تھوڑے عرصہ بعد وہ اپنی پرانی ڈگر پر چل پڑے مگر ان کے مخالفین بھی پیچھا چھوڑنے والے نہیں تھے وہ پیچھا کرتے رہے آخر میں وہی ہوا جو ہر سیاستدان کے ساتھ ہوتا آیا ہے ۔ محمد خان جونیجو سے لیکر بے نظیر بھٹو ¾ یوسف رضا گیلانی سب کے سب اسی طرح خوار ہوئے جس طرح میاں صاحب اب ہوئے ہیں۔عدالتیں اس وقت تک مداخلت نہیں کرتی جب تک ان سے رجوع نہ کیا جائے ۔ پچھلے کئی سالو ں سے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ایک خلاءچھوڑاگیا جسے تنگ آکر عدالتوں نے پورا کیا ۔ سیاسی حکومتوں کے خلاف جب بھی کوئی آئین کی مدد سے رجوع کرے گا تو عدالتیں پابند ہیں کہ اس کو سنیں مگر یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ عدالتیں اپنے دیگر کیسز پر بھی توجہ دیں۔ن لیگ کی حکومت سپریم کورٹ میں کسی بھی کیس میں اپنی صفائی پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز رشریف نااہل ہوئے پھر اب ان پر تاحیات پابندی بھی لگا دی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایک شخص جو تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں جس کا دعویٰ ہو کراس کے ایٹمی دھماکے کئے اور ملکی ترقی میں اہم کردارادا کیا پھر میں بھی اسے نااہل قرار دیا جائے اور وہ کیسزمیںکوئی صفائی نہ دے سکے تو پھر سوالات تو پیدا ہوتے ہیں ۔کہیں نہ کہیں توگڑبگڑ کی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اس طرح کے حالات پیدا کرکے عدلیہ ہی کے ذریعے پھانسی دیدی گئی ۔
سیاستدانوں پر جلد اورآسانی سے الزامات لگتے ہیں اور ان کو نشانہ بھی بنا دیا جاتا ہے یہ کیوں ہوتا ہے یہ ایسے سوالات ہیں جن پر سیاستدانوں کو خود سوچنا چاہے ۔اقتدار میں آنے پر سیاست دان اداروں کو کمزور اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ ان اداروں کو اپنی ذات کیلئے استعمال کرسکیں ۔ہر دور میں چاہئے وہ سیاسی ہو یہ غیر سیاسی ۔ہر ایک نے اداروں کو کمزور کیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہتی ہے ۔جب عدالتیں انہیں بلاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی
جواب نہیں ہوتا کیونکہ غلط کاموں کا جواب کبھی کسی کے پاس نہیں ہوتا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں مسلم لیگ ن نے خاص طور پر اداروں کو اتنا کمزور کیا کہ اب وہ کام کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتے ہیں ۔ اپنے لوگوں کو بری طر ح ایسے نوازا کہ تمام قواعد کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔عدالتوں میں جب ان سے اس حوالے سے سوال کئے جاتے ہیں توپھر یہ خاموش کھڑے منہ دیکھتے رہتے ہیں ایسے میں عدالتیں ان کے خلاف ہی فیصلے دیں گی ان کے حق میں فیصلہ کیسے آ سکتا ہے ۔ مسلم لیگ ن کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس نے کبھی بھی ڈنگ سے حکومت نہیں کی ہے ۔بھلا تین بار ایک پارٹی کا وزیراعظم رہا ہو اسے پھر سے عدالتیں نکال دیں تو اس کا طلب ہے یہ ہوا ہے کہ اسے سیاست ہی کرنا نہیں آتی ہے ۔ تیس سال سے اقتدار میں رہنے کے باوجود ان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا اور اس کا بھی ان کے پاس جواب نہیں تو پھر بتایا جائے کہ اس میں کس کا قصور ہے ۔ سٹیل مل سے لیکر پی آئی اے اور دیگر ادارے تباہ حال ہو چکے ہیں عدالتوں میں ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس میں عوام کا کیا قصور ہے ۔ حکومت میں صرف اس لئے تو نہیں آیا جاتا ہے کہ اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی حالت بدلی جائے عوام خوار ہوتے رہیں ۔اب یہ لوگ خوار ہو رہے ہیں اور عوام ایک طرف کھڑے ہو کر ان کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ہمارے ہاں یہ بھی ظلم ہے کہ کوئی ادارہ اپنی حدود میں نہیں رہتا ۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر فن مولا ہے ۔ سیاست ¾ انتظامیہ ¾ جنگی حکمت عملی ¾واپڈا ¾ تکنیکی تمام ادارے چلانے کی صلاحیت ہر شخص میں درجہ اتم پائی جاتی ہے ۔ سیاستدان سیاست کریں تو ان کیلئے بہتر ہے فوج سرحدوں پر چوکس رہے تو یہ اس کیلئے بہتر ہے انجینئر اور ڈاکٹر اپنا اپنا کام کریں تو پھر کبھی بھی عدالتوں کو مداخلت کا موقع نہیں ملے گا ۔ کچھ عرصہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے اور یہ بات مان لینی چاہئے کہ سیاستدانوں کاحکومت کرنا اب اتنا آسان نہیں رہا ہے کیونکہ ان پر مختلف زاویوں سے خود ساختہ چیک موجود ہے ۔ یہ ادارے جب چاہئیں کسی کو بھی گھر بھیج سکتے ہیں ۔ ہاں یہ الگ بات ہے ان کے پاس ان کے تدارک کا راستہ ہے وہ ہے پارلیمنٹ کا جسے کبھی بھی اہمیت نہیں دی گئی ۔ ذاتی مفادات کیلئے قانون سازی کر لیں توپھر بھی بچ سکتے ہیں جب کوئی آکر آئین کو کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے تو پھر یہ اس آئین کو گلے سے لگا لیتے ہیں اور پھر اسی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جنرل ضیاءاورپرویز مشرف کی ترامیم کو یہ نہیں نکال سکے اور ہر بار اسی کا نشانہ بنے یں سیاستدانوں کو اب اتنے جھٹکے لگ چکے ہیں اب وہ آئین اور پارلیمنٹ کو اہمیت دیں گے اور اداروں کو قانون کے مطابق چلائیں گے نہ کہ اپنی منشاءکے مطابق چلائیں گے۔اس کے بعد یہ پھر کبھی نہیںکہیں گے کہ ووٹ کو عزت دو ۔ چور راستے اور کسی غیر مرئی قوت کا سہارا لیکر آنے والے کبھی عدالت او ر کبھی اس غیر مرئی قوت کے ہاتھوں رسوا ہوتے رہیں گے ۔ اس وقت ڈرائی کلینر میں کلین ہونے والے سیاستدانوں کی بھول ہے کہ ان کو عزت ملے گی ۔ ان کا حشر بھی جلد ن لیگ کی طرح ہونے والا ہے۔