تھینک یو.... چیف صاحب

16 اپریل 2018

آپ کا ہر بیان میرے اور میرے وطن عزیز وادی کشمیر اور جموں کیلئے ایک الگ حشیت رکھتا ہے،کیونکہ آپ جس حثیت سے بول رہے ہیں، اس کا الگ مفہوم ہے،الگ مطلب اور ا اثر ہے آپ کا بیان مجھے اور میری قوم کو تنہا ئی کے گٹھا ٹوپ اند ھیر ے سے نکال کر یہ احسا س دلاتا ہے کہ نفسا نفسی کے اس عالم میں بھی ، جب امت مسلمہ داخلی اور خا رجی انتشار میں الجھی ہوئی ہے ،آپ نے حو صلے،ہمت، کما ل تدبر اور حکمت عملی سے دشت گردی کے منحوس سائے سے قوم کو با ہر نکالا بلکہ اس وقت قوم کی رہنمائی کی جب پوری دنیا پاکستا ن کی ہر ایک فالٹ لائن کو استعمال کرکے اس کے چولے ہلانے پر کمر بستہ تھا،زرائع ابلاغ نے ایسی ایجنڈا سٹننگ کی تھی کہ ہر دہشت گردی کے واقعے کے ڈانڈے پا کستان سے ملانے کی روائت چل پڑی تھی، نائن الیون کا ملبہ ہرطریقے اور ہر زاوئے سے پا کستان پر گرایا جارہا تھا،قضئے کے ہر عالمی محقق کے مقلالموں میں پاکستا ن کی زکر استعارہ بن گیا تھا،کیونکہ نو ستمبر کا معرکہ پاکستان اور پاکستا نی قبائلی علاقوں میں پاکستانی سر زمین میں پاکستا ن کے خلاف لڑا گیا،جو محب وطن پاکستا ن کو عا لمی اور علاقائی تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ِان کے نزدیک یہ معرکہ انتہائی پیچیدہ تھا کیونکہ اس کے سیاسی ، نفسا تی ،سماجی اور نظریاتی پہلوبھے تھے،اس کا سب سے خوفناک زاویہ یہ تھا کہ مغلو ب قوتیں اب اپنا جنگ دوسروں کے سرزمیں پر لڑنے کے حوالے سے پوری ڈاکڑائن پر عمل پیرا ہیں ِ، اس ڈاکڑائن کا اصل ایندھن نان سٹیٹ ایکٹر ہیں جن کو کما ل مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے،اس بے رحم جنگ کا سامنا بہت ممالک نہ کرسکے اور انتشار کا شکار ہوگئے اس طرح سٹیٹ ایکٹر وں کو ریاستی اور عالمی ایجنڈا کے لئے استعمال کرنے کا فن اب تیسری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا چلینج ہے کیونکہ یہ فن اب جدت اختیار کر چکا ہے اور ایک بہت بڑی انڈسٹری بھی،اس میں اب زیرزمیں کا م کرنے والے مافیہ گینگ بھی دلچسی لٰینے لگے جو پہلے صرف ہتھیار سپلائی کیاکرتے تھے،اب یہ لوگ ہتھیاروں کے سپلائی کے ساتھ ساتھ ہیومن ریسورس کے بھی تاجر ہوگئے،بھارتی خفیہ اداروں نے نا صرف عفریت کو پاکستان کے خلاف ہمارے ہمسایو ں کے سرحدوں سے استعمال کیا بلکہ پا کستا ن کے سرحدوں سے براہ راست بھی،اور کشمیر میں بھی ککہ پرے اور SPOکے شکل میں ،بھارتی میڈیا بھی حرےت پسند کو علیحدہ پسنداگروادی،شورش پسند اور پھر دہشت گرد ہوگیا،2002 کے سیز فائر کے بعد جدوجہد آ ذادی کے عسکری محاز کا با ب بند ہوگیا،اس طرح رفتہ رفتہ بھارتی بھاری عسکری قوت نے چوٹی کے حرےت پسندوں کو نگل لیا،2008,2010,2014,2016 کے سانحات نے جدوجہد کو نئی جہت دی،آذادی کے متوالے قطعی اور کلی طور داخلی وسائل پر انحصار کرنے لگے اسطرح جزبہ حر یت چوتھی نسل کے پا س اصل حالت میں منتقل ہوئی جو خالص داخلی اسبا ب کی اصل شکل تھی، یہ وہ مختلف مواقع تھے جہاں ہمیں بھرپور اور ہمہ جہت سفارتی امداد کی اشد ضرورت تھی،کیونکہ تحریک انتہائی آخری سٹٰیج پر پہنچ چکی تھی،اور وہاں سے ریاست کا کام شروع ہونا تھا ،عین وقت پر سفارتی مدد کیلئے ایک مکمل اور جا مع حکمت عملی کی طلب تھی ،اس طرح کے مواقع پھر آئیں گے اگرکحچھ بنیادی معاملات پر غور کریں ِ،عام حالات میںتحریک کی کیا آ خری حد ہے اور جب دس لاکھ سے زائد کشمیری سڑکوں پر نکل آ ئی، اور مسلسل تین ماہ ہڑ تال پر رہیں،جب ایک ہی دن میں ۲۰سے زیادہ ہلاکتیں ہوں ،اور پاکستان کے علاوہ کوئی ایک کے بھی نہ بو لیں،تو یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ ریاست سفارتی سطح ُپرانسانی حقوق کو مارکیٹ کرنے میں ناکام رہی ہے، اگرچہ بین الاقوامی امور کے ما ہرین کے نزدیک نو ستمبر کے سائیڈ ایفیکٹ ابھی مکمل زائل نہیں ہوئے ہیں ،مگر ان حالات سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ ریاست Indegenious face کوعالمی فورموں میں نمایاں کریں ِ ، جس کا ایک پورا میکنرم موجود ہے، اس طرح اگر سیکیورٹی کونسل میں مطلوبہ حما یت کی توقع نہیں ہے تو جنرل کونسل پر کا م کیا جا ئے ،اگر یہاں بھی مشکلات ہیں تو سیکرٹری جنرل کے پاس جو خصو صی حالا ت میں آر ٹیکل۹۹ کے تحت اختیارات ہیں،اس پر دوست ممالک کو ساتھ ملاکر کام کیا جائے،اور اگر یہا ں بھی با ت نہیں بنتی تو پھر زیادہ سے زیادہ NGOsجن کا ECOSAC status ہو، ان کی وسا طعت سے کشمیریوں کا درد اقوام عالم تک پہنچا نے کے سببیل نکالی جائے،اس سے پہلے کہ اور سا نحہ پیش آ جا ئے اور پھر ہماری تیاری نہ ہو کیونکہ Statte is fundmentail unit of analysis and International actor which shall begin and end with state بحرحال ،چیف صا حب، آپ کا بیان کسی عظیم نعمت سے کم نہیں.... بہت بہت ،شکریہ