انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ اور اقوام عالم

16 اپریل 2018

فلسطین کے علاقے غزہ میں یوم الارض ریلیوں پر اسرائیلی فوج نے نہتے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے وہ پہاڑ توڑے ہیں جنہیں تاریخ سیاہ حروف میں یاد رکھے گی۔ کیا قوم ہے، گولیاں برستی رہیں، لاشے گرتے رہے، زخمی سینہ تانے آگے بڑھتے رہے، دنیا نے دیکھا۔ سفاک اسرائیلی، بے ضمیر اقوام متحدہ، تماش بین برطانیہ اور امریکہ کب تک یہ ظلم روا رکھیں گے؟ 1948میں برطانیہ کی سازش نے ایک آزاد اور خود مختار ملک فلسطین کے پیٹ میں چھراگھونپا۔ امریکہ نے ہاں میں ملائی۔ وہ دن گیا آج تک لاکھوں لوگ جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، شہادت کا اعلیٰ رتبہ پا چکے ہیں لیکن ان کے پاوں ڈگمگائے نہیں۔ ان کے جذبے اب بھی جواں ہیں۔منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو قتل کیا جارہا ہے اورجبراَ بے دخل کیا جارہا ہے۔ اب بیچارے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ آخری فلسطینی کے مرنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔
وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں تاریخ کی بد ترین دہشت گردی ہو رہی ہے۔ شہدا کی تعداد بائیس سے تجاوز کر گئی ہے۔ سو سے زائد لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ڈائریکٹ گولیاں ماری گئیں اور بہت سے لوگوں کوپیلٹ گن سے شدید زخمی کر دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ پیلٹ گن کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ بھی ثبوت ملے کہ انڈیا نے اسرائیل سے کیمیائی ہتھیار درآمد کرکے نہتے کشمیریوں پر استعمال کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ انتہائی مہلک ہتھیاروں کی درآمد کے معائدے کیے ہیں جو صرف اور صرف انڈین مسلمانوں اور انڈین مقبوضہ کشمیروں پر استعمال ہوں گے اور ہو بھی رہے ہیں۔ آسیہ انداربی نے کشمیریوں کے خلاف روا رکھے ہوئے ظلم و ستم کے وہ آنکھوں دیکھے منظر بتائے ہیں جن کو سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مشعال ملک نے بھی لیڈرشپ کے بارے میں مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ نجانے ان لیڈروں کو کہاں کہاں نظر بند کر کے رکھا گیا ہے۔ آیا وہ زندہ بھی یا نہیں۔ انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ شاید کشمیریوں کی بساط لپیٹنے جا رہے ہیں۔ زندگی جامد کر دی گئی ہے۔
ترکی کے سربراہ طیب اردگان وہ واحد شخص ہیں جو فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ بڑا ٹھوس ردعمل بھی دیتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کو انتہائی بزدل شخص کہا ہے ۔ باقی مسلم امہ خاموش ہے۔ کیونکہ ابھی ان کی باری نہیں آئی۔ 41 ملکی اتحاد کہیں قومے میں چلا گیا ہے۔ مودی کا یارانہ عربوں کے سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ جس کا عکس دبئی کے سیکورٹی سر براہ کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ اس نے تمام عرب ملکوں کو حکم دیا ہے کہ آئندہ کسی بھی پاکستانی کو اپنے ہاں ملازمت نہ دیں۔ اتنا غصہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ عرب بھی چاہتا ہے کہ پاکستان ایک رعایا ملک کے طور پر ان کے آگے آداب بجا لائے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ ایک تھنڈر ایف 17 چلاجائے پھر زمیں کی تہیں کرید کرید کر ان کے نشانات ڈھونڈنے پڑیں گے جو پھر بھی نہیں ملیں گے۔ رویے دیکھو ان کے۔ پوری عرب امہ مودی کے ملک کا اقتصادی بائیکاٹ کر دیں تو اس بنئیے ملک کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ ایسا کون کرے گا۔ وہ دل و جان نچھاور کیے بیٹھے ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ مودی کے استقبال کے لیے عربی اور ایرانی حکمران عورتوں سمیت ائیرپورٹ پر براجمان تھے۔ کہاں گیا اقبال کا وہ خیال۔۔۔۔۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
پاکستان کہاں کھڑا ہے جسے ایک ذی شعور انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔ رہی بات کشمیر کی، وہ تو کشمیریوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ روئیں ، چیخیں، گولی کھائیں، ان کی بلا سے۔ یہ امریکہ سے صرف ایک ہمدردی (این آر او) لے سکتے ہیں۔ کشمیریوں کے لیے اس لیے بھی زیادہ آواز بلند نہیں کرتے کہیں موذی (مودی)ناراض نہ ہو جائے۔ ایک ایسے شخص کو وزیر خارجہ بنایا ہے جس کا کہا سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔صرف بیان بازی کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اگر کوئی اس کے بیان کی باز پر س کرے گا بھی تو کہہ دیں گے،جی کیا کریں وہ تو بس۔ کسی عقل مند کو بیان دیتے دیکھا ہے آپ نے؟مولانا فضل الرحمان کو دیکھ لیں کبھی ایسی حماقت کی انہوں نے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کام کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجا گر کرنا ہوتا ہے۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ مولانا صاحب دو تین میٹنگز کر کے کروڑوں کا ناس کر گئے، رزلٹ ندارد۔ صرف آرمی چیف نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے انڈیا کو خبردار کیا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اب بھی وقت ہے تمام سیاسی جماعتیں اور تمام مکتب فکر کے لوگ ون پوائینٹ ایجنڈا پر متفق ہو کے آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو پوری امہ کے سامنے رکھیں۔
اقوام متحدہ جو امریکہ کی باندی کے طور پر جانا جاتا ہے، خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔ نان مسلم کو کوئی چیونٹی بھی کاٹ جائے تو اس کی جان پر بن آتی ہے۔ جبکہ مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو ماتھے پر بل تک نہیں پڑتا۔ یہ رہا اس کا دوہرا معیار۔ یہ اپنے آقاؤں کاترجمان ہے۔ جہاں آزادی کی جنگیں لڑی جارہی تھیں، انہیں دہشت گردی قرار دے دیا جیسے فلسطین ، کشمیر، چیچنیا وغیرہ۔ اس کے برعکس جہاں دہشت گردی کی جنگیں لڑی جارہی تھیں انہیں آزادی کی جنگیں قرار دے دیا۔ مثلا ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان وغیرہ۔ حال ہی میں میانمار میں اس کا کردار کھل کر سامنے آگیا۔ نہتے لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا تھا۔ دنیا چیخ اٹھی لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بنیادی طور پریہ اپنی پروردہ قوموں کا ترجمان ہے اور کچھ نہیں۔ مسلم امہ کو اپنے وسائل اپنے اوپر خرچ کرنا ہوں گے۔ ایک دوسرے کو اہمیت دینا ہوگی ورنہ نشان تک نہ ہوگا۔