منشیات فروشوں کے ظلم اور خاتون کے اغوا کیخلاف صدائے احتجاج بلند

16 اپریل 2018

حیدرآباد( نامہ نگار) حیدرآباد پریس کلب کے سامنے درجنوں افراد نے اپنے مسائل کے حل کے لئے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے دھرنے دئیے۔ جوہی کے گوٹھ چھنی کے رہائشی ا فراد نے بھت گیس فیلڈ تیل کمپنی سے برطرفی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پر خادم حسین قمبرانی نے بتایا کہ وہ گزشتہ 11 سالوں سے کمپنی میں بطورڈرائیور ایمانداری سے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم 8 ماہ قبل ا ن کو بلا جوازملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بحال کرکے ا نکے کنبے کوفاقہ کشی سے بچایا جائے۔ وحدت کالونی کچی آبادی کی ر ہائش خواتین نے مخالفین کی جانب سے دھمکیاں دئیے جانے کے خلاف منظور بیگم پٹھان کی قیادت میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پیر محلہ بھٹ شاہ کے مکینوں نے بااثر افراد کی جانب سے جبراً گھر خالی کرائے جانے کے خلاف رحم دل مگسی‘ حنیف رند‘ صالح ملوکانی اوردیگر کی قیادت میں احتجاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 40 سال سے مذکورہ محلے میں رہائش پذیرہیں جہاں سے وڈیرہ انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ سخی پیر تھانہ حیدرآباد کی حدود گاما محلہ کی خواتین نے پولیس اور منشیات فروشوں کے ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پرا لماس زبیری اور دیگرنے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں منشیات فروشوں اور انکی سرپرست سخی پیرپولیس کے ظلم سے بچایا جائے۔ جامشورو کے رہائشی سکندر خاصخیلی نے اپنی شادی شدہ بیٹی تسلیم زوجہ ظفراللہ خاصخیلی کی بازیابی کے لئے احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مغویہ کو بازیاب کرکے بااثر افراد کے ظلم سے بچایا جائے۔