محکمہ تعلیم کے نان سیلری بجٹ کے استعمال میں بے ضابطگیاں

16 اپریل 2018

فیروزوالہ (نامہ نگار)الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ترقیاتی کاموں کے فنڈز منجمدکرنے کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم میں سرکاری سکولوں میں ترقیاتی کام کروانے کی غرض سے جاری کیے جانے والے نان سیلری بجٹ کے استعمال میں ہونے والے سنگین نوعیت کی بدعنوانیوں اوربے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں جس میں متعلقہ سکولوں کے سربراہ سکول کونسل کے اراکین اورمحکمہ تعلیم کے افسروں کے علاوہ انٹرنل آڈٹ کے حکام ملوث بتائے گئے ہیں اس بارے میں تمام راز محکمہ تعلیم کے ہی ایک سینئرٹیچر سید شفیق الرحمن شاہ کی طرف سے گورنمنٹ ہائیرسکینڈری سکول خانپور میں انٹرنل آڈٹ کے خلاف دی جانے والی ایک درخواست میں کھولے گئے ہیں ذرائع نے بتایاہے کہ حکومت پنجاب نے ہرایلیمنٹری پرائمری ہائی اور ہائیر سکینڈری سکول کو400روپے فی طالب علم کے لحاظ سے دوسال کے دوران اربوں روپے کے فنڈز تقسیم کیے تھے مگرکئی سکولوں میں ان فنڈز کابڑاحصہ ملی بھگت سے خوردبرد کرلیاگیاہے۔