محکمہ آبپاشی ملازمین کی سروس بک کا پہلا صفحہ تبدیل کرکے کروڑوں کے فراڈ کا انکشاف

16 اپریل 2018

فیروزوالہ (نامہ نگار)محکمہ آبپاشی کے شعبہ سٹور اینڈ ورکشاپ ڈویژن میں ہزاروں ملازمین کی سروس بکوں کا پہلا صفحہ تبدیل کرکے کروڑوں روپے کے فراڈ کا انکشاف ہواہے جس میں سٹور اینڈ ورکشاپ ڈویژن کے سابق ایکسین طارق رئوف قریشی سلیم بھٹی متعدد ایس ڈی اوز ہیڈکلرک اکائونٹس کلرک اورسابقہ آڈیٹر ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسررانا سعید شامل بتائے گئے ہیں باخبر ذرائع نے بتایاہے کہ اس بارے میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کوبھی تحریری درخواست کے ذریعے آگاہ کردیاگیا ہے جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن شیخوپورہ نے بھی اس حیرت انگیز سکینڈل کی تحقیقات ہنگامی بنیادوں پرمکمل کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرلیاہے جس کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کوڈی جی اینٹی کرپشن کے ذریعے بھیجی جائے گی محکمہ اینٹی کرپشن کے ذرائع نے بتایاہے کہ سٹور اینڈ ورکشاپ ڈویژن کواب بھی ٹیوب ویلوں کی مرمت کے لیے سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ دیاجاتاہے حالانکہ سکارپ ٹیوب ویل طویل عرصہ قبل بندہوچکے ہیں اس محکمہ میں کرپٹ عناصر نے کرپشن کا ایک انوکھا طریقہ نکالا کہ ریٹائرڈ شدہ سینکڑوں ملازمین کی سروس بکوں کا پہلاصفحہ تبدیل کرکے وہاں پرنئے ملازم کا نام لکھ کر سروس بکس اگلے صفحات میں اس کی سروس ظاہر کردی اوراسے بھی چندروز کے بعدمحکمہ اکائونٹس کے ایڈیٹر کی ملی بھگت سے ریٹائرڈ منٹ پربھیج دیاجس کے لیے رشوت کاتناسب ففٹی ففٹی طے ہوتاتھا اوراسی طرح جعلی ناموں کے ان کیش منٹ اور انکریمنٹ بل بھی تیار کرکے سرکاری خزانے کوکروڑوں روپے کاٹیکہ لگایاگیاہے ان ذرائع نے بتایاہے کہ دوتااڑھائی سوملازمین کی تنخواہوں اورکیش بکوں وغیرہ کوجعلسازی سے تیار کرکے ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس بھیج دیاجاتا جہاں ملی بھگت سے ان کے کمپیوٹرائزڈ بل تیارکیے جاتے جس کاریٹ مبینہ طورپر 50فیصد تھااور جس شخص کی 25سالہ سروس کی جعلی سروس بک تیار کی جاتی اس سے 3لاکھ روپے فی کس کے لحاظ سے رشوت لی جاتی اور اس کے بل بھی سابقہ تاریخوں میں تیار کیے جاتے تھے۔