سیاسی فلم کا شرطیہ نیا پرنٹ .... تکمیل کے آخری مراحل میں

16 اپریل 2018

”صحافت“ کی آڑ میں ٹی وی سکرینوں پر ٹاک شوز کے عنوان سے رونق لگانے والے مجھ ایسے کلاکار بھی عجیب لوگ ہیں۔ کہانی بہت ہی بنیادی اور سادہ ہوتی ہے۔ ہم مگر اس کا ہر موڑ ڈرامائی بنانے کو ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کو تاحیات قرار دینے کے فیصلے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی ہورہا ہے۔
یہ حقیقت نجانے ہمیں کیوں یاد نہیں رہی کہ گزشتہ برس کی 28جولائی کے روز نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب ہی نہیں کسی بھی پارلیمان کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دینے سے قبل سپریم کورٹ نے ہماری ریاست کے6دائمی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک JITترتیب دی تھی۔ اس JITنے اقامہ دریافت کیا۔ اس کی بنیاد پر نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہوئے۔ ان دنوں احتساب عدالت کی پیشیا ں بھگت رہے ہیں۔ اس عدالت سے بھی نوازشریف کا سزا پانا اٹل ہے۔ کیونکہ ریاست کے دائمی اداروں کی ساکھ ہوا کرتی ہے۔ وہ کسی سیاست دان کو جھوٹا،خائن اور بددیانت ثابت کرنے کو ڈٹ جائیں تو ان کی جانب سے اس ضمن میں جمع کئے مواد کو جھوٹا ثابت کرناناممکن بنادیا جاتا ہے۔
محکمہ بحالیات،امپورٹ اور ٹرانسپورٹ روٹس پرمٹس، پٹرول پمپوں اور زمینوں کی الاٹمنٹ اور بینک قرضوں کی معافی تلافی کی برکتوں سے پھلتے پھولتے وطنِ عزیز میں کرپشن روزمرہّ ہے۔ ہم میں سے ذہین ترین افراد اپنے دن کا بیشترحصہ نہایت مہارت سے اس کی پریکٹس میں گزارتے ہیں۔ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ”چور“ اگرچہ وہ ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور ہمارے دائمی ادارے کرپشن کے حوالے سے ”پکڑنے“ کے لئے Pick and Chooseسے کام لیتے ہیں۔
اہم ترین سوال میرے شک بھرے ذہن میں ہمیشہ یہ رہا کہ ایک مخصوص دور میں محض فلاں سیاست دان کو پکڑکر دائمی اداروں نے ”چور“ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی۔
سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ وہ جسے ”عبرت کا نشان“ بنانے کا عہد کرلیا گیا ہوتا ہے اسی کے ساتھ ہی بالآخرPlea Bargainیا NROبھی کیوں ہوتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا ضروری ہے۔ برسوں کے مشاہدے اور مشقت کے بعد چند جواب میں نے تلاش کرلئے تھے۔ ”آزاد اور بے باک صحافت“کے اس موسم میں لیکن انہیں بیان کرنے کی ہمت نہیں۔ یہ اعتراف کرنے میں البتہ کوئی حرج نہیں کہ گزرے جمعہ کے روز تاحیات نااہلی کا جو فیصلہ آیا ہے اس نے مجھے ہرگز حیران نہیں کیا۔
مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان کے دور دراز قصبات میں بیٹھے بظاہر کسی اَن پڑھ شخص کو بھی جو ہمیشہ سے نواز شریف کو ووٹ دیتا رہا ہے ”تاحیات“ کے علاوہ کسی اور فیصلے کی امید ہی نہیں تھی۔ ”خیر“ کی خبر سننے کو درحقیقت وہ نام نہاد Electablesبے چین تھے جو آئندہ انتخابات نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کی ٹکٹ پر لڑنا چاہ رہے تھے۔ ”تاحیات“ والے فیصلے کے بعد انہیں ”اداروں کو اشتعال دلانے والے“ نواز شریف سے دور ہونے کا ٹھوس جواز مل جائے گا۔ نواز شریف کی مشکلات کو آسان بنانے کے بجائے وہ ”اپنی نبیڑنے“ میں مصروف ہوجائیں گے۔ بنی گالہ اب ان کی امیدوں کا مرکز ہوگا۔
پنجاب کے تقریباََ ہر حلقے کے لئے مگر تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے اپنے امیدوار تقریباََ فائنل کرلئے ہیں۔ اب صرف 40کے قریب نئے لوگوں کو بہت مشکل سے Adjustکیا جاسکتا ہے۔ نواز شریف سے کئی برسوں تک جڑے رہنے والے بہت سےElectablesلہذا ”آزاد“ امیدوار کے طورپر اپنے ”آبائی حلقوں“ سے الیکشن لڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ہانپتے کانپتے قومی اسمبلی پہنچ گئے تو جیتی ہوئی جماعت میں شامل ہوکر ”جمہوری نظام“ کو ”مضبوط تر“ کرنے میں مصروف ہوجائیں گے۔
شہباز شریف کے لئے اب ایسے لوگوںکو اپنی چھتری تلے لے کر پراعتماد بنانا ممکن نہیں رہا۔Pragmaticسیاست کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے دوست چودھری نثار علی خان کو فی الفور پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا امیدار Declareکردیں۔ خود کو ”برادر یوسف“ کہلوانا مگر وہ پسند نہیں کریں گے۔ دوکشتیوں میں بیک وقت سوار ہونے کی کوشش میں بلکہ مزید کمزور ہوجائیں گے۔ نواز شریف کے نام کے ساتھ جڑے رہتے ہوئے انتخابی سیاست میں ڈٹے رہنے کے لئے تاحیات والے فیصلے کے بعد تھوڑی دیوانگی درکار ہے۔ ہمارے سیاست دان دیوانے تو ہیں مگر بکارِ خویش ہوشیار اور یہ کہنے کے بعد اس ضمن میں مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ آئندہ انتخابا ت میں کامیاب ہونے کے لئے عمران خان اور تحریک انصاف کو انتہائی Favorableپچ میسر ہوگئی ہے۔
1997میں ایسی ہی پچ نواز شریف کے لئے صدر لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے مل کر تیار کی تھی۔ نواز شریف نے اس پچ سے ہیوی مینڈیٹ حاصل کرلیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جماعت سندھ سے قومی اسمبلی کی 18نشستیں لے کر اس صوبے تک محدود ہوگئی اور وہاں بھی اسے صوبائی حکومت بنانے کی اجازت نہ ملی۔ دیکھنا ہوگا کہ عمران خان آئندہ انتخابات کے لئے تیار ہوئی پچ سے اپنی جماعت کے لئے بھاری اکثریت حاصل کرپائیں گے یا نہیں۔
مجھے اگرچہ خدشہ ہے کہ نواز شریف کی بدولت جمع ہوئے تجربات کی بدولت ہماری ریاست کے دائمی اداروں کو ”ہیوی مینڈیٹ“ والوں سے چڑ ہونا شروع ہوگئی ہے۔ ”صوبہ جنوبی پنجاب محاذ“ اور کراچی میں مصطفےٰ کمال کی کھولی ہٹی کی نموداری اور رونق درحقیقت ہیوی مینڈیٹ کے خلاف پیش بندی کی کاوشیں ہیں۔ ”ایک زرداری“ اسی خاطر ایک بار پھر ”سب پہ بھاری“ بھی نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ Hungپارلیمان سیاسی انجینئرنگ کی ماہر قوتوں کی واضح ترجیح ہے۔ اس کے حصول کی کوششیں ٹی وی سکرینوں کی رونق کو یقینی بنائیں گی۔ اس ملک میںبرسوں سے چلائی سیاسی فلم کا شرطیہ نیا پرنٹ اب اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کا انتظار کئے لیتے ہیں۔