عرب ممالک میں ایرانی مداخلت مسترد، دہشتگردانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں : شاہ سلمان

16 اپریل 2018

دہران(بی بی سی + اے ایف پی+امیر محمد خان ) سعودی عرب کے شاہ سلمان نے عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں اگرچہ شام پر امریکی اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن ایران پر خطے میں ’مداخلت‘ کا الزام عائد کیا ہے۔عرب لیگ کا یہ اجلاس امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر میزائل حملوں کے اگلے روز شروع ہوا ہے۔ یاد رہے کہ عرب لیگ نے شام کی رکنیت سات سال قبل منسوخ کر دی تھی۔افتتاحی تقریب سے خطاب میں شاہ سلمان نے زیادہ وقت ایران پر تنقید کرنے پر صرف کیا۔انھوں نے کہا ’ہم ایران کی جانب سے عرب خطے میں دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور ایران کی عرب ممالک کے امور میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ اگرچہ شاہ سلمان نے شام پر مغربی ممالک کے اتحاد کی جانب سے حملے کا ذکر نہیں کیا تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں شاہ سلمان نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا ’ہم ایک بار پھر بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ مشرقی بیت المقدس فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے۔اس کے علاوہ شاہ سلمان نے مشرقی بیت المقدس میں اسلامی ورثے کی بحالی کے لیے 150 ملین ڈالر عطیے کا اعلان کیا۔سعودی عرب بیت المقدس میں اسلامی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے 150 ملین ڈالر کا اعلان کرتا ہے۔شاہ سلمان نے کہا بیت المقدس ہمیشہ فلسطین کا حصہ ہے اور رہے گا۔ افتتاحیی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سعودی بادشاہ نے یمن میں حوثی ملیشیا کی ایرانی حمایت و تعاون پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین کی جانب 116 میزائل داغے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ مملکت سعودی عرب ظہران میں بھائیوں کے اجلاس پر شکرگزار ہے۔ اس سربراہ اجلاس میں باہمی اتحاد اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مخلصانہ کوششیں کی جائیں گی۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں قطر بحران شامل نہیں ہو گا۔ عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ فلسطینی ایشو سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔ شرکاء میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، عراقی صدر فوادالمعصوم، لبنانی صدر میشل عون، سوڈانی صدر عمر حسن البشیر اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم شامل ہیں۔ ظہران میں آمد پر شاہ سلمان نے بہ نفس نفیس ان عرب قائدین کا استقبال کیا ہے۔ شاہ سلمان نے کہا کہ ’’ مسئلہ فلسطین ہمارا اوّلین ایشو ہے اور ہم اس کو ہمیشہ مقدم جانیں گے‘‘۔ انھوں نے عرب لیگ کے اس سربراہ اجلاس کو ’’ القدس کانفرنس‘‘ سے موسوم کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں ہر کسی کو یہ باور کرایا جاسکے کہ فلسطین عرب عوام کے ضمیر میں جاگزیں ہے۔ یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ مشرقی القدس کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ فلسطینیوں کے لیے 20 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان بھی کیا۔ اس میں سے 5 کروڑ ڈالرز فلسطینی مہاجرین کی ذمے دار اقوام متحدہ کی ایجنسی اْنروا اور 15 کروڑ ڈالرز مقبوضہ القدس میں اسلامی وقف سپورٹ پروگرام کے لیے دیے جائیں گے۔ خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ کردار کے خلاف اقوام متحدہ کا ایک مضبوط مؤقف اپنانے کی ضرورت پر زوردیتے کہا کہ ایران کے اس کردار کی وجہ سے خطے میں بد امنی پھیل رہی ہے۔ انھوں نے عرب قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے ایک منصوبہ پیش کیا۔انھوں نے ایک عرب کلچرل سمٹ کے قیام کے لیے سمجھوتے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا عرب سربراہان ِمملکت وریاست کے شاندار استقبال اور ان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔