لودھراں‘ 6 کروڑ روپے سے بننے والے ماڈل بازار میں مبینہ کرپشن

16 اپریل 2018

لودھراں(خبر نگا ر ) ضلع لودھراں کمیشن اور قبضہ مافیا کے لیے جنت کی شکل اختیار کرگیا، جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے میگا پراجیکٹ دیئے گئے جن میں میگا کرپشن کے انکشافات پنجاب بھر کی طرح لودھراں میں تقریبا 6کروڑ سے بننے والے ماڈل بازار کی تعمیر اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ ماڈل بازار پرانے اور ناقص میٹریل سے بوسیدہ بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہے اور عوامی شکایات کے باوجود ارباب اختیار نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ گذشہ بارش میں ناقص میٹریل کی وجہ سے ماڈل بازار کی مشرقی دیوار گرنے کے باوجود ماڈل بازار کو اعلیٰ معیار کا خطاب دیکر افتتاح چند روز قبل کیا گیااور یہ کہا گیا کہ ماڈل بازار کی دکانوں کی قرعہ اندازی ماہ رمضان سے قبل کر دیا جائے گی جس پرشہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ان پرانی بنیادوں پر نئے ماڈل بازار کی تعمیر میں کرپشن اوراب قرعہ اندازی کی آڑ میں با اثر قبضہ مافیا اور اپنے پیاروں کو نوازنے کے لیے اس کی تشہیر نہیں کی گئی۔ محمد اشرف،محمد اکرم، رانا غفار، محمد شفیع،محمد رمضان بھٹی، شیخ لڈو وغیرہ نے چیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ پرانی بنیادوں پر نیا ماڈل بازار بناکر ٹھیکیدار کو مالی فائدہ دیا گیا اور اب قرعہ اندازی کی تشہیر نہ کرکے مخصوص افراد کو نوازنے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس اور میاں شہبا ز شریف فور ی نوٹس لیں اور ماڈل بازار کی قرعہ اندازی میں غریب اور بے روزگار لوگوں کوشامل کرانے کے لیے درخواستوں کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور میرٹ پر قرعہ اندازی کی جائے اس با ر ے میں جب چیئر مین ما ڈ ل با زا ر ا فضل کھو کھر سے را بطہ کیا گیا تو ا نہو ں نے کہا کہ دو ہز ا ر ا فرا د نے در خو ا ستیں جمع کر ا ئی ہیںجن کو قر عہ ا ند ا ز ی کر کے د کا نیں ا لا ٹ کی جا ئیں گی اراور جب ا ن سے د یو ا ر گر نے کے با ر ے میں سو ا ل کیا گیا تو ا نہو ں نے کہا کہ میر ے علم میں نہیں ہے۔