رحیم یار خان کے سیاستدانوں نے اہم مواقع پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا ’’اعزاز‘‘ برقرار رکھا

16 اپریل 2018

رحیم یار خان(احسان الحق سے) رحیم یار خان کے سیاستدانوں نے ملکی سیاسی تاریخ کے اہم ترین مواقعوں پر اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا ’’اعزاز‘‘ ایک بار پھر برقرار رکھا ۔1989ء میں اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے وقت ملکی تاریخ میں پہلی بار جن دو سیاستدانوں نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے میں اپنا نام پہلی بار ’’سنہری‘‘ حروف میں درج کروایا ان دونوں ایم این ایز مخدوم سید احمد عالم انور اور رئیس شبیر احمد کا تعلق بھی رحیم یار خان سے تھا ۔ اس کے بعد 2003ء میں جب مرکز اورصوبوں میں مسلم لیگ ق کی حکومتیں قائم ہوئیں تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے درمیان جاری انتہائی اہم سیاسی جنگ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہونے والے چوہدری ظفر اقبال وڑائچ جن کا تعلق رحیم یار خان سے ہے انہوں نے بہاولپور سے پی پی پی کے ٹکٹ پرہی منتخب ہونے والے طارق بشیر چیمہ کے ہمراہ مل کر اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفا دے کر ق لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اس اہم موقع پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بڑا سیاسی نقصان پہنچایا تھا اور اب چند روز قبل جب ن لیگ سے تعلق رکھنے والے بعض سیاستدان پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر رہے تھے اور مسلم لیگ ن انتہائی سخت وقت سے گزر رہی تھی تو اس اہم موقع پر بھی رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ن لیگی ایم این اے مخدوم خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب کے 6 ایم این ایز اور 2 ایم پی ایز کے ہمراہ اپنی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہو کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے اپنا نیا سیاسی سفر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔