9واں قومی کتب میلہ

16 اپریل 2018

نیشنل بک فائونڈیشن کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہر سال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ’’ قومی کتب میلہ‘‘ لگاتی ہے۔ اب کی بار بھی پاک چائنہ فرینڈشپ سنٹر میں 9 واں قومی کتب میلہ لگا جو چار روز تک جاری رہا۔ اس میں 3 لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد نے ریکارڈ شرکت کی جس میں 133 بک سٹال شائقین کتب کی توجہ کا باعث بنے۔ رعائتی نرخوں پر دو کروڑ روپے کی کتب فروخت ہوئیں۔ صرف نیشنل بک فائونڈیشن کے سٹال سے ہی 4 لاکھ 20 ہزار کی کتب فروخت کی گئیں۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے ہٹ کر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل بک فائونڈیشن نے ایک کامیاب قومی کتب میلہ منعقد کیا۔ چار روز تک پاک چائنہ فرینڈشپ سنٹر میں کتب کے شائقین کا بے پناہ ہجوم اپنی پسندیدہ تصانیف کو خریدنے کیلئے متلاشی نظر آیا۔ پورے پاکستان اور بیرون ملک سے بلائے ہوئے 117سفیران کتب نے مختلف پروگراموں میں حصہ لیا جبکہ بزرگوں اور بچوں کے لئے 80 پروگرام پیش کیے گئے جن میں داستان گوئی کو نمایاں توجہ حاصل ہوئی۔ پچھلے ایک سال کے دوران نیشنل بک فائونڈیشن کے مختلف شہروں میں سٹالز پر 33 کروڑ 54 لاکھ سے زائد روپے کی کتب فروخت ہوئیں۔ میلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ میلے میں آنے والے 38 خوش نصیبوں کو قرعہ اندزی کے ذریعے دو ہزار فی کس کے حساب سے 76 ہزار روپے کی کتب دی گئیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے یوں تو کئی چیئرمین رہے ہیں لیکن ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے جب سے اس کا چارج سنبھالا ہے تب سے انھوں نے نیشنل بک فائونڈیشن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ایف سیون مرکز اسلام آباد میں دو سال قبل اپنی نوعیت کا پہلا منفرد ’’شہرِ کتب‘‘ قائم کیا گیا جو اب 30 بک سٹال پر مشتمل ہے جس میں حال ہی میں ’’ریڈنگ روم‘‘ اور ’’کتب کیفے‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ 2009 سے 2013 تک تعطل کا شکار ریڈرز کلب کی بحالی بھی ممکن ہوئی جن کی رقم تین کروڑ سے بڑھا کر ساڑھے تین کروڑ کر دی گئی ہے جو آئندہ مالی سال میں پانچ کروڑ ہو جائے گی۔ اس سکیم کے تحت پچاس فیصد سے پچپن فیصد رعائیت پر کتب خریدنے والوں کی خریداری کی حد پانچ ہزار سے بڑھا کر چھ ہزار کر دی گئی ہے۔ اس وقت اس کلب کے تیس ہزار ممبر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیشنل بک فائونڈیشن قائداعظم اور علامہ اقبال اور تحریک پاکستان پر اردو انگیزی یا کسی بھی زبان میں چھپنے والی کتب پر مصنفین کو 2017-18 چار لاکھ ستر ہزار روپے کے انعامات دے چکا ہے۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوا جب نیشنل بک فائونڈیشن نئی قائم کردہ وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے تحت آیا جس کا قلمدان ملک کے سینئر صحافی و ادیب عرفان صدیقی کے پاس ہے جن کی ذاتی دلچسپی سے نہ صرف وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے تحت بارہ شعبے آ گئے اور دنوں میں اسے ملک کی موثر ترین وزارتوں میں شمار کیا جانے لگا۔ نیشنل بک فائونڈیشن کا کتب بینی اور عادات مطالعہ کے فروغ سمیت مفید و معیاری معلوماتی اور کم قیمت ادبی و نصابی کتب کی اشاعت کے بنیادی مقاصد کے حصول کا سفر تقریباً چالیس برسوں پر محیط ہے لیکن گذشتہ چار برسوں میں نیشنل بک فائونڈیشن نے ’’ امن انقلاب بذریعہ کتاب ‘‘ کے پیغام کو معاشرے کے مختلف طبقات میں فروغ دیا۔ نیشنل بک میوزیم کا قیام کا کریڈٹ بھی موجودہ چیئرمین ڈاکٹر انعام الحق کو جاتا ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر پروفیسر زاہد بٹ سے اس میوزیم کے لئے سونے کے پانی اور جواہرت سے ہاتھ کے لکھے قرآن پاک کے تیئس قدیم ،قیمتی اور نایاب نسخے و دیگر قدیمی مخطوطے حاصل کیے جن کا اصل ہدیہ تقریباً دس ملین بنتا ہے۔ ’’مائی بک شیلف‘‘ (جہاں سے لوگ روزانہ اپنی پسند کی کتب مفت لے جاتے اور رکھ بھی جاتے ہیں)، ’’وال آف آٹو گرام‘‘ ، مختلف سفارت خانوں کے مالی تعاون سے قائم کیے گئے نظامی گنجوی ، حافظ شیرازی ، کیموس ، ابن خلدون کارنرز اور ’’کوچہِ کتاب‘‘ میں کئی آرک (کتاب محراب) بنوائے گئے۔ نیشنل بک پارک، یک سنگی کتاب (ایک پتھر سے بنی 6 ٹن وزنی کتاب)، بک وال کلاک، وال آف آنر، ’’شہر کتاب‘‘ اور کئی دوسرے منصوبوں کا آغاز بھی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے دور میں ہوا۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد نیشنل بک فائونڈیشن بطور ’’فیڈرل ایکس بک بورڈ‘‘ اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھا رہا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق بارہویں جماعت تک کی درسی کتب نئے گیٹ اپ کے ساتھ فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کے سکولوں کارلجز میں فراہم کیا جا رہی ہے۔ اب تو ملک کی بڑی جیلوں میں بھی ’’فری مائنڈ پرزنرز بک کلب‘‘ قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں قیدی مفت کتب بینی کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد آفس میں ’’فراغت و کتاب و گوشہِ چمنِ ‘‘ کے تحت پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ایک خوبصورت بک پارک بنایا گیا ہے جو ایک ایسا گوشہ عافیت ہے جہاں سکون و انہماک سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ صدرمملکت نے مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کے ہمراہ کتاب پرچم کشائی کرکے چار روزہ میلے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر بچوں نے ’’کتابوں کی دنیا سلامت رہے‘‘ کا ترانہ بھی پیش کیا۔ صدرمملکت نے مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی، چین، ترکی اور ایران کے سفراء کے ہمراہ کتابوں کے سٹالز کا افتتاح کیا اور مختلف سٹالز کا معائینہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے جہاں کتب بینی کی اہمیت پر اظہار خیال کیا وہاں انھوں نے مظلوم و نہتے کشمیریوں کو بھی یاد رکھا جو مسلسل بھارت کی بربریت کا شکار ہو رہے ہیں۔ صدرمملکت نے بھارتی قابض افواج کی جانب سے نہتے مظلوم کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار اداکرے۔ انھوں نے پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔انھوں نے کہا کہ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم نہ بنانے سے ملک کا جوہر قابل غربت کے اندھیروں میں ڈوب گیااورکتاب سے دوری نے عالمی سطح پر بے چینی اور خونریزی کا راستہ کھولا ہے۔ علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو قومی زبان سے وابستہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی کتاب کا تعلق انسان سے جوڑ دیا ہے جو انسانی ذہن میں جنم لینے والے افکار و خیالات کی تہذیب کرکے نئی دنیاوں کی تخلیق کا ذریعہ بنتا ہے۔ کتاب اور انسان کے تعلق کا نکتہ عروج کتابِ ہدایت یعنی قرآن حکیم ہے جس نے افکار و خیالات اور تہذیبی کم مائیگی میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو منزل کا پتہ دیا ، یوں انسانیت تہذیب کی بلندیوں پر جا پہنچی۔نیشنل بک فائونڈیشن میں متعدد کتب کی تقاریب منعقد ہوئی جن میں نظریہ پاکستان فورم کے زیر اہتمام ’’قائداعظم کتابوں کے آئینے میں‘‘ تقریب غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی نظریہ پاکستان فورم کی تقریب کے روحِ رواں ظفر بختاوری نے کہا کہ قائداعظم پر اب تک 500 کتب لکھی جا چکی ہیں۔ 1913 میں ایک وکیل ’’گلاب دین‘‘ نے پہلی کتاب لکھی جس میں قائداعظم محمد علی جناح کے ’’ایمپئریل لیسجسلیٹیو کونسل‘‘ میں حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کو قلمبند کیا ہے۔ 1915 میں ’’بلبلِ ہند‘‘ سلوجنی نائیڈو نے قائداعظم کی شخصیت کا اعادہ کیا۔ عالمی شہرت کے حامل مصنف ’’والٹ سٹینلے‘‘ نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ دنیا مین بہت سے لوگوں نے تاریخ کا رخ متعین کیا ہے جبکہ کچھ نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا اور کچھ نئی ریاست کا قیام عمل میں لائے ۔ قائداعظم کو یہ تینوں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وجے لکشمی پنڈت نے اپنی کتاب میں لکھا کہ مسلم لیگ کے پاس سو جواہر لعل نہرو ہوں اور دو سو ابو الکلام آزاد ہوتے، اور ہمارے پاس (کانگرس) صرف ایک قائداعظم محمد علی جناح ہوتا تو برصغیر تقسیم نہ ہوتا۔ وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے میلے کے اختتام پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سینئر اخبار نویسیوں کے ساتھ ایک نشست میں انکشاف کیا ہے کہ وہ نواز شریف حکومت کے عروج و زوال پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں جو جلد منظر عام پر آئے گی اور یہ کتاب تہلکہ خیز ہو گی تاہم انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی تشکیل کے بعد ملک میں علمی وادبی اداروں میں اصلاحات کی گئیں اور ٹھوس اقدامات کے نتیجے میں قلیل ترین مدت میں بارہ قومی ادارے متحرک اور فعال بنادئیے گئے جس سے ملک میں علمی وادبی سرگرمیوں کو فروغ ملا ۔ بابائے قوم کے مزارکے احاطے میں پاکستان پارک کے نام سے جدید ترین ویژوئیل پارک تعمیرکررہے ہیں۔ اسلام آباد میں عالمی معیار کے قومی میوزیم کی تعمیر کے لئے پی سی ون پر کام شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی خطاطی نمائشوں کا اہتمام کیاگیا۔ پاکستان میں پہلی بار سرکاری سطح پر خطاطی کے شعبے کا قیام عمل میں لایاگیا۔ 23 سے 28 فروری2018کو پہلی بار خطاطی کے مقابلے منعقد کرائے گئے جس میں ملک کے دور افتادہ علاقوں کے عام افراد نے بہترین خطاطی کے شہہ پارے تخلیق کئے۔ پینتالیس برس بعد مزارقائد پر نئے طلائی فانوس کی تنصیب کی گئی۔ دوست ملک چین نے بائیس کروڑ روپے کی لاگت سے یہ فانوس تیار کرکے تحفے میں دیا ہے۔ اس فانوس کی تنصیب سے بے حد سکون ملا ہے۔ سکھ یاتریوں کی طرز پر بدھ مت یاتریوں کی اپنے مذہبی مقامات پر آنے کی روایت بھی شروع کی گئی۔ پہلی بار2016ء سے بدھ مت یاتریوں کے لیے ویساکھ (Vesakh)میلوں کا باضابطہ آغازکیا گیا۔ اسلام آباد میں 3.24ایکٹر حلقہ اراضی پر عظیم قومی میوزیم کی تعمیر کے لیے ضروری اقدامات اورڈیزائن کی تیاری کا آغازہوچکا ہے۔ لوک ورثہ سے ملحقہ مقام پر عالمی معیار کا یہ عجائب گھر تعمیر ہوگا۔ ان کے ڈویژن کی زیرنگرانی کاوشوں سے وفاقی دارالحکومت میں آثارِ قدیمہ کے دو نئے مقامات کی دریافت بھی ہوئی اور آٹھ تاریخی مقامات کی یونیسکو کی ’’ورلڈ ہیری ٹیج سائیٹس‘‘ کی امکانی فہرست میں شامل کرلیاگیا۔عرفان صدیقی نے کہاکہ 22جلدوں پر مشتمل قومی اُردُو لُغت کی کمپیوٹرائزیشن اور موبائل فون پر دستیابی ایک بڑا سنگ میل ہے۔ اب صوتی تلفظ کے ساتھ اردو لغت کی دستیابی کے منصوبے کا آغازکردیاگیا ہے اور جلد کمپیوٹر پر کسی بھی اردو لفظ کا تلفظ جانا جاسکے گا۔