مذہبی مقامات پر حاضری ، بھارت 1974 ء کے معاہدے پر عملدرآمد کرے : پاکستان

16 اپریل 2018

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو گوردوارہ پنجہ صاحب میں سکھ یاتریوں کے ساتھ ملاقات سے روکے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ باباجی گرونانک کے بارے میں ایک فلم کی ریلیز پرسکھوں کے مجروح جذبات کے باعث ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے کے اندیشہ لاحق ہو گیا تھا جس پر متروکہ وقف املاک بورد نے بھارت کے ہائی کمیشن کو مطلع کرتے ہوئے اور ان سے مشاورت کے ساتھ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ اس اقدام پر یہاں بھارت کے ہائی کمیشن اور نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ نے یہ معاملہ اٹھایا جس پر انہیں صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا۔ اتوار کی شام دفتر خارجہ کے پریس ریلیز میں اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کی وزارت خارجہ نے اس معاملہ میں حقائق کو مکمل طور پر تروڑ مروڑ کر اور غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ حقائق یہ ہیں کہ سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ نے از خود بھارتی ہائی کمشنر کو بیساکھی اور خالصہ جنم دن کی تقریبات میں مدعو کیا گیا تھا جو چودہ اپریل کو گرودوارہ پنجہ صاحب میں منعقد کی گئیں۔ وزارت خارجہ نے اس ضمن میں مکمل سہولیات فراہم کرتے ہوئے تیرہ اپریل کو ضابطہ کی کاروائی مکمل کر کے بھارتی ہائی کمشنر کو سفر کی اجازت دے دی تھی تاہم مرکزی تقریب کے دوران متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں میں جذبات مجروح دیکھے جو بھارت میں بابا گرونانک دیو جی کے حوالے سے کسی فلم کے اجراء پر احتجاج کر رہے تھے۔اس ماحول میں ممکنہ طور پر ناخوشگوار صورتحال کا اندیشہ محسوس کرتے ہوئے متروکہ وقف املاک بورڈ حکام نے بھارتی ہائی کمیشن کے حکام سے رابطہ کیا اور دورہ منسوخ کرنے کی تجویز دی۔ بھارتی ہائی کمیشن حکام نے صورتحال پر غور کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ کو یہ دورہ منسوخ کرنے پر رضامندی کا عندیہ دیا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کا عمل اخلاص اور نیک بیتی پر مبنی تھا اور دورے کی منسوخی باہمی اتفاق رائے سے کی گئی۔ اسی دن یعنی چودہ اپریل کو یہ معاملہ یہاں دفتر خارجہ اور نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے سامنے اٹھایا گیا اور اس پر احتجاج کیا گیا۔ اس کے جواب میں بھارت کو یہاں اور نئی دہلی میں تمام تر حقائق سے آگاہ کیا گیا اس کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ نے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ہے جو قابل افسوس ہے۔ قونصلر/پروٹوکول ٹیموں کے بارہ اور چودہ اپریل کے دوروں سے متعلق حقائق کو بھی تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزارت خارجہ کی مداخلت کے بعد جتھا کے واہگہ بارڈر پر پہنچنے کے موقع پر پروٹوکول ٹیموں کو رسائی کا معاملہ بھی فوری حل کرلیا گیا تھا۔ تاہم بھارتی ہائی کمیشن کے متعلقہ افسر نے اس حوالے سے آگاہ کئے جانے کے بعد کہ ضروری کلیئرنس دے دی گئی ہے، واپس نہ آنے کا انتخاب کیا۔ چودہ اپریل کو یاتریوں سے کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی تھی جبکہ اتوار پندرہ اپریل کو بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے گوردوارہ پنجہ صاحب کا دورہ کیا۔ہمیں اس پر سخت دکھ ہے کہ بھارت سکھ یاتریوں کے دوروں کے معاملہ میں تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور دوطرفہ تعلقات کا ماحول خراب کر رہا ہے۔ ۔یہ ہماری مذہبی روایات اور مہمان نوازی کا حصہ ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان پر انیس سو چوہتر کے مذہبی مقامات کے دوروں کے معاہدہ کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہی ہے جبکہ یہ بھارتی حکومت ہی ہے جو اس معاہدے کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے سال رواں میں دو مرتبہ پاکستانی زائرین کو حضرت نظام الدین اولیا اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے عرس میں شرکت کے لئے ویزے دینے سے انکار کرچکی ہے جبکہ جون دو ہزار سترہ سے تین مرتبہ ہندو اور سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کرچکی ہے۔