جنوبی پنجاب صوبہ محاذ رہنمائوں سے ملاقات‘ صوبہ ناگزیر ہے: شاہ محمود

16 اپریل 2018

لاہور (خصوصی نامہ نگار) تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے جنوبی پنجاب صوبے پر توجہ نہیں دی ، پچھلی 10 سالہ دورحکومت میں جنوبی پنجاب کی عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا، پنجاب میں ، پورا پاکستان ایک ایک بوند پانی کو ترس رہا ہے، 11 کروڑ کے صوبے کو اکٹھا چلانا مشکل ہے ، اعجاز الاحسن کے گھر پرفائرنگ کی مذمت کرتاہوں ان قوتوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں تحریک انصاف عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ، عدلیہ نے انتہائی تاریخی فیصلے دیئے ہیں،جن میں پانامہ کا فیصلہ بھی ہے ، قوم نے ان کے فیصلوں کو سراہا ہے ،جنوبی پنجاب ساڑھے تین کروڑ افراد پر محیط ہے۔ جنوبی پنجاب کی 44 قومی اسمبلی کی سیٹیں ان کو ان کا حق ملنا چاہئے، ہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں جنوبی صوبے کا قیام انتہائی ناگزیر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کے ہمراہ کینٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ جنوبی پنجاب کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے ،بجا طور پر ذوالفقار علی بھٹو نے اربن اور رورل کوٹہ مقرر کیا، جنوبی پنجاب کے لوگوں کی حالت آپ کے سامنے ہے، جنوبی پنجاب پسماندہ ہے ، نارتھ سائوتھ کا بھی کوٹہ مقرر کیا جانا چاہئے تھا ، شہبازشریف دو دہائیوں سے پنجاب پر حکومت کررہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ہم نے آبادی سے زیادہ ان کو وسائل دیئے‘ وسائل مختص کرنے اور دینے میں فرق ہے، پورے ملتان کی مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے کہا ملتان کو میٹرونہیں ، صاف پانی ، سیوریج کا نظام چاہئے لیکن پنجاب کے حکمرانوں نے ان کی ایک نہ مانی اور میٹرو ان پر مسلط کر دی، جنوبی پنجاب کسی لاثانی بنیاد پر نہیں بننا چاہئے، میری پارٹی اور چیئرمین عمران خان سمجھتے ہیں جنوبی پنجاب کے عوام کا حق انہیںضرور ملنا چاہئے۔ شہبازشریف سے سوال کرنے آیا ہوں گورنر پنجاب کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کمیٹی نے جنوبی پنجاب کے متعلق رپورٹ تیار کرنی تھی وہ رپورٹ کہاں ہے اسے کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ میں نے جنوبی پنجاب کے ارکان کی گفتگو سنی ہے میں ان کی گفتگو سے مطمئن ہوں‘ میرا خیال ہے ان کا اصلی مقام تحریک انصا ف ہے ،پانامہ کے سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا شریف فیملی کے پاس اپنے دفاع اور موقف کے لئے کچھ نہیں تھا ، انہوں نے سیاسی طور پر زندہ رہنا ہے اور وہ کرتے رہیں، ہم کوئی کمیشن سے گھبراتے والے نہیں، کوئی بھی کمشن بن جائے ہمارے کیس کو تقویت ملے گی، چوہدری نثار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا چوہدر ی نثار کو کسی تیسرے سہارے کی ضرورت نہیں ان کی ڈائریکٹ چیئرمین عمران خان تک پہنچ ہے۔ سپریم کورٹ اس کی تشریح کر سکتی ہے ، سپریم کورٹ نے طویل بحث مباحثے کے بعد فیصلہ دیا ، 2013 ء دھاندلی والا الیکشن تھا ، اگر مسلم لیگ فیصلہ قبول نہ کیا گیا تو مسلم لیگ میں دراڑیں بڑھتے پڑتی رہیںگی۔ خسرو بختیار نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری آواز بلند کی، جنوبی پنجاب کا صوبہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کے لئے قرار داد جمع کرائیںگے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد نے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔